Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


مسلم دنیا کی اپنے نوبل انعام جیتنے والوں سے دشمنی کیوں؟

پاکستان کے لوگوں نے اپنی دونوں نوبل انعام یافتہ شخصیات کو متفقہ طور پر ہیرو کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اگر ڈاکٹر سلام کو ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے مسلسل ریاستی و معاشرتی بے حسی کا سامنا ہے تو ملالہ کا نام سنتے ہی دائیں بازو کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

شکار پور: امداد شہروں تک محدود، گوٹھ بیماری، بھوک و لاچاری کے مسکن

’کسانوں اور ہاریوں کو ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ راشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں اور دیہاتیوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے مچھر مار سپرے اور طبی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے ان دیہاتوں کے باسیوں کو بچایا جا سکے۔‘

الیکشن جنوری میں، اگلی حکومت خان کی؟

پس نوشت: نیرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روم جل رہا تھا، وہ بانسری بجا رہا تھا۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اور اس کا پالتو میڈیا عصر حاضر کا نیرو ہے۔ ملک جل تو نہیں رہامگرڈوب ضروررہا ہے، ایوان اقتدار میں بیٹھے نیروایکسٹینشن کی بانسری بجا رہے ہیں۔

’عالمی قوائد کے مطابق سیلاب زدہ پاکستان بیرونی قرضے واپس دینے سے انکار کر سکتا ہے‘

عبدالخالق کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے قواعد موجود ہیں جن کی بنیاد پر آفت زدہ ملک اپنے قرضے دینے سے انکار کر سکتے ہیں، یا کم از کم موخر کرنے کیلئے بات چیت کا آغاز کر سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے حکمران ایسی جرات کرنے کی بجائے مزید قرض لینے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ قرض دینا عالمی مالیاتی اداروں کا کاروبار ہے، وہ اس کاروبار کو نقصان نہیں ہونے دے سکتے، اس لئے پاکستان جیسے ملکوں کو وہ دیوالیہ نہیں ہونے دیتے، بلکہ پالیسیوں پر اثر انداز ہوکر خودمختاری پر کمپرومائز کرواتے ہیں اور قرضوں کا یہ کاروبار جاری رکھتے ہیں۔ عبدالخالق ادارہ برائے سماجی و معاشی انصاف (ISEJ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور دنیا بھر میں ناجائز قرضوں کے خاتمے پر کام کرنے والے نیٹ ورک ’CADTM‘ کے رکن ہیں۔ پاکستان میں ناجائز اور غیر قانونی قرضوں کے خاتمے کی تحریک میں سرگرم ہیں۔

دادو میں شہریوں نے خود بند باندھ کر تحصیل جوہی کو بچا لیا

صدام مصطفی کہتے ہیں کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیلوں میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جہاں سیلابی پانی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں، وہیں حکومتی بے حسی اور انتظامی اداروں کی نااہلی کے خلاف سراپا احتجاج بھی ہیں۔ سیلابی پانی داخل ہونے کے خطرات سے دوچارشہروں اور دیہاتوں کو محفوظ بنانے کے علاوہ متاثرین کو فاقوں اور بیماریوں سے مرنے سے بچانے کیلئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ صدام مصطفی دادو شہر کے رہائشی ایک سوشلسٹ رہنما ہیں، وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (پی ٹی یو ڈی سی) کے ساتھ منسلک ہیں۔ گزشتہ روز سیلابی صورتحال سے متعلق ان کا ایک مختصر انٹرویو کیا گیا، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخواہ:’10 سال پہلے روز گن شپ ہیلی کاپٹر مارنے آتے تھے، اب سیلاب سے بچانے کوئی نہیں آیا‘

رکا ہوا پانی نکالنے اور تعمیر نو و بحالی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فوری طور پر تو رکا ہوا پانی نکالنے کیلئے واٹر پمپنگ کرنے کے ساتھ ساتھ بند نالوں اور ندیوں کو کھولنے کی ضرورت ہے۔ تعمیر نو اور بحالی کیلئے فوری طور پر مواصلات کے شعبے کو جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیلاب کی نظر ہونے والے مکانات کی تعمیر کرنے کے علاوہ دیگر ریلیف کی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کرنی چاہئیں۔ اندرون و بیرون ملک سے جمع ہونے والی امدادی رقوم کو بنا خرد برد کے سیلاب زدگان کی بحالی و آبادکاری پر صرف کیا جانا چاہیے۔

’سرائیکی خطہ مکمل تباہ ہو گیا ہے، حکومت اور بڑی سیاسی جماعتیں غائب ہیں‘

جنوبی پنجاب اور سرائیکی خطہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ دو مرکزی اضلاع ڈی جی خان اور راجن پور کی تمام تحصیلیں سیلاب کی زد میں ہیں، مجموعی طو رپر کوئی ایسی جگہ نہیں جو محفوظ ہو، ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ شہروں تحصیل ہیڈکوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کو کسی حد تک پانی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے، اکثر شہروں میں بھی پانی داخل ہوا ہے۔ تاہم اس طرح کے نقصانات نہیں ہوئے۔ باقی تمام دیہات اور شہروں کے نواحی قصبے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، مویشی ہلاک ہو چکے ہیں، مکانات پانی میں ڈوب کر گر چکے ہیں۔ لوگوں کا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور لوگوں کی حالت اس وقت بہت تکلیف دہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کا زمینی صورتحال سے اس لئے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ ابھی تک حکومتی ادارہ کوئی بھی سیلاب متاثر ہ علاقوں تک مکمل رسائی ہی حاصل نہیں کر سکا ہے، ہواؤں میں ہی اعداد و شمار بنائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔

سندھ: ’لاشیں دفنانے کیلئے بھی خشک زمین میسر نہیں، وزیر اعلیٰ، بلاول بھٹو خالی ہاتھ دورے کر رہے ہیں‘

ہم سمجھتے ہیں کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے یہ حکمران سیلاب یا کسی بھی نو ع کی آفات اور انسانی سانحات میں متاثر ہونے والے انسانوں کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے اقدامات کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ ان حکمرانوں کیلئے ہر قدرتی آفت اور سانحہ لوٹ مار اور منافعے نچوڑنے کا ایک راستہ اور ایک امکان لے کر آتاہے۔ پانی کو چینلائز کرنے کیلئے بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جو اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اس بوسیدہ ریاستی ڈھانچے میں ممکن ہی نہیں ہے۔

سیلاب سے مزید 10 اموات، کل 830 ہلاکتیں

پاکستانی شمالی اور جنوبی علاقوں میں مون سون کی بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 10 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک بچوں اور خواتین سمیت 830 افراد ہلاک اور 1348 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار سرکاری ہیں، آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں اور نقصانات کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک بہت سے علاقوں تک رسائی ہی نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے اصل صورتحال کی معلومات حاصل کی جا سکے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 1 کروڑ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں۔