نقطہ نظر

دعاء زینب بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لبرل آرٹس کی سند حاصل کر رہی ہیں۔ وہ’مہود‘ اور’دی رپپو‘
(The Rapport) میں سب ایڈیٹرکے فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔


مذہب اور سائنس

گفتگو کے اختتامی کلمات میں پرویز ہود بھائی نے اس بات کو ایک دفعہ پھر دہرایا کہ سائنس مادی کائنات سے تعلق رکھتی ہے اور یہاں پر سب کچھ طبیعات کے قوانین کے تحت وجود میں آیا ہے جبکہ مادی کائنات میں کچھ بھی ناقابل وضاحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: انسان کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ دنیا کو سمجھ سکے۔

سویڈن: ’بایاں بازو نیٹو رکنیت کے خلاف ہے مگر یوکرین پر حملے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے‘

رواں سال جون کے آخر میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں فن لینڈ کے ہمراہ سویڈن بھی نیٹو رکنیت کیلئے درخواست جمع کروانا چاہتا ہے۔ تاہم سویڈن میں نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے رائے منقسم ہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے۔

انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پہلے سے موجود تھیں: نصیر الدین شاہ

بالی وڈ کے شہر ہ آفاق اداکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور تعصب کی بنیادیں پہلے سے موجود تھیں۔ آج چونکہ ان متعصبانہ رویوں کو سیاسی پشت پناہی حا صل ہے یہ اب معاشرے میں ابھر آئے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ قوم سے میری وفاداری پر آج جو سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہ پہلے سے موجود ہیں یا ایک نئی چیز ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بٹوارے کے دوران تشدد کی کہانیاں اب بھی سرحد کے دونوں جانب لوگوں کے دلوں میں موجود ہیں لیکن اب انہیں با ہر آنے کا موقع ملک گیا ہے۔

’حکومت سے امید نہ اپوزیشن سے، عمران کو ہٹانے کے لئے ناگزیر ہوا تو عدم اعتماد کروں گا‘

اپوزیشن نے ہی رابطہ کیا تھا۔ اپوزیشن کے اجلا س میں مجھے بلایا گیا تھا، لیکن میں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اپوزیشن کے لوگ میرے پاس آئے تھے۔ میں نے انہیں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ حکمرانوں کے مفادات کی لڑائی اپنی جگہ پر ہے، ہم ایسے لوگ نہیں ہیں۔ میں آپ لوگوں سے عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے کوئی توقع نہیں رکھتا، نہ ہمارے کوئی مفادات ہیں اور نہ کسی چیز کی لالچ ہے۔ ہم نے جو وقت گزارنا تھا، جیسا تیسا گزار لیا ہے۔ جب بھی موقع ملا میڈیا پر بھی آؤں گا اور عوام کے پاس بھی جاؤں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے، تب تک آواز اٹھاتا رہوں گا۔

کشمیر فائلز: انسانیت، تاریخ اور فن پر ہندتوا کی یلغار!

سرکاری سطح پر ایسی فلمیں بنا کر انکی سرکاری سطح پر تشہیراورترویج کی جا رہی ہے، جن میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو بیرونی ایجنٹ، حملہ آور، غیر مقامی قرار دیکر ہندو سماج کیلئے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کے خلاف ہونے والے فسادات اور قتل عام کو خاموش اور کئی جگہوں پر سرعام سرکاری سرپرستی فراہم کی جاتی ہے۔ اس سب کا مقصد قطعی طورپر ہندو مذہب کے ماننے والوں کو بہتر زندگی دینا نہیں ہے، بلکہ محنت کش طبقے کو تقسیم اورباہم دست و گریباں کر کے انکی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔

ہاں ہم لال خان ہیں!

کامریڈ لال خان نے ایک نظریہ بن کر کام کیا اس لیے ان کے جانے کے بعد ان کا کیا ہوا کام اور ان کی عمر بھر کی جدوجہد رائیگاں نہیں گئی۔

ڈیئر عنبر رحیم شمسی موازنہ اشرف غنی سے نہیں یحییٰ خان سے بنتا ہے

یہ موازنہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جب افغانستان کے سکولوں، ہسپتالوں، جنازوں، ٹیلی ویژن چینلوں، خاتون صحافیوں پر حملے ہو رہے تھے تو پاکستان میں کوئی پاکستانی یہ پلے کارڈ لے کر نہیں نکلا: آئی ایم اے پاکستانی، آئی ایم سوری، آئی ایم سوری کے ہم نے کوئٹہ شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک کو گھر داماد بنا کر رکھا ہوا ہے اور جب بھی خود کش دھماکے کی خبر کابل سے آتی ہے تو پاکستانی نیوز چینل فتح کے شادیانے بجاتے ہیں۔

احمقوں والی سامراج مخالفت پر ایک ’سوشلسٹ انقلابی‘ کو کھلا خط

اگلی بار اسکرین پر یوکرین کے شہریوں، بچوں، بوڑھوں، نوجوان مرد و خواتین کو خون میں لت پت، بے گھر اور ہجرت کرتا دیکھیں تو کیمپ ازم کی عینک اتار کر دیکھئے گا، شائد نظریاتی افاقہ ہو۔ آپ نے جو سیاسی پوزیشن لی ہے اس نے تو آپ سے آپ کی انسانیت تک چھین لی ہے۔ اگر کسی سوشلسٹ سے اس کی انسانیت ہی چھن جائے تو پھر اس میں اور ایک فاشسٹ میں کیا فرق؟