Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


پاکستان نیشنل آرٹس کونسل خط اقلیتوں سے متعلق ریاستی پالیسی کا عکاس

یہ تقریری مقابلہ ’جنت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی‘ کے عنوان پر منعقد کروایا جا رہا ہے۔ جموں کشمیر کو جنت ارضی قرار دیتے ہوئے ایک عرصہ سے بنیاد پرست اور عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ جموں کشمیر ایک جنت ہے اور بھارت کافروں کا ملک ہے، جسے جنت کسی صورت نہیں مل سکتی۔

انسداد پولیو مہم کے نام پر پشتونوں کی سٹیرئیو ٹائپنگ

اس کے علاوہ پاکستان کے پولیو ایریڈیکشن پروگرام کے یوٹیوب چینل پر درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں، جن میں پشتون عوام کو پولیو مہم مخالف قراردیا گیا ہے۔ ’پہلا قدم‘ اور ’اڑان‘ کے نام سے دو شارٹ فلمیں بھی بنائی گئی ہیں، جن میں پشتون علاقوں میں لوگوں کی انسداد پولیو ویکسین کے خلاف مزاحمت اور پھر انہیں اس کی حمایت کرنے پر قائل کئے جانے کی کہانیاں بتائی گئی ہیں۔ پولیو سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کے کردار بھی پشتون ہی دکھائے گئے ہیں۔

لالہ لطیف آفریدی کا قتل: جدوجہد کا استعارہ ایک مبینہ سازش کا شکار

عبداللطیف آفریدی پورے پاکستان میں لالہ لطیف کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ کمیونسٹ رہنما، انسانی حقوق کے علمبردار اور آمریت دشمن کے طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ انہیں بعد ازاں پشتون قوم پرست رہنما کے طور پر پہچان ملی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ایسے پہلے پشتون قوم پرست سیاستدان بھی قرار دیا گیا، جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی اور خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف درج تقریباً تمام ہی مقدمات کی پیروی بھی کرتے رہے۔

کشمیر بنے گا ’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘: اربوں کی اراضی 2 لاکھ میں الاٹ

محکمہ جنگلات نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ اراضی پر قیمتی شاہی درخت موجود ہیں۔ پاکستان میں جنگل کا رقبہ پہلے ہی بین الاقوامی معیار سے بہت کم ہے۔ راولاکوٹ شہر کے نواح میں جنگل کی اراضی کو تعمیراتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانے کے سنگین ماحولیاتی اثرات مرتب ہونگے۔ فاریسٹ ایکٹ 2017ء کے مطابق جنگل کا رقبہ صرف قومی مقاصد کیلئے متبادل اراضی فراہم کر کے ہی دیا جا سکتا ہے۔

سوشلسٹ کرنل کی قیادت میں بنگلہ دیش کا ’سپاہی انقلاب‘ جو 2 ہفتے بعد ناکام ہو گیا

’ہمارا انقلاب محض ایک قیادت کو دوسری قیادت سے تبدیل کرنا نہیں ہے۔ یہ انقلاب ایک مقصد کیلئے ہے، یعنی مظلوم طبقات کے مفاد کیلئے۔ اس کیلئے مسلح افواج کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کئی دنوں تک ہم امیر طبقے کی فوج تھے۔ امیروں نے ہمیں استعمال کیا ہے۔ ان کے اپنے مفادات کی 15 اگست کے واقعات ایک مثال ہیں۔ تاہم اس بار ہم نے نہ تو امیروں کیلئے بغاوت کی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے کی ہے۔ اس بار ہم نے ملک کے عوا م کے شانہ بشانہ بغاوت کی ہے۔ آج سے قوم کی مسلح افواج اپنے آپ کو ملک کے مظلوم طبقات کے محافظ کے طور پر استوار کریں گی۔‘

کشمیر کی واحد کامیاب سوشلسٹ کونسلر: ’عوام نے سیاسی اجارہ داری کو شکست دی‘

میں سمجھتی ہوں کہ یہ میری شخصیت کی کامیابی نہیں ہے، یہ انتخابی منشور اور پروگرام کی فتح اور کامیابی ہے۔ لوگوں نے مجھے نہیں بلکہ انتخابی پروگرام کو ووٹ دیا ہے۔ تعصبات اور مال و دولت کی بنیاد پر انتخابات کو ہائی جیک کرنے والوں کا راستہ روکنے کا بھی میرے خیال میں یہی ایک طریقہ ہے کہ نظریات، پروگرام اور جدوجہد کی بنیاد پر لوگوں کو منظم کیا جائے۔

جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات ری شیڈول، سازشیں پھر بھی جاری

جس نئی سیاسی پرت کو سامنے آنے سے روکنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، وہ انتخابی مہم کے دوران نہ صرف سامنے آچکی ہے، بلکہ اپنے سیاسی حق کے حصول کیلئے کمر بستہ بھی نظر آتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے ملتوی ہونے کی صورت میں اس خطہ میں احتجاج کی ایک نئی لہر کا ابھار ہو سکتا ہے۔ یہ احتجاج محض بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے مطالبے تک محدود نہیں رہے گا۔

علی وزیر کو جیل میں رکھنے کیلئے سب ’ایک پیج‘ پر: زر ضمانت 29 لاکھ ہو گیا

علی وزیر اس وقت ایک ایسا انقلابی استعارہ بن چکے ہیں کہ جس کے خلاف حکمران طبقات کے سارے نمائندگان تمام تر آپسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ’ایک پیج‘ پر نظر آ رہے ہیں۔ بظاہر پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برسانے میں پیش پیش ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادتوں کی سیاست ہی ایک دوسرے کے خلاف نظر آتی ہے مگر علی وزیر کے معاملے پر دونوں جماعتوں کی حکومتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا بے مثال مظاہرہ کر رہی ہیں۔

’ماہواری جسٹس‘: سیلاب زدہ علاقوں میں 8 ملین خواتین پیریڈز سپلائیز سے محروم

ماہواری جسٹس مہم‘کے دوران بے شمار مشکلات پیش آئیں اور تنقید کاسامنا کرنا پڑا، تاہم کچھ حوصلہ افزا باتیں بھی تھیں۔ ہم محض 70 ہزار خواتین کو پیریڈ سپلائیز مہیا کر سکے ہیں۔ سیلاب کے آفٹر افیکٹس لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس ایشو پر بات ہونی چاہیے۔ اس قدرتی عمل کو شرمندگی اور گندگی سے جوڑنابند کیا جانا چاہیے، نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر خواتین کے بارے میں پالیسی بنانے میں خواتین کی شرکت کو لازمی کیا جانا ضروری ہے۔

’COP27‘: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے عالمی اہداف مصنوعی، جعلی اور بھونڈے

ماحولیاتی تباہی کے تدارک کے نام پر عالمی ماحولیاتی کانفرنس ’COP27‘ رواں ماہ 06 نومبر کو شروع ہو چکی ہے۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ یہ کانفرنس 18 نومبر تک جاری رہے گی۔ ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے حکمران بیٹھ کر ماحولیاتی آلودگیوں پر ایک بے معنی بحث و تکرار کے بعد کچھ اہداف مقرر کریں گے اور پھر آئندہ کانفرنس کے انعقاد تک چند ایک مستثنیات کے علاوہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ جو اقدامات ماضی میں کیے جانے تھے یا جو آئندہ اہداف لئے جاتے ہیں، وہ محض نمائش سے کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ اس کانفرنس میں زیادہ تر بحث و تکرار ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ داران کے تعین کے گرد ہی رہتی ہے۔