Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


جنرل مشرف کو رخصت کرانے والا ’مہمان‘ رخصت ہوا

عارف شاہ پروہنا ایوب آمریت کے خلاف چلنے والی عوامی انقلابی تحریک میں سوشلسٹ خیالات سے متاثر ہوئے۔فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے مگر فوج چھوڑ کر ایوب آمریت کے خلاف تحریک میں شامل ہو گئے۔ہمیں اکثر ایک واقعہ سناتے تھے:”میں جب جلسوں میں جانے لگا تو میرے سی او نے مجھے کہا کہ فوجی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ میں نے جواب دیا سر جرنل صاب بھی تو لے رہے ہیں“۔

روزمرہ کے مسائل: حفظان صحت اور سٹریٹ فوڈ

پاکستان میں بھی محنت کش طبقے کے کلچرل معیار کو بہتر کرنا سوشلسٹ اور مزدور تحریک کا ایک اہم فریضہ ہے۔ اسے ادا کرنے کے لئے انقلاب کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ جس حد تک ہو سکے یہ فریضہ سر انجام دیں۔ اسی کا نام ہے: ایوری ڈے سوشلزم!یعنی روزمرہ کا سوشلزم۔

جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے عمران خان ریٹائرہرٹ ہو جائیں گے

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے سوال پر بظاہر جنرل قمر جاوید جاجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین جو اختلافات سامنے آئے، یہ دراصل حکومت اور فوج کے مابین لڑائی تھی ہی نہیں۔ یہ فوج کے اندرونی اختلافات کا اظہار تھا۔ سیاسی و سماجی تضادات کا اظہار لازمی طور پر اس طرح نہیں ہوتا جس طرح آئینے میں عکس دکھائی دیتا ہے۔

فیڈل کاسترو بنام عبدالقدیر خان

سچ پوچھئے تو آپ کا نام میں نے کافی سال پہلے بھی سنا تھا جب آپ نے پاکستانی ٹیلی ویژن پر آ کر اپنے کچھ جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ کمیں نے کیا،پوری دنیا نے وہ اعتراف ٹیلی ویژن پر دیکھا تھا۔ اسمگلنگ ہمارے ہاں لاطینی امریکہ میں بھی بہت ہوتی ہے مگر جو خیال آپ کو سوجھا‘ وہ تو کبھی پابلو ایسکوبار کو بھی نہ سوجھا ہو گا۔

ملالہ کیوجہ سے نارویجن بچوں اور یوتھ کی نوبل انعام میں دلچسپی بڑھ گئی ہے: ٹونی عثمان

اس طرح سے بہادر صحافیوں کو سراہنا پاکستان کے لئے بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں کبھی بھی کھل کر یہ آزادی میسر نہیں رہی۔ ”نیا پاکستان“ بننے کے بعد تو آزادی اظہارکا گلا گھوٹنے کی متعدد مثالیں ہیں۔ مسئلہ چاہے سرمد کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشہ“ کی ریلیز کا ہو یا جیو سے صحافی حامد میر کو ہٹانے کا، یا مصنف محمد حنیف کے بین القوامی شہرت یافتہ ناول ’The Case of Exploding Mangoes‘ کا…جس کا اردو ترجمہ بک سٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ ’بات کرنی مجھے مشکل ایسی ہی تھی‘۔

سوشلسٹوں کا فوجی ہیرو: ظفر اللہ پوشنی امر ہو گئے (1916-2021ء)

”میں بذات خود کبھی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں رہا اور پارٹی پالیسیوں کے بہت سے پہلو سے اتفاق نہیں کرتا تھا لیکن مجھے اس پارٹی کے مسلک سے ہمدردی ضرور تھی۔ ہماری دنیا کی بیشتر آبادی اس قدر افلاس، ناداری، بھوک اور پریشانی کا شکار ہے کہ کوئی بھی حساس انسان ایسی صورت حال سے مطمئن نہیں ہو سکتا اور اس کی خواہش ہوگی کہ اس بے مروت استحصالی نظام کو کسی طرح سے بدلا جائے۔ خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے رہنے والے لوگ جس کسمپرسی کی حالت میں زندہ ہیں وہ کوئی زندگی تو نہیں“۔

قوم یوتھ سٹاک ہولم سنڈروم نہیں، وینا ملک ڈس آرڈر کا شکار ہے

افغانستان میں ’فتح مکہ‘پر پاکستانی حکمران ہی نہیں پوری قوم یوتھ انتہائی خوش ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق پچپن فیصد لوگ طالبان کے کابل پر قضے کے حامی ہیں۔ عام لوگوں کو تو ا سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان تک جب سچ، متبادل سوچ اور بیانیہ پہنچے گا ہی نہیں تو ان کے ذہن حکمرانوں کی مرضی کے مطابق سوچتے رہیں گے۔

بیانیہ بطور سوشل پورن اور ’DW‘ پر وینا ملک کا انٹرویو

خیر پوچھنا صرف یہ تھا کہ ڈوئچے ویلے اس سوشل پورنوگرافی کا حصہ کیوں بن رہا ہے؟ کیا جرمنی میں فیمن اسٹ بحثوں میں صرف پورن سٹارز کو مدعو کیا جاتا ہے؟ یا مکالمے کی سوشل پورنوگرافی صرف پاکستان کے لئے جاری کی جانے والی اردو سروس کے لئے مختص ہے؟

ایک بے حیا عورت کا انصار عباسی کے نام فحش خط

یقین کیجئے اس خط میں کسی قسم کی فحاشی نہیں پائی جائے گی۔اس کے باوجود امید ہے آپ نہ صرف یہ خط پڑھنا جاری رکھیں گے بلکہ امید کامل ہے کہ خط کے اختتام تک آپ اس تحریر میں کوئی نہ کوئی فحش پہلو ضرور دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے میں نے احتیاطاََ اس کی سرخی میں فحاشی کا ذکر کر دیا۔

ناروے: الیکشن میں بائیں بازو کی زبردست کامیابی، 8 کمیونسٹ بھی کامیاب

پیر کو ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کے اتحاد نے زبردست کامیابی حاصل کر کے دائیں بازو کی آٹھ سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ عنقریب جرمنی میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔ وہاں بھی توقع کی جا رہی ہے کہ لیفٹ گرین جماعتیں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ ان انتخابات کی وجہ سے یورپ میں یہ بحث جنم لے چکی ہے کہ کیا یورپ بائیں طرف مڑ رہا ہے۔ اس کا جواب تو وقت ہی دے گا فی الحال بات ناروے تک محدود رکھتے ہیں جہاں بائیں بازو کے اتحاد: لیبر پارٹی (یعنی سوشل ڈیموکریٹس)، لیفٹ سوشلسٹ پارٹی اور سنٹر پارٹی نے 89 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت ہی حاصل نہیں کی بلکہ چند سال قبل بننے والی کیمونسٹ جماعت ’ریڈ‘ (سرخ) نے بھی 8 نشستیں حاصل کی ہیں۔