نقطہ نظر

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


گوادر دھرنے کے 18 دن: ’مولانا ہدایت اللہ کی قیادت کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے‘

جہاں تک بات مستقبل کی ہے تو اگر کچھ مطالبات منظور ہوجاتے ہیں تو پھر مولانا ہدایت الرحمان کی صورت میں ایک ایسا چہرہ مل جائے گا جو عوامی حمایت کے ساتھ نہ بھی منتخب ہو تب بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا اور وہ بلوچ قوم پرستوں کی نسبت زیادہ پسندیدہ بھی ہوگا۔ اس علاقے کا جو سیکولر چہرہ تھا وہ بھی فرقہ واریت اور مذہبی منافرتوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ ایک لمبے عرصے سے جو اس علاقے میں فرقہ وارانہ بنیادیں رکھنے کی کوشش مذہبی بنیادوں پر کی جا رہی تھی وہ اب عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے کی جانیوالی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آسانی سے رکھی جا سکیں گی۔

طلبہ یکجہتی مارچ نے امید کو جنم دیا ہے: مقدس جرال

انقلاب ایک دن کا پراسیس نہیں ہوتا۔ ملک کے کونے کونے سے اور دور دراز علاقوں سے لوگ ہمارے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ رابطے کرنے والے لوگ تنظیم میں آنا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ جدوجہد میں جڑنا چاہتے ہیں۔ یہ مارچ ایک ایونٹ نہیں بنتا جا رہا ہے بلکہ امید پیدا کر رہا ہے۔ پہلے مارچ کے انعقاد کے بعد ملکی سطح پر مطالبات زیر بحث آئے ہیں۔ اس مرتبہ بلوچستان سمیت دیگر علاقوں میں تعلیمی اداروں کے اندر فورسز کی موجودگی سے مطالبات کو مارچ کے مطالبات میں شامل کیا گیا تھا۔

مارکس کی چوتھی بیٹی کی کہانی

مارکس کی چوتھی بیٹی ایلینور مارکس عمر بھر سوشلسٹ نظریات پر قائم رہی۔ وہ ایک مترجم بھی تھی اور مزدوروں کی تنظیم سازی میں بھی اپنا کردار ادا کرتی رہی۔

زہرہ فونا سے ملا علی کردستانی تک

ان دنوں ملا علی کردستانی پاکستان کے دورے پر ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں دعوت پر بلایا تو بعض سیاسی شخصیات نے ان کے ساتھ فوٹو سیشن کئے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن سے ثابت کیا جا رہا ہے کہ ملا علی کردستانی دم درود سے گونگے بہرے لوگوں کا علاج کر دیتے ہیں۔ زہرہ فونا بھی ایسا ہی ایک کردار تھیں جو انڈونیشیا سے پاکستان آئیں۔ زہرہ فونہ بارے ایک مضمون تقریباً دس سال پہلے ہفت روزہ وئیو پوائنٹ میں شائع ہوئے۔ اس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مضمون نگار بصیر نوید معروف سیاسی کارکن ہیں۔ ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

جنرل رانی نہیں، میڈم رانی

نوے کی دہائی میں ’جرنل رانی‘ کے نام سے ایک فلم بنائی گئی۔ جب یہ فلم سنسر بورڈ کے پاس پہنچی تو سنسرشپ آف فلم رولز 1980ء کے رُول 6(i)کے تحت اس فلم کو نامناسب قرار دیدیا گیا۔

روس میں سوشلزم کی واپسی ہو رہی ہے

اسکول میں مجھے تاریخ سے متعلق کتابوں، جو زیادہ تر تاریخی ناول تھے اور کچھ سائنسی کتابوں کو پڑھنے میں مزہ آتا تھا۔ گو کہ یونیورسٹی کی سطح پر میں ریاضی کا طالب علم تھا مگر میرا فارغ وقت لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں میں گزرتا جہاں کہانیوں کی کتابیں پڑھتے پڑھتے میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے مارکس، لینن اور ٹراٹسکی پڑھنے کی ضرورت ہے جسکی ایک مثال ٹراٹسکی کی کتاب ’انقلاب سے غداری‘ ہے جو میں نے ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں پڑھنا شروع کی۔

سکویڈ گیم: سرماۓ کے جبر کو بے نقاب کرتی داستان

معاشی اور سماجی نظام میں موجود مقابلے اور مسابقت کی فضامیں یہی گیمز کارفرما ہیں۔ ان گیمز کا انجام سکویڈ گیم پہ ہوتا ہے جو بچے کو پر تشددبناتی ہے اور پھر یہی تشدد اس کے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے نظام زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

کمیونسٹ زبردست ہی ہوتے ہیں: فیض کا گورے افسر کو تاریخی جواب

کانگریس نے ہندوستان چھوڑ و تحریک چلارکھی تھی اور جتنے بائیں بازو کے لوگ تھے خاص طور پر کمیونسٹ اور سوشلسٹ ان سب کو انگریزوں نے دیوالی کیمپ میں نظر بند کر دیا تھا۔ ہمارے ایک بزرگ دوست مجید ملک فوج میں پبلک ریلیشنز آفسر بن کر گئے تو انہوں نے بہت چاہا کہ ہم فوج میں چلے جائیں مگر ہم نے انکار کر دیا کہ یہ امپریلزم کی جنگ ہے ہم اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

فیڈل کاسترو بنام عبدالقدیر خان

سچ پوچھئے تو آپ کا نام میں نے کافی سال پہلے بھی سنا تھا جب آپ نے پاکستانی ٹیلی ویژن پر آ کر اپنے کچھ جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ کمیں نے کیا،پوری دنیا نے وہ اعتراف ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔ اسمگلنگ ہمارے ہاں لاطینی امریکہ میں بھی بہت ہوتی ہے مگر جو خیال آپ کو سوجھا‘ وہ تو کبھی پابلو ایسکوبار کو بھی نہ سوجھا ہو گا۔

ملالہ کیوجہ سے نارویجن بچوں اور یوتھ کی نوبل انعام میں دلچسپی بڑھ گئی ہے: ٹونی عثمان

اس طرح سے بہادر صحافیوں کو سراہنا پاکستان کے لئے بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی کھل کر یہ آزادی میسر نہیں رہی۔ ”نیا پاکستان“ بننے کے بعد تو آزادی اظہارکا گلا گھوٹنے کی متعدد مثالیں ہیں۔ مسئلہ چاہے سرمد کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشہ“ کی ریلیز کا ہو یا جیو سے صحافی حامد میر کو ہٹانے کا، یا مصنف محمد حنیف کے بین القوامی شہرت یافتہ ناول ’The Case of Exploding Mangoes‘ کا…جس کا اردو ترجمہ بک سٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ ’بات کرنی مجھے مشکل ایسی ہی تھی‘۔