Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔


کرونا بحران کے خلاف پاکستانی بائیں بازو کی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟

زدوروں اور محنت کشوں کے ساتھ مل کر اور اپنی مدد آپ کے تحت بنائی گئی کمیٹیوں کی تشکیل شروع کرنا ہوگی ہمیں اس بحران سے نمٹتے ابھی بھی بہت دیر ہو چکی ہے۔ ایک طرف ہمیں اپنی کمیٹیوں کے ذریعے کرونا جیسی وبا سے بچنے کے لئے بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ساتھ ہی ساتھ پیداواری عمل پر مزدور طبقات کی اجارہ داری، خواراک اور وسائل کی منصفانہ تقسیم، صحت اور ادویات پر محنت کشوں کے کنٹرول کے لئے سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج بے رحمی اور نالائقی کے سوا کچھ نہیں

اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے پاس ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے سامان مہیا کرنے کے لئے وسائل نہیں ہیں تو کسی کو بھی اس بہانے پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے پاس اس وقت تو وسائل کی کوئی کمی نہیں ہوتی جب ہم نے جہانگیر ترین کو معیشت کی لوٹ مار کے ذریعے مال بنانے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔

کرونا وبا کے دوران سیاست کیوں ضروری ہے؟

اس ساری تاریخ بیان کرنے کا مقصد کرونا وائرس یا دوسری آفات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ اس خطرے کو رد کرنا تو انتہائی احمقانہ قدم ہو گا جس کے نتائج ہم سب کو بھگتنے پڑسکتے ہیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال میں سوال اٹھانا بند نہ کیا جائے، مسائل پر سوچنا بند نہ کیا جائے اور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا بند نہ کیا جائے جن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔