نقطہ نظر


اے اہل قلم تم کس کے ساتھ ہو؟

لکھنے والا اپنے ملک اور اپنے عوام کا وفادار ہوتا ہے اور وہ عوام کا دوست اور ان کا دانشور اور ان کا راہنما ہوتا ہے۔

ایک بے حیا عورت کا انصار عباسی کے نام فحش خط

یقین کیجئے اس خط میں کسی قسم کی فحاشی نہیں پائی جائے گی۔اس کے باوجود امید ہے آپ نہ صرف یہ خط پڑھنا جاری رکھیں گے بلکہ امید کامل ہے کہ خط کے اختتام تک آپ اس تحریر میں کوئی نہ کوئی فحش پہلو ضرور دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے میں نے احتیاطاََ اس کی سرخی میں فحاشی کا ذکر کر دیا۔

علی گیلانی کی سیاست نا قابل حمایت: ایک ترقی پسندانہ موقف

جماعت اسلامی اور سید علی شاہ گیلانی جیسے ان پراکسی کرداروں نے جموں کشمیر میں محض مذہبی اور علاقائی تعصبات اور تقسیم کی ہی بنیاد نہیں رکھی بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم کی بھی بنیادیں رکھیں اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو انڈر گراؤنڈ ہو کر زندگی گزارنے پر ہی مجبور نہیں کیا بلکہ حکومت پاکستان سے بھی وقتاً فوقتاً مطالبہ کیا جاتا رہا کہ سیکولر اور سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

افغانستان سالیڈیرٹی پارٹی: ’پراکسی جنگوں میں مزید تیزی آئے گی‘

ان حکومتوں کو افغانستان میں اپنی مداخلت بند کرنا ہو گی۔ علاوہ ازیں ان کو جنگی جرائم کے مرتکب افغان جنگی مجرموں اور شدت پسندوں کی حمایت ترک کرنا ہو گی۔ بین الاقوامی عدالت ِانصاف کو جنگی جرائم میں ملوث افغانوں کی گرفتاری کا حکم جاری کرنا چاہیے۔

بہادر ترین افغان خاتون: سودابا نے طالبان کے خلاف کابل میں پہلا مظاہرہ منعقد کیا

یہ صدارتی محل کے باہر منعقد ہوا۔ ہم طالب علموں کا ایک گروپ تھے، ہم بہت پریشان تھے، ہمارا فیصلہ اچانک تھا۔ کوئی پیشگی منصوبہ بند ی نہیں تھی۔ تمام مرد و خواتین طالبان سے خوفزدہ ہیں۔ وہ گھروں سے باہر قدم رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ہم (اس عمل کے ذریعے) اپنے حقوق مانگنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو اپنے حقوق مانگنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔

گیلا تیتر کے مطابق تو سب سے خونی لبرل یحییٰ خان ہونا چاہئے

ویسے جس طرح کی کردار نگاری چیلیں اور گیلے تیتر ظاہر جعفر کی کر رہے ہیں، اس کے مطابق وہ لبرل تو نہیں البتہ یوتھیا ضرور لگتا ہے۔ اگر اس نے پچھلے الیکشن میں ووٹ دیا تھا تو مجھے امید ہے پی ٹی آئی کو دیا ہو گا۔ ویسے گیلے تیتر یہ خبر کیوں نہیں لاتے کہ اس نے ووٹ کس پارٹی کو دیا تھا؟

شیخ رشید کے کہنے پر جیو نے نوکری سے نکالا، اب میری کردار کشی ہو رہی ہے: ارشاد قریشی

گزشتہ روز ’جدوجہد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ارشاد قریشی نہ نے صرف جیو انتظامیہ کے موقف کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا بلکہ فوت شدہ ساتھی کیمرہ مین کی اہلیہ کا ویڈیو بیان اور ایک آڈیو ریکارڈنگ کے علاوہ مالی ادائیگیوں سے متعلق رسیدیں اور اسٹامپ پیپر بھی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان پر بہتان لگایا جا رہا ہے۔