Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


اکیڈیمیا کی فرح گوگی: عطا الرحمان کے ناکام منصوبے، اربوں ضائع

انہی کی شہ پر عمران خان نے بھی القادر یونیورسٹی سوہاوہ (جہلم) کی تعمیر شروع کی تھی۔ یہاں روحانیت پڑھائی جانی تھی۔ اس یونیورسٹی کے بورڈ میں عمران خان، فرح شہزادی، بشری ٰبی بی، بابر اعوان اور ذوالفقار زلفی جیسے روحانی رہنماشامل ہیں۔ اس وقت کل طالب علم 37 ہیں۔ اب تک اس یونیورسٹی پر عمران خان ایک ارب روپے خرچ کر چکے ہیں۔

محنت کش یوم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟

آج مزدوروں کے اوقات کار سرکاری طور پر تو 8 گھنٹے ہیں مگر ایک باعزت زندگی بسر کرنے کے لئے دو دو تین تین کام کرنے پڑتے ہیں یا 12/14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تب جا کر گزارا ہوتا ہے۔ پاکستان کے مزدور طبقات تو آج کرونا کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

علی وزیر سے ایک ملاقات

میں نے ان سے کہا کہ بس اب جیل جیل ختم کرو اور آجاؤ باہر بہت کام ہیں، جو مل کر کرنے ہیں۔ کہنے لگے کہ ہم نے تو باجوہ صاحب سے کہا ہے کہ اگر میرا کوئی ذاتی جھگڑا ہے، زمین یا ٹرانسپورٹ کا، تو اسے حل کر لیتے ہیں۔ اسے سیاست سے نہ جوڑا جائے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

اگر عمران خان اینٹی امریکہ ہوتا؟

عمران پچھلے عرصہ میں مزید مذہبی ہو چکا تھا، جادو ٹونے پر یقین کر رہا تھا، طالبان کی حمایت کر رہا تھا اوروہ تاریخی مہنگائی کا موجد تھا۔ وہ اس کوشش میں تھا کہ پاکستان کے مذہبی گروہوں کی حمایت کو بھی اپنی گرہ میں ڈال لے۔ آپ جس قدر رائٹ ونگ پالیسیاں اختیار کریں گے، اس قدر ہی مذہبی انتہا پسند تنظیمیں مضبوط ہوں گی۔

ابسولوٹلی ناٹ: سپریم کورٹ کا فیصلہ

اب اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکتی ہے شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔ ان سے بہتری کی امید رکھنا مشکل ہے۔ شہباز شریف تو ہر صورت نجکاری کو فروغ دے گا۔ تیزی سے سرکاری ادارے بیچنے کی کوشش کرے گا۔ مزید قرضے حاصل کرے گا مگر یہ سب کچھ محنت کش طبقات کے لئے نہیں اپنے سرمایہ دار طبقہ کے لئے۔ ضرورت ہے ایک آزادانہ انقلابی آواز اور تنظیم تعمیر کرنے کی جو ان سرمایہ دار طبقات پر خوش فہمیاں رکھنے کی بجائے بائیں بازو کے نظریات کی تعمیر کرے۔ ایک سے جان چھوٹے گی تو دیکھیں گے کہ نئے حکمرانوں کی کیا چال ڈھال ہے۔ اگر عمرانی وطیرہ رہا جس کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے تو پھر محنت کش طبقات کو منظم کرنے کی مہم پہلے سے بھی زیادہ تیز کریں گے۔

حکمرانوں کی سیاسی قلابازیاں: عام عوام کیلئے کسی کے پاس کچھ نہیں!

عمران خان کا جانا ٹھہر گیا ہے، اس کی وجہ اس کی معاشی پالیسیوں کی شدید عدم مقبولیت اور اس کی انتہائی بری گورننس ہے۔ یہ ایک انتہائی نالائق حکومت ثابت ہوئی ہے۔ جس نے بلا چوں چرا ں آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکے، ان کی تمام شرائط مان لیں۔ مہنگائی کے باعث عوامی ردعمل پر واپسی کا سفر انہیں مزید مہنگا پڑ رہا ہے۔ ابھی بھی آئی ایم ایف ان پر ناراض ہے کہ عمران خان نے وعدہ کے باوجود عوام کے لئے کچھ ریلیف کا اعلان کیوں کیا ہے؟

تحریک انصاف اب ووٹ وننگ عنصر نہیں رہی!

ہمیں اپوزیشن سے بھی کوئی بہتری کی امید نہیں۔ ان کی معاشی پالیسیاں بھی عمران خان طرز کی ہیں۔ ایک سے جان چھوٹے گی تو دوسرے میں پھنس جائے گی۔ اس صورتحال میں ہمیں اپنا متبادل بیانیہ تعمیر کرنا ہے۔
لاہور میں 27 مارچ کو بائیں بازو کی ایک نئی سیاسی طاقت کے ظہور کا دن ہے۔ آئیے! آپ بھی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی بحران اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ اتوار 27 مارچ ناصر باغ لاہور کے عظیم اجتماع میں شرکت کریں۔

بے نظیر سے ہوئی ملاقاتیں اور یادیں

جب 1992ء میں وہ لاہور میں خالد جاوید جان کی کتاب ’میں باغی ہوں‘ کی رونمائی کے لئے آئیں تو ہال کے باھر ہمارا جدوجہد کاسٹال لگا ہوا تھا۔ میں ابھی پہنچا نہ تھا کہ وہ سٹال پر تشریف لائیں میرا پوچھا اور پھر لیون ٹراٹسکی کی ایک کتاب ”فاشزم کیا ہے، اس سے کیسے لڑا جائے“ جس کا ترجمہ خالد جاوید جان نے ہی کیا تھا، کی تما م پچاس کاپیاں اور درجنوں دیگر کتابیں خریدیں۔