Akbar Notezai

اکبر نوتزئی کوئٹہ میں رہتے ہیں اور روزنامہ ڈان سے منسلک ہیں۔


تخت بلوچستان پر پرانے فرماں روا کی واپسی: ’تو چل میں آیا‘ کا کھیل جاری!

آج تین سال بعد وہی کھیل پھر دہرایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ جام کمال خان اسی انداز میں ایوان اقتدارسے باہر کر دئے گئے ہیں اورعبدالقدوس بزنجو ایک بارپھربلا مقابلہ انتخاب جیت کر 29 اکتوبر کو سنگھاسن پر بیٹھ چکے ہیں۔ ایک سینئر وزیر کا کہنا ہے کہ وہ ایک کمزور ترین سیاسی مہرہ ہیں جس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں اور یہی ان کی کامیابی کی اصل وجہ ہے۔

’سب سے دلچسپ یہی غم ہے میری بستی کا، موت پسماندہ علاقے میں دوا لگتی ہے‘

”ہم اپنے اعمال تو درست کرتے نہیں، پھر زلزلے تو آئیں گے“۔ اس نے مزید تشریح کی۔ محمد مبین کی اپنی رائے ہوتی ہے اور گفتگو کا ہنر بھی جانتا ہے۔ مجال ہے جو دوسرے کو بات کا موقع دے۔ اس نے یہ سارا خطبہ اس لئے دیا کہ میں نے گانے لگانے کی فرمائش کی تھی تا کہ سفر تھوڑا اچھا کٹ جائے۔

عطا اللہ مینگل: بلوچ سیاست کا ایک انقلابی عہد تمام ہوا

سردار عطا اللہ مینگل کی وفات کے ساتھ ہی ایک ایسے سیاسی دور کے کتب خانہ کا خاتمہ ہو گیا ہے جس پر ابھی تحقیق کی جانی باقی تھی۔ انہوں نے کبھی اپنی سوانح عمری نہیں لکھی۔ بقول ان کے بیٹے اختر مینگل کے ایک بار جب ان سے لکھنے کو کہا تو جواب ملا: ”سوانح عمری لکھنے کے لیے سچ لکھنا پڑتا ہے اور مجھے جھوٹ بولنا آتا نہیں“۔