Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


پہلے پالتے ہیں پھر مارتے ہیں

ریاستی تشدد اس کا حل نہیں اور نہ ہی ریاست کے پاس اتنی نظریاتی بنیاد مضبوط ہے کہ وہ لبیک لبیک کہنے والوں پر گولیاں چلاتی رہے۔ ریاست ایسے گروہوں سے اپنے تمام رشتے ناطے توڑے بغیر ان کی طاقت کو بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

ایک دن بعد

کوئی بات بھی یقینی نہیں لیکن جو رحجانات نظر آ رہے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ طالبان کا اقتدار دنیا بھر کی ترقی پسند قوتوں کے لئے بری خبر ہے۔

امریکی قبضے نے صرف انسانی جانیں لیں: طالبان کی فتح امن کی نشانی نہیں

طالبان کی فتح پوری دنیا کے ترقی پسندوں کے لئے ایک انتہائی بری خبر ہے۔ امریکیوں کے ایجنٹوں پر تنقید کا مقصد طالبانی درندوں کی حمائیت کرنا نہیں۔ ان دونوں کی مخالفت جاری رہے گی۔ ایک حقیقی جمہوری سوشلسٹ نظریہ کی فتح ہی افغانستان میں مستقبل کی مسلسل خون ریزی کو روک سکتا ہے۔

جب فیض اور فراز جدوجہد کے دفتر تشریف لائے

ایک روز اس دفتر کی رونقیں دو بالا ہو گئیں جب معلوم ہوا کہ احمد فراز اور فیض احمد فیض یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ یہ سال 1982ء تھا۔ وہ دونوں عظیم شاعر ہمارے سینئر ساتھی اسد مفتی کی دعوت پر آئے تھے۔ دفتر میں انہی تنگ سیڑھیوں سے چڑھتے دونوں دفتر تشریف لائے اور دیر تک محفل جمی رہی۔

’میں اب بھی مارکسسٹ ہوں‘

وہ ہمیشہ میری بات کو اہمیت دیتے تھے شائد ایک نظریاتی رشتے کو نبھانے کے لئے بھی، کبھی مایوسی کی بات نہ کی۔

پوٹھوہار کی دو ہی تاریخی شخصیات: دادا امیر حیدر اور لال خان

ہم نے نومبر 1980ء میں ’جدوجہد‘ رسالہ کی اشاعت کا آغاز کیا ایمسٹرڈیم سے پھر ملک اخلاق برادران کے شائع کردہ رسالے ’حقیقت‘ کے ’جدوجہد‘ میں ادغام کے بعد یہ بلجیم کے شہر ہاسلٹ میں ہاتھ سے لکھا جاتا، وہیں کے ایک پرنٹنگ پریس سے شائع ہوتا اور پھر ایمسٹرڈیم گروپ کے ذریعے پورے یورپ میں بھیجا جاتا ان کو جو ہمارے ساتھی اور ہمدرد تھے۔ تنویر اور میں اس کے ہر شمارہ میں لکھتے۔ ’جدوجہد‘کے سر ورق ملک شمشاد بناتے جو بعد میں پوسٹرز کی صورت اختیار کر جاتے۔