Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


سعودی عرب میں حکومتی وفد کیخلاف نعرے بازی کرنیوالے 5 گرفتار

یہ واقعات جہاں پاکستانی سیاست میں پولرائزیشن اور عدم برداشت کے حد سے زیادہ بڑھ جانے کی غمازی کرتے ہیں، وہیں ریاست کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کی گہرائیوں کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

اگر سعودی عرب میں کیا جانے والا اقدام عمران خان کی ایما پر کیا گیا ہے (جس کے قوی امکانات موجود ہیں) تو یہ تحریک انصاف کی قیادت کے سیاسی بانجھ پن اور فسطائی رجحان کے دوبارہ طاقت حاصل کرنے کیلئے پاگل پن کی حد تک جانے کے عزائم کو ظاہر کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں حکومت ٹوٹتے ہی مظفر آباد سرکار کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ’بظاہر‘جمہوری اور غیر جمہوری طریقوں سے حکومتیں تبدیل کئے جانے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ابتدائی حکومت کے قیام سے ہی حکومت پاکستان کی مداخلت اور مقامی اقتدار کو قابو میں رکھنے کیلئے اس طرح کی حکمت عملی ترتیب دی جاتی رہی ہے کہ مارشل لا کے ایک 10 سالہ دور کے علاوہ کوئی حکومت بھی اپنے آپ کو مکمل بااختیار قرار دے کر اپنی مدت مکمل نہیں کر سکی۔ کئی حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی گرا دی گئیں، یا پھر انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جاتا رہا ہے۔

قصہ دو تقریروں کا

علی وزیر، عمر خالد سمیت مقدمات میں الجھا کر جیلوں میں بند کئے جانے والے محنت کش طبقے اور نوجوانوں کے نمائندوں، جبری طور پر گمشدہ کئے گئے اور ماورائے عدالت ہلاک کئے گئے ہزاروں سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں انصاف دلانے کیلئے طبقاتی تفریق اور جبر پر مبنی اس نظام کے خلاف جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔

مولانا فضل الرحمان محسن داوڑ سے خوفزدہ کیوں؟

مولانا فضل الرحمان کی سیاست مذہب، پدر شاہی، قدامت پرستی اورطالبان کے سرعام حمایت پر مبنی ہے۔ دوسری طرف محسن داوڑ سیکولر سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ باچا خان کی سیاست، انسان دوست روایات کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہیں اور طالبان کے انتہائی مخالف اور ناقد ہیں۔

جموں کشمیر: اسمبلی اجلاس کی کارروائی پر عدالتی جنگ شروع

روز مرہ ضروریات کے حصول کی تگ و دو میں غرق اس خطے کے محنت کش اور نوجوان حکمرانوں کی اس سیاست سے نہ صرف لاتعلق اور بدظن ہو رہے ہیں بلکہ وہ وقت بھی دور نہیں جب وہ اس سیاست اور اقتدار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مقدر اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہونگے۔

مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، جلد صورتحال واضح ہو جائیگی: علی وزیر

ایسے مضحکہ خیز مقدمات بھی ہیں کہ جن لوگوں نے ہمیں چائے پلائی، یا مختصر وقت میں ان کے گھر پر رکے، یا پھر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوائی ہو، ان پر مقدمہ بنا دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے چائے کی دعوت میں بیٹھ کر بغاوت یا غداری کا منصوبہ بنایا۔ گھر میں بیٹھ کر یہ منصوبہ بنایا گیا، یا پھر منصوبہ بنانے کے بعد تصویر بنائی گئی۔ جمہوری حقوق مانگنے والوں کو ہراساں کرنے کیلئے اس حد تک چلے جانا تشویشناک عمل ہے۔

جموں کشمیر: عبدالقیوم نیازی بطور وزیر اعظم ’عید‘ منا سکیں گے؟

وزیر اعظم پاکستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے وزیر اعظم عبدالقیوم خان نیازی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کئے جانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔

’حکومت سے امید نہ اپوزیشن سے، عمران کو ہٹانے کے لئے ناگزیر ہوا تو عدم اعتماد کروں گا‘

اپوزیشن نے ہی رابطہ کیا تھا۔ اپوزیشن کے اجلا س میں مجھے بلایا گیا تھا، لیکن میں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اپوزیشن کے لوگ میرے پاس آئے تھے۔ میں نے انہیں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ حکمرانوں کے مفادات کی لڑائی اپنی جگہ پر ہے، ہم ایسے لوگ نہیں ہیں۔ میں آپ لوگوں سے عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے کوئی توقع نہیں رکھتا، نہ ہمارے کوئی مفادات ہیں اور نہ کسی چیز کی لالچ ہے۔ ہم نے جو وقت گزارنا تھا، جیسا تیسا گزار لیا ہے۔ جب بھی موقع ملا میڈیا پر بھی آؤں گا اور عوام کے پاس بھی جاؤں گا، جب تک مسائل حل نہیں ہوتے، تب تک آواز اٹھاتا رہوں گا۔