Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


شہباز گل کے بیان پر گرفتاری نہیں، عدالتی فیصلہ ہونا چاہئے

آمریت کی کوئی شکل بھی سیاسی مضبوطی کی نہیں، کمزوری کی نشانی ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات کو جن کی کوئی مادی بنیاد بھی نہ ہو کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ کتنی کمزور حکومت ہے کہ وہ شہباز گل جیسے وارداتئے کے اشتعال انگیز بیانات سے بھڑک اٹھی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ایسا ہی کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔

تحریک انصاف پھنس گئی ہے: ’ہم خیال جج‘ بھی بچا نہ پائیں گے

تحریک انصاف پھنس گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مقدمہ ہے جس سے نکلنا تحریک انصاف کے لئے مشکل ہو گا۔ ابھی تو ایک عمل شروع ہوا ہے۔ اس کی کئی شکلیں سامنے آئیں گی…لیکن اب ہر ایک جگہ یہ تو بات ہو گی کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف دیا ہے۔ اس کے سیاسی اثرات نظر آئیں گے۔

پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب: سرمایہ داری سیاست کے سارے مہرے اب اقتدار میں

اب یہ بڑا سیاسی دلچسپ میدان لگا ہے۔ یہ 2018ء والی صورتحال نہیں کہ جب اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر عمران خان کے ساتھ تھی اور اسے اقتدار میں لانے کے لئے ہر آمرانہ حربہ استعمال کیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین حکومت بنانے کے لئے جہاز پر بھاگ بھاگ کر ووٹ خرید رہا تھا۔ آج اسٹیبلشمنٹ تقسیم بھی ہے اور کمزور بھی۔ اس کی مرضی صرف آمرانہ اقدامات سے ہی حاوی ہو سکتی ہے، سیاسی چال بازیوں سے نہیں۔

ڈرامائی سیاسی نتائج: عمران خان اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ تبدیل کریں گے

مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں مریم نواز کی جانب سے پنجابی شاونزم کو بنیاد بنا کر بھی نون لیگ کی انتخابی مہم کو شکست ہوئی۔ وہ چیزیں سستی ہونے کی نوید سناتی رہیں مگر پٹرول کو انتخابات سے تین دن پہلے صرف 18 روپے کم کر کے عوام کے زخموں پر نمک ہی چھڑکا گیا۔ ادہر، مفتاح اسمٰعیل بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی نوید عوام کو دیتے رہے۔ وہ لوگوں کو یقین دلاتے رہے کہ ابھی اور مہنگائی ہو گی۔

سری لنکن صدر فرار: تمام اہم سرکاری عمارتوں پر’عوامی جدوجہد‘ کا قبضہ

سری لنکا میں 1948ء میں اس کی آزادی کے بعد، یہ اب تک کا سب سے شدید معاشی بحران ہے، جو 2019ء میں شروع ہوا۔ اس کے نتیجہ میں غیر معمولی افراط زر ہوئی، غیر ملکی زرمبادلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سری لنکن روپیہ، جو پچھلے سال اکتوبر میں ایک ڈالر میں دو سو روپے تک کئی ماہ چلتا رہا، اب 13 جولائی کو ایک ڈالر 347 روپے تک جا پہنچا ہے۔ میڈیکل سپلائیز کی شدید کمی ہے۔ سری لنکا کو اس سال تک تقریباً 6 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ اتارنا تھا، مگر اپریل 2022ء میں سری لنکا حکومت نے معاشی دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا، کہ اس کے پاس اب یہ رقم ادا کرنے کی کوئی سکت نہیں ہے۔

لانگ مارچ عمران خان کی سیاسی پسپائی کا موجب بن سکتا ہے

ہم کسی بھی صورت ریاستی جبر کی حمایت نہیں کر سکتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمران خان کے حامی ہو گئے ہیں۔ ہماری سیاست انقلابی اصولوں سے وابسطہ ہے، جس میں جمہوری دفاع بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے، راستوں سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ پرامن جدوجہد کے راستہ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ اگر عمران خان کے بیانیہ کو اکثریت ملتی ہے تو ملے، اسے بندوقوں سے نہ روکا جائے۔

اکیڈیمیا کی فرح گوگی: عطا الرحمان کے ناکام منصوبے، اربوں ضائع

انہی کی شہ پر عمران خان نے بھی القادر یونیورسٹی سوہاوہ (جہلم) کی تعمیر شروع کی تھی۔ یہاں روحانیت پڑھائی جانی تھی۔ اس یونیورسٹی کے بورڈ میں عمران خان، فرح شہزادی، بشری ٰبی بی، بابر اعوان اور ذوالفقار زلفی جیسے روحانی رہنماشامل ہیں۔ اس وقت کل طالب علم 37 ہیں۔ اب تک اس یونیورسٹی پر عمران خان ایک ارب روپے خرچ کر چکے ہیں۔

محنت کش یوم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟

آج مزدوروں کے اوقات کار سرکاری طور پر تو 8 گھنٹے ہیں مگر ایک باعزت زندگی بسر کرنے کے لئے دو دو تین تین کام کرنے پڑتے ہیں یا 12/14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تب جا کر گزارا ہوتا ہے۔ پاکستان کے مزدور طبقات تو آج کرونا کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

علی وزیر سے ایک ملاقات

میں نے ان سے کہا کہ بس اب جیل جیل ختم کرو اور آجاؤ باہر بہت کام ہیں، جو مل کر کرنے ہیں۔ کہنے لگے کہ ہم نے تو باجوہ صاحب سے کہا ہے کہ اگر میرا کوئی ذاتی جھگڑا ہے، زمین یا ٹرانسپورٹ کا، تو اسے حل کر لیتے ہیں۔ اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

اگر عمران خان اینٹی امریکہ ہوتا؟

عمران پچھلے عرصہ میں مزید مذہبی ہو چکا تھا، جادو ٹونے پر یقین کر رہا تھا، طالبان کی حمایت کر رہا تھا اوروہ تاریخی مہنگائی کا موجد تھا۔ وہ اس کوشش میں تھا کہ پاکستان کے مذہبی گروہوں کی حمایت کو بھی اپنی گرہ میں ڈال لے۔ آپ جس قدر رائٹ ونگ پالیسیاں اختیار کریں گے، اس قدر ہی مذہبی انتہا پسند تنظیمیں مضبوط ہوں گی۔