Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔


خواتین کیلئے افغان کمیونسٹوں کا دور کہیں بہتر تھا: امریکہ مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کے بعد سے امریکہ کی پوری سیاسی اشرافیہ افغان خواتین کے تاریک مستقبل کے غم میں رنج والم کی تصویر بنی بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظارہ آج سے بیس برس قبل کی صورتحال سے بڑی مماثلت رکھتا ہے جب گیارہ ستمبر کو القاعدہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں امریکہ نے القاعدہ کو فوری ختم کرنے اور افغان خواتین کو طالبان کے ظلم و اِستبداد سے آزاد کرانے کے مقاصد کو افغانستان پر لشکر کشی کے دو کلیدی محرکات کے طور پر پیش کیا تھا۔

عرب بہار کے دس سال

عوامی تحریک، بالخصوص نوجوانوں کی تحریک، جہاں آج کھڑی ہے وہاں سے ترقی پسندانہ اور انقلابی خواہشات کی تکمیل ابھی بہت دور کی منزل ہے۔ دریں اثنا رجعتی عرب نظام اس انقلابی ابھار سے نپٹنے کا بندوبست کر رہا ہے۔ جابر حکمران ایک دوسرے سے اتحاد کر رہے ہیں تا کہ اس انقلابی ابھار کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انقلابی نجات کا راستہ لمبا اور مشکل ہے مگر یہ شعور کہ اگر اس راستے پر نہ چلے تو انجام ذلت و بربادی کے سوا کچھ نہیں، لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ یہ راستہ اختیار کریں۔

ٹرمپ کا دورہ ہند: ایک عرب نقطہ نظر

عراق اور لبنان میں اٹھنے والی حالیہ لہروں کے بعد تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ فرقہ وارانہ عدم رواداری کے خلاف بھی مزاحمت کا ہراول بن گیا ہے۔

اہلِ عراق امریکہ اور ایران دونوں سے نجات چاہتے ہیں

ادھر عراق میں امریکی مخالفت کو اتنی ہوا دینے کے باوجود مظاہرین کو گھر نہیں بھیجا جا سکا۔ مظاہرین ایران سے بھی خفا ہیں اور امریکہ سے بھی۔ وہ ناراض ہیں کہ یہ دونوں ملک عراق کی خود مختاری کو ہڑپ کر گئے ہیں اور دونوں نے عراق کو میدان جنگ بنا رکھا ہے اوردونوں عراق پر حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ شیعہ سنی خلیج کو مٹاتے ہوئے یہ مظاہرے ممکن ہے عراقی مستقبل کا ایک اہم موڑ ثابت ہوں۔

ٹرمپ نے کرد قومی تحریک کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا

سینیٹر برنی سانڈرز نے ٹویٹ کیا:”ایک لمبے عرصے سے میں یہ کہتا آ رہا ہوں کہ امریکہ کو ذمہ دارانہ انداز میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت ختم کر دینی چاہئے مگر ٹرمپ کی جانب سے اچانک شمالی شام سے انخلاکا اعلان اور شمالی شام میں ترک مداخلت کی منظوری غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اس کے نتیجے میں عدم استحکام اور مصائب میں اضافہ ہو گا“۔