Awais Qarni

اویس قرنی ’ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ‘ کے مرکزی آرگنائزر ہیں اور ملک بھر میں طلبہ کو انقلابی نظریات پہ منظم اور متحرک کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔


بلوچستان: قومی آزادی اور مسلح مہم جوئی

”ہم عالمی انقلاب کی پرولتاری فوج کے سپاہی ہیں۔ ہم آپ کی قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو دوسری محکوم قوموں کی طبقاتی جد وجہد کے ساتھ جوڑنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اس سیارے کے ہر کونے میں اس استحصالی نظام اور اس کی ریاستوں کو اکھاڑ پھینکنے کی عالمی جد وجہد میں آپ کو دعوت دیتے ہیں۔ سوشلزم نجی ملکیت کی نفسیات اور قومی جبر کا خاتمہ کرتا ہے جو آخری تجزیے میں وسائل، دولت اور جائیداد کی ملکیت کا سوال ہے۔ بلوچستان کے وسائل صرف اسی صورت میں یہاں کے لوگوں کے ہوسکتے ہیں جب نجی ملکیت کے نظام اور ذرائع پیداوارکی نجی ملکیت، تقسیم اور تبادلہ کے نظام کا خاتمہ کر کے اجتماعی ملکیت کو رائج کیا جائے۔ یہ صرف محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے تحت سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔“

کراچی یونیورسٹی واقعہ کے بعد بلوچ طلبہ زیر عتاب

کراچی خود کش حملے کے بعد ایسے نتائج کا برآمد ہونا اتنی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر اور قومی استحصال نے مسلسل شدت ہی اختیار کی ہے۔ وہاں کے وسائل کی لوٹ مار مسلسل جاری ہے اور اسی طرح سے مزاحمت بھی۔ وسائل کی اس عالمی لوٹ مار اور جغرافیائی خصوصیات نے اس خطے کو عالمی و علاقائی سامراجی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا میدان بنا دیا ہے۔

بندوق کی نوک پر ”قومی دھارے میں شمولیت“

بھگت سنگھ کے نظریات آج بھی اس خطے کی ہر قوم کے محنت کشوں کی نجات کا واحد ذریعہ ہیں۔ ان انقلابی افکار، طبقاتی جڑت اور جرأت سے ہی ایسے فسطائی رحجانات کا مقابلہ ممکن ہے۔

حق چھین لیا جائے!

یہ اجتماعی اور اشتراکی قیادت ہی ہوتی ہے جو افراد کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کاموجب بنتی ہے۔ یہ سیاسی تربیت ہی نوجوانوں میں اعتماد کا باعث بنے گی۔ اور یہی اعتماد نوجوانوں کو دیوہیکل جبر سے ٹکرانے کی شکتی دے گا۔ پھر حالات کے مطابق طلبہ یونین بحالی کے لئے اجلاس ملک کے کلیدی شہروں میں منعقد کرتے ہوئے آگے کی لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔

5 جولائی کا شب خون: ”ضیا کو مار دو!“

’جدوجہد‘کا پہلا سر ورق، کامریڈ لال خان کی تحریریں اور ان کے آخری الفاظ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 5 جولائی1977ء کا انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے جس سے ضیا الحق کی باقیات کو حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔

کامریڈ لال خان کی یادیں۔ ۔ ۔

ان کے تمام افعال، میل جول اور غور و فکر ”طبقاتی جدوجہد“ اور اس کے ذریعے انقلابی سوشلزم کی قوتوں کو مضبوط بنانے کیلئے ہوتے تھے۔ ان کی سوچ اور عمل پر ”طبقاتی جدوجہد“ حاوی رہی اور یہی انہوں نے ہمارے لیے ترکہ چھوڑا۔

پاکستان میں طلبہ سیاست کا عروج و زوال

منافع کی ہوس اور تعلیم کے کاروبار کے باعث طلبہ کو گھٹن زدہ کیفیت میں رکھا جا رہا ہے، جہاں سیاست تو دور سانس لینے کی آزادی بھی محال ہے۔ جہاں پلازوں میں مختلف انٹرنیشنل برانڈ کی دکانیں ہیں، انہی پلازوں میں ڈربہ نما کمروں کو یونیورسٹی اور کالج کا نام دیا جا رہا ہے۔ ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل طور پر نااہل ہے، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں کے بعد تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستان: 62 فیصد نوجوان طلبہ یونین کے حق میں ہیں!

یہ ایک نجی ادارے کا چند گھنٹوں کا سوشل میڈیا کا سروے ہے جس کا نتیجہ ہمارا سامنے واضح ہے اور یہی حقیقت ہے کہ پاکستان میں طلبہ کی اکثریت یونین سازی کے نہ صرف حق میں ہے بلکہ اب وہ یہ حق چھیننے کے لیے بھی تیار ہے جس کا اظہار 29 نومبر کو درجنوں شہروں میں ہونیوالے طلبہ یکجہتی مارچ میں ہوگا۔