Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


ابو بکر سے ملاقات پر ایک پشتون بچے کا عمران خان کو خط

امید ہے آپ کی سوشل میڈیا ٹیم یہ خط آپ تک پہنچا دے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا خط وائرل ہو مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ آپ ان سارے سکھ بچوں سے ضرور ملیں جن کے والدین ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے اور ان سارے بچوں کی قمیضوں پر آٹو گراف دیں جن کی ٹانگیں طالبان کی لگائی لینڈ مائنز میں ضائع ہو گئیں۔ جس محبت سے آپ ابو بکر سے ملے اس کی وجہ سے مجھے پورا یقین ہے آپ میری بات ضرور مانیں گے۔

پوتن ناٹو کے لئے بہترین بھرتی افسر ثابت ہوئے ہیں

ہر جنگ کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ یوکرین جنگ کا ایک، بہت اہم، پہلو ناٹو ہے مگر جس درندگی کا مظاہرہ روس یوکرین میں کر رہا ہے اگر کوئی ترقی پسند اس سے آنکھیں چرا کرآئیں بائیں شائیں کر رہا ہے تو اسے جماعت اسلامی یا اخوان المسلمین میں شامل ہو جانا چاہئے کیونکہ ایسا ترقی پسند سوشلسٹ نہیں، فنیٹک (Fanatic) ہے جسے سامراج دشمنی اور امریکہ دشمنی کا ہی فرق معلوم نہیں۔

منافقت بھی شرمندہ: طالبان کی بیٹیاں بیرون ملک پڑھتی ہیں، فٹبال کھیلتی ہیں

طالبان کے اساتذہ یعنی ’مجاہدین‘ جو پاکستان میں قائم مہاجر کیمپوں میں لڑکیوں کے اسکول نہیں کھولنے دیتے تھے، ان میں سے بعض کی اپنی بیٹیاں یورپ میں پڑھ رہی تھیں یا رہ رہی ہیں۔ ان مجاہدین کو سی آئی اے اور اختر عبدلرحمن یا حمید گل جیسے جرنیلوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اختر عبدلارحمن اور حمید گل کی اپنی اولادیں بھی ملک اور بیرون ملک بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ حمید گل کی بیٹی نے تو ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بھی چلائی۔

میر جعفر، میر صادق والا بیانیہ اور تاریخ کا سامنا کرنے سے انکار

شروع میں ہندوستان علما ہی نہیں، پورے عالم اسلام کو لگا کہ دین سے دوری کی وجہ سے یورپ غالب آ گیا لہٰذا جگہ جگہ دیوبند اور بریلی کی طرز پر مدرسے کھلے۔ ہندوستان میں بعد میں میر جعفر اور صادق والا بیانیہ بھی گھڑ لیا گیا۔ کم سے کم ہندوستان کی حد تک (تا آنکہ کمیونسٹ تحریک کی بنیاد پڑی) کسی مسلمان مفکر کو نہ کلونیل ازم کی سمجھ آئی نہ سرمایہ داری کی۔ کمزور بنیادوں پر کھڑی اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے حکمرانوں کو بھی میر جعفر میر سادق والا بیانیہ سود مند دکھتا ہے لہٰذا خوب بیچا جاتا ہے۔

سویڈن: ’بایاں بازو نیٹو رکنیت کے خلاف ہے مگر یوکرین پر حملے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے‘

رواں سال جون کے آخر میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں فن لینڈ کے ہمراہ سویڈن بھی نیٹو رکنیت کیلئے درخواست جمع کروانا چاہتا ہے۔ تاہم سویڈن میں نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے رائے منقسم ہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے۔

بزدلوں کی سامراج مخالفت

ادہر بزدلوں کی سپاہ پاکستانی فوج کو للکار رہی ہے مگر ٹوئٹر ہینڈل کی مدد سے، یورپ اور امریکہ میں بیٹھ کر۔ ’انقلاب‘کے ان ننھے ’سپاہیوں‘ کو تو اتنا بھی معلوم نہ ہو گا کہ شاہی قلعہ کس چیز کی علامت تھا، مساوات تحریک کیا تھی، رزاق جھرنا کون تھا؟ الذوالفقار کس رومانس کا نام تھا۔ ’لیبیا سازش کیس‘ کس جھوٹ کا پلندہ تھا؟ سوشلسٹ مجلہ ’جدوجہد‘ ایمسٹرڈیم سے کس نے کیوں نکالا یا 10 اپریل کو جب بے نظیر بھٹو واپس آئی تو وہ نظم کس نے لکھی تھی جو بی بی نے مینار پاکستان پر کھڑے ہو کر پڑھی تھی۔

احمقوں کی سامراج مخالفت

ملٹی نیشنل کمپنیوں کو وہ ملک زیادہ سود مند دکھائی دیتے ہیں جہاں عوام پر شدید جبر ہو، ٹریڈ یونینز مفقود یا کمزور ہوں اور شہری حقوق سلب کئے جا چکے ہوں۔ بنیاد پرست یہ تمام خدمات ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فراہم کرتے ہیں۔ اس قسم کی سامراج مخالفت کو احمقوں کی سامراج مخالفت ہی کہا جا سکتا ہے۔

کیا عدالت بھی آج عمران خا ن کی طرح سرپرائز دے سکتی ہے؟

اس طرح سپریم کورٹ ایک ایسے غیر آئینی اقدام کی توثیق کرے گی جس کے بارے میں خود عمران خان کی ٹیم کو بھی اندازہ ہے کہ یہ غیر آئینی اقدام ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر تو مسلسل یہ بحث جاری ہے کہ کیا اس اقدام کے بعد عمران الیون پر آئین کے آرٹیکل چھ کا اطلاق ہوتا ہے کہ نہیں۔ ابھی تک کسی ماہر قانون نے یہ رائے نہیں دی کہ اس اقدام کا کسی بھی طرح قانونی، اخلاقی یا آئینی حوالے سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا اقدام جس پر پورے پاکستان میں کم از کم یہ اتفاق موجود ہے کہ وہ غیر آئینی ہے، اسے عدالت آئین کا لبادہ پہنانے میں چاہتے ہوئے بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جدوجہد نے کہا تھا: ’جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے عمران خان ریٹائرہرٹ ہو جائیں گے‘

آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے سوال پر بظاہر جنرل قمر جاوید جاجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین جو اختلافات سامنے آئے، یہ دراصل حکومت اور فوج کے مابین لڑائی تھی ہی نہیں۔ یہ فوج کے اندرونی اختلافات کا اظہار تھا۔ سیاسی و سماجی تضادات کا اظہار لازمی طور پر اس طرح نہیں ہوتا جس طرح آئینے میں عکس دکھائی دیتا ہے۔