نقطہ نظر

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


”سی پیک کوئی جادو کی چھڑی نہیں جس کے ذریعے گمبھیر مسئلوں کا حل نکالا جاسکے“

پہلے تو یہ کہ امریکہ اور ہندوستان کے تجارتی تعلقات مشکلات کا شکار ہیں۔ دوسرا یہ کہ دونوں ملک اپنے تعلقات کی نوعیت پر پوری طرح متفق نہیں ہیں۔ تیسری جانب ہندوستان اور چین اپنے اختلافات کے باوجود دوطرفہ تجارت اوربین الاقوامی سطح پر کئی امورپر تعاون بھی کرتے ہیں۔ اور آخرمیں یہ بھی کہ چین اور پاکستان میں دوستی کے دعوؤں کے باوجود چین کی خواہش ہے کہ پاکستان اس کی سرزمین پر دہشت گرد سرگرمیوں کے ذمہ دار ان گروہوں کا سختی سے قلع قمع کرے جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔

عرب بہار کی واپسی!

بغاوت کے ابتدائی مرحلے میں ’قیادت کے بغیرتحریکیں‘ ٹھیک ہیں لیکن آگے بڑھنے کے لئے، تحریک کو کسی نہ کسی شکل میں منظم ہونا ضروری ہے۔ لیڈرشپ کی ضرورت ہے، کچھ کرشماتی رہنما یا ’ہراول پارٹی‘ کے معنی میں نہیں، لیکن نچلی سطح کی تنظیموں کے ایسے نیٹ ورک کے معنی میں جو اپنی امنگوں کی تکمیل کے لئے تحریک کو مربوط شکل میں آگے بڑھا سکیں۔

آمریت میں میڈیا ترقی نہیں کرتا

اس انٹرویومیں انہوں نے مسلم معاشروں میں آزادی اظہار سے لے کرصحافیوں کی حالتِ زار اور جمہوریت سے تحریکِ نسواں تک ہر موضوع پر اظہارخیال کیاہے۔