Dr. Mazhar Abbas

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔


ساکا ننکانہ کا معاشی اور سماجی پہلو

بھارت میں مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم کے ایک اور اقدام نے عالمی برادری کی توجہ اس وقت مبذول کرائی جب اس نے ساکا ننکانہ (یا ننکانہ قتل عام) کی سوویں سالگرہ (جو کہ 20 فروری 2021ء کو تھی) میں شرکت کے لیے 700 سکھوں کو ننکانہ صاحب (پاکستان) جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

”بھگت سنگھ کے نظریہ اور میراث کی پاکستانی نصاب میں جگہ“

بھگت سنگھ اور ان کی میراث کو ہماری نصابی کتب میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماہرین تعلیم کو بھی اپنے مقامی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تحقیق کرنے اور مقامی بیانیہ تیار کرنے کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے، چاہے ان کے عقائد کچھ بھی ہوں۔ حکومت کو یادگاری طور پر کم از کم ایک تاریخی نشان کا نام بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے کی پہل کرنی چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو مقامی انقلابی کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

زرعی زمین چین، سعودی عرب کو لیز پر دینا پاکستان پر ’بین الاقوامی قبضہ‘ ہے

اس ضمن میں پاکستان کو محتاط رہنا چاہیے اور اپنی زرعی زمین کا زیادہ حصہ غیر ملکی سرمایہ کاروں یا کمپنیوں کو لیز پر نہیں دینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر، اس کا انجام ایک جدید دور کی کالونی کے طور پر ہو سکتا ہے جسے خوراک کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لاہور کا سر کردہ ماہر تعلیم

ممتاز سماجی اصلاح کار، سائنس دان، استاد، سیاست دان، عوامی دانشور اور نو آبادیاتی پنجاب کے سر کردہ ماہر ِتعلیم ہونے کے باوجود، رْوچی رام ساہنی کو ہندوستان اور پاکستان کے سماجی اور علمی حلقوں میں وہ مناسب مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔ انھوں نے معروف طبیعات دان ارنسٹ ردرفورڈ اور نیلز بوہر کے ساتھ کام کیا تھا، تاہم، ان کی سائنسی اور تعلیمی میراث اکیسویں صدی کے آغاز تک بڑی حد تک فراموش کر دی گئی تھی۔

’بابائے سوشلزم‘ ایک اصول پسند سیاستدان تھے

ایک اصلاح پسند سوشلسٹ (ریفارمسٹ سوشلسٹ) کے طور پر رشید کو آج بھی بابائے سوشلزم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انھوں نے سوشلسٹ جمہوریت کے قیام کے لئے انقلاب کے بجائے اصلاحات کا راستہ اختیار کیا۔

ایک فیبیئن سوشلسٹ

بھٹو کے مطابق معاشی مساوات حقیقی جمہوریت کے لیے ناگزیر تھی۔ اسی احساس کے ساتھ انھوں نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تھا۔

پنجاب میں جبری ہجرتیں اور کسان تحریک کی تباہی

بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ پنجاب میں انیسویں اور بیسویں صدی میں چار بڑی جبری ہجرتیں ہوئی ہیں جنھوں نے نہ صرف لوگوں کی بڑی تعداد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی پہ مجبور کیا بلکہ زمینداری سے متعلق تنازعات کو بھی جنم دیا۔

فادر آف ماڈرن پنجاب

دیہی پنجابیوں کے مفادات کے فروغ اور تحفظ کے لیے تعلیم، سیاست اور معیشت کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانے اور قانون سازی کے اقدامات شروع کرنے کے لیے ان کی انمول خدمات کی وجہ سے انھیں ”فادر آف ماڈرن پنجاب“ کہنا بالکل درست ہو گا۔

پنجاب میں مزاحمت کی میراث

عبداللہ بھٹی عرف دُلہ بھٹی، ان کے والد فرید اور دادا ساندل عرف بجلی نے پنجاب میں مغلیہ حکومت کو چیلنج کیا اور اس مزاحمت کومغلیہ سلطنت کے خلاف تین نسلوں تک جاری رکھا۔ مغلیہ سلطنت کی انتہائی رجعت پسندانہ ٹیکس پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے بھٹی محنت کش طبقے کے انقلابی رہنماؤں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ مقامی برادری میں اپنی بہادری اور سماجی انصاف کے فروغ کی وجہ سے مقبول ہوئے۔ بغاوت کے خوف نے اکبر کو دو بار اپنا دارالحکومت دہلی/آگرہ سے لاہور منتقل کرنے پر مجبور کیا۔ ان سب (بھٹیوں) نے اکبر کے زیر اقتدار طاقتور مغلیہ سلطنت کے خلاف اس جدوجہد میں اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔ دُلہ اپنی بیوی کی گرفتاری کی وجہ سے مغل فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوا تھا۔

رائے احمد خان کھرل: پنجاب کا انقلابی ہیرو

اگرچہ پنجاب کے لوگ رائے احمد خان کھرل کو اپنا ہیرو تسلیم کرتے ہیں لیکن بعد از نو آبادیاتی پنجاب کی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ان سے منسوب عمارتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔