Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


پی ٹی آئی: مائنس ون نہیں ہو گا، پوری سلیٹ صاف ہو گی

اگر عمران خان کو سائڈ لائن کیا گیا تو پورا پراجیکٹ ہی ختم ہو جائے گا۔ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا تحریک انصاف نامی پراجیکٹ لپیٹ دیا جائے گا یا اسے متبادل کے طور پر زندہ رکھا جائے گا۔ زیادہ امکان ہے کہ پر کاٹ کر، متبادل کے طور پر یہ پراجیکٹ جاری رکھا جائے گا مگر یہ محض ایک امکان ہے۔

دی سوشلزم منسٹر: کیا سوشلسٹوں کو سرمایہ دار حکومتوں میں شامل ہونا چاہئے؟

پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر تو یہ بحث کوئی معنی نہیں رکھتی کہ سوشلسٹوں کو سرمایہ دار حکومت میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں۔ ہاں بھٹو دور میں یہ بحث ضرور موجود تھی۔ دنیا کے دیگر ممالک میں، جہاں بایاں بازو نسبتاً بڑا وجود رکھتا ہے، یہ بحث گاہے بگاہے جنم ضرور لیتی ہے۔

پاکستانی ٹچ والی ’سکوئڈ گیمز‘: سرمایہ داری کی درندگی کا ایک رخ

ساتویں ایٹمی قوت، جس کی ایک چوتھائی آبادی اس وقت سیلاب میں ڈوبی، بیرونی امداد کی منتظر ہے…اس کا عالمی امیج کیا ہے؟ ’سکوئڈ گیمز‘ اس کی صرف ایک جھلک ہے۔ پاکستان کی ’سکوئڈ گیمز‘ میں نمائندگی (Representation) اس ریاست اور حکمران طبقے کے منہ پر طمانچہ ہے جو قوم کو ایٹمی قوت، فتح مکہ، غزوہ ہند اور اس طرح کی دیگر لوریاں سنا کر بغیر ویزے کے کوریا اور یورپ بھیج دیتے ہیں یا سیلاب میں ڈوبنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں مگر کورین اشرافیہ کی طرح خود مزے میں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ فکر بھی کھاتی رہتی ہے کہ پاکستان کا عالمی امیج خراب نہ ہو۔ اس لئے انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کے پیچھے ویگو ڈالے منڈلاتے رہتے ہیں۔ کیا کسی ’ہم‘، ’جیو‘ یا ’اے آر وائی‘ میں ہمت ہے کہ پاکستانی اشرافیہ کی ’سکوئڈ گیمز‘ کو اسکرین پر پیش کریں؟

سویڈن: کل عام انتخابات ہوں گے، لیفٹ اور رائٹ بلاک میں سخت مقابلہ

بورژوا بلاک کی ایک جماعت (سنٹر پارٹی) نے سوشل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی کے ساتھ بلاک بنا لیا ہے مگر ان کا مطالبہ ہے کہ اگر اس بلاک نے حکومت بنائی تو لیفٹ پارٹی کو اس سے باہر رکھا جائے۔ روایتی طور پر اس بلاک میں سوشل ڈیموکریٹس، گرین اور لیفٹ پارٹی (سابقہ کیمونسٹ پارٹی) شامل تھے۔ سنٹر پارٹی کا معاشی ایجنڈا بہت ہی نیو لبرل ہے۔ اسے عموماً اور تاریخی طور پر کسانوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔

علی وزیر کو رہا کیا جائے: عمران خان

وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی وزیر کو صرف اس لئے رہا نہیں کیا جا رہا کہ مسٹر ایکس وائی زیڈ نے عدالت کو منع کر رکھا ہے کہ علی کو رہا نہیں ہونے دیناجبکہ مجھے اس لئے گرفتار نہیں کیا جا رہا کیونکہ مسٹر ایکس وائی زیڈ نے منع کر رکھا ہے کہ عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دینا نہیں تو وہ اور بھی مقبول ہو جائے گا۔

سیلاب اور منافقوں کی ’سامراج مخالفت‘

سرمایہ داری نے انسانیت کا وجود خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماحولیات بلا شبہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اگر کوئی سچ میں ماحولیاتی انصاف چاہتا ہے تو اسے پھر سوشلزم کی بات کرنا ہو گی۔ سرمایہ داری اور ماحولیات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر کوئی سرمایہ داری کے خاتمے کی بات نہیں کرتا اور ’حقیقی آزادی‘ کے نعرے لگاتا ہے تو وہ منافق ہے،جھوٹا ہے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

نواز شریف، بے نظیر کے برعکس عمران خان خاموشی سے گھر کیوں نہیں گئے؟

عمران خان وراثتی سیاست کی بجائے شخصیت پرستی کی سیاست کا نمونہ ہیں۔ بوجہ ان کے تینوں بچوں نے پاکستانی سیاست میں نہیں آنا۔ دوم، عمر کے جس حصے میں وہ ہیں، وہاں مزید انتظار کی گنجائش نہیں۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز شریف کی طرح ان کے پاس انتظار کا آپشن موجود نہیں۔ یوں ان کی بغاوت ایک طرح سے بائیولوجیکل ڈسپریشن کا بھی اظہار ہے۔

تحریک انصاف اور چاہت فتح علی خان: دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں

یہ دونوں مظاہر مراعات یافتہ لوگوں کی بے ہودگی کا اظہار ہیں مگر دونوں وائرل ہیں۔ پاکستان میں فن موسیقی دم توڑ رہا ہے۔ ایسے ایسے ہیرے مٹی چاٹ رہے ہیں کہ انسان خون کے آنسو پی کر رہ جاتا ہے۔ ادہر لندن میں مقیم چاہت فتح علی خان کی مقبولیت کا واحد راز یہ ہے کہ انہوں نے فن موسیقی کے ساتھ وہی کچھ کیا جو جنرل یحییٰ نے مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا لیکن چونکہ وہ پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں کی طرح مفلس نہیں، مراعات یافتہ ہیں۔ اس لئے موسیقی کے ساتھ جو مرضی کریں، فرق نہیں پڑتا…بس وائرل ہونا چاہئے۔ یہی حال پاکستان تحریک انصاف کا ہے۔ قیادت ارب پتی ہے۔ سپورٹر یا مغربی ممالک میں رہ رہے ہیں یا پاکستان کی اچھی ہاؤسنگ سوسا ئٹیوں میں۔

پاکستان ہو یا ہندوستان، مذہبی جنونیت ملیریا ہے

شرمناک بات ہے کہ اس فلم پر تنازعہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ہندوستان پاکستان اپنی اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس بات پر خوشی منائی جا رہی ہے کہ سلمان رشدی پر حملہ ہوا ہے جبکہ تحریک لبیک کے ڈر سے سرمد کھوسٹ کی فلم ریلیز نہیں ہو پا رہی۔ ادہر ہندو طالبان بضد ہیں کہ عامر خان غدار ہے اس لئے’لال سنگھ چڈھا‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سرحد کے آر پار پاگل پن کی یہ محض تازہ مثالیں ہیں۔ جس طرح ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے ذریعے منٹو نے یہ پوچھا تھا کہ پاگل کون ہے، وہ جو لاہور کے پاگل خانے میں قید ہیں یا جنہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان کو دے کر بشن سنگھ انڈیا کے حوالے کر دیا ہے؟ اسی طرح، لال سنگھ چڈھا بھی کچھ سوال پوچھ رہا ہے اور معصومیت سے آئینہ لئے کھڑا ہے جس میں ہندو طالبان اپنا چہرا دیکھ کر شور مچا رہے ہیں۔

طالبان خان کا تازہ قصہ: ٹی ٹی پی امریکی سازش کا حصہ

کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ تک طالبان کو بھتہ دے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اور رہنما طالبان کو بھتہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو اس ’امریکی سازش‘ میں طالبان خان کی اپنی پارٹی شامل ہے۔
طالبان خان! ہمت ہے تو ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ آزادی شروع کرو! بنی گالہ میں بیٹھ کر امریکہ سے آزادی کا ڈرامہ بہت ہو چکا۔