Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


جموں کشمیر پر قبائلی حملہ: 74 سالہ ’زخموں‘ سے نجات خود انحصاری کی متقاضی!

رواں سال 22 اکتوبر کو جموں کشمیر پر قبضے کی غرض سے پاکستانی ریاست کی ایما پر ہونے والے منظم قبائلی حملے کو 74 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں ابھی تک اس واقع کو متعدد مرتبہ کریدہ جا چکا ہے اور ہر مرتبہ وحشت و بربریت کی ایک نئی داستان ان واقعات کی ہولناکی میں اضافہ ہی کرتی آئی ہے۔

سید علی شاہ گیلانی کی وصیت پر مبنی ویڈیو سامنے آنے کے بعد حریت کانفرنس میں دراڑیں

حریت کانفرنس پاکستان چیپٹر میں وہ سید علی گیلانی کے نمائندے کے طور پر نامزد ہوئے تو ذرائع کے مطابق انہوں نے ہی حریت رہنماؤں کی بدعنوانیوں، میڈیکل، انجینئرنگ سمیت دیگر تعلیمی نشستوں کی فروخت سمیت پراپرٹی کی تفصیلات سید علی گیلانی تک پہنچائیں جس کے بعد اکثر اوقات سید علی گیلانی حریت نمائندوں پر تنقید اور اصلاح کی اپیل کرتے رہے ہیں۔

افغانستان سے امریکی انخلا: کیا جموں کشمیر پھر سے اکھاڑا بننے جا رہا ہے؟

جموں کشمیر پر فوجی قبضے اور جبر کے سائے تلے پلنے والی غربت، لا علاجی، جہالت اور معاشی و سماجی عدم استحکام کے خلاف جدوجہد کے راستے میں اپنا سب کچھ کھو دینے والے کشمیریوں کی نئی نسل جوان ہو رہی ہے۔ ماضی کے تجربات سے سبق بھی سیکھ رہی ہے اور ترقی پسند نظریات سے روشناس بھی ہو رہی ہے۔ انقلابی نظریات کی ماضی کی تاریخ پھر سے دہرائے جانے کا وقت قریب تر ہے۔ تمام تر نفرت اور حقارت کو مرتکز کرتے ہوئے انقلابی نظریات کا دامن تھامنے والے نوجوانوں کی پکار پورے برصغیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت اور اہلیت کی حامل ہو گی۔ محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام ہی خطے کی محکوم قومیتوں اور محروم طبقات کی معاشی، سیاسی اور سماجی آزادیوں کا ضامن ہو گا۔

’نیا طالبان‘ اسکول آف جرنلزم

افغان صحافی زکی دریابی نے ٹویٹ میں بتایا کہ بدھ کے روز خبررساں ادارے اطلاعات روز کے 5 صحافیوں کو طالبان کی جانب سے حراست میں لیا یا اور ان میں سے 2 کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

طالبان حکومت: وزیر اعظم سمیت 14 وزرا دہشت گردوں کی عالمی بلیک لسٹ میں شامل ہیں

طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عبوری حکومت کے وزیر اعظم سمیت کم از کم 14 اراکین اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کیلئے مرتب کردہ بلیک لسٹ میں شامل ہیں، وزیر داخلہ امریکہ کی مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں اور انکے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی جیل گونتاناموبے سے ایک امریکی فوجی اہلکار کی طالبان کی قید سے رہائی کے بدلے میں رہائی پانے والے 5 طالبان رہنما بھی عبوری حکومت میں شامل ہیں۔

پاکستان نواز ہیں نہ الحاق پاکستان کے حامی: جماعت اسلامی جے کے

جماعت اسلامی کے انہی جرائم کی وجہ سے آج بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھارتی ریاست جبر سے نجات کی تحریک نہ صرف مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو گئی بلکہ ویلی کشمیر کے کل 6 اضلاع میں سے اڑھائی اضلاع سے بھی کم علاقے تک محدود ہو کر رہ گئی۔

علی گیلانی کی سیاست نا قابل حمایت: ایک ترقی پسندانہ موقف

جماعت اسلامی اور سید علی شاہ گیلانی جیسے ان پراکسی کرداروں نے جموں کشمیر میں محض مذہبی اور علاقائی تعصبات اور تقسیم کی ہی بنیاد نہیں رکھی بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم کی بھی بنیادیں رکھیں اور بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو انڈر گراؤنڈ ہو کر زندگی گزارنے پر ہی مجبور نہیں کیا بلکہ حکومت پاکستان سے بھی وقتاً فوقتاً مطالبہ کیا جاتا رہا کہ سیکولر اور سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

سید علی گیلانی: کشمیر میں پراکسی جنگ کا ایک عہد تمام ہوا!

سامراجی ریاستوں کے پراکسی ہرکاروں کا کبھی بھی کردار یکطرفہ نہیں رہا ہے، انہوں نے ہمیشہ دونوں ریاستوں کے ساتھ ساز باز کا راستہ اختیار کیا ہے، دونوں اطراف سے مال کمانے اور تحریک کو فروخت کرنے کا راستہ اختیار کیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف بھارتی ریاست کی جانب سے سید علی شاہ گیلانی کی وفات پرپوری وادی پرخوف، جبر اور پابندیوں کی فضاء مسلط کر رکھی ہے، دوسری طرف سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر جن جرائم سے پردہ اٹھانے کی ضرورت تھی،ان جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے انکی شخصیت کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ریاستی کوشش کی جا رہی ہے۔

دنیا کی 10 امیر ترین دہشت گرد تنظیمیں: داعش پہلے، طالبان 5 ویں نمبر پر

ایک وقت میں بہت بڑی طاقت سمجھی جانیوالی القاعدہ چھٹے نمبر پر ہے جبکہ حیران کن طور پر لشکرطیبہ کو دنیا کی ساتویں امیر ترین دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے جبکہ نائیجیریا کی ’بوکو حرام‘ دسویں نمبر پر موجود ہے۔

افغانستان بھر میں طالبان مخالف مظاہرے، فائرنگ سے متعدد ہلاک

کابل کے مختلف علاقوں، ننگر ہار، جلال آباد، پکتیا، کنڑ اور خوست سمیت دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جانے کے علاوہ بیرون افغانستان بھی طالبان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز بلجیم میں بھی ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا جس میں سیکڑوں افغان نوجوانوں اور خواتین نے شرکت کی۔