Lal Khan

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔


انسانوں کے درمیان پیسے کے رشتے

’’لو میرج‘‘ اور ’’ارینج میرج‘‘ کی اصطلاحات بے معنی ہوگئی ہیں کیونکہ شادی والدین طے کریں یا لڑکا لڑکی کی اپنی مرضی سے ہو، فیصلہ کن کردار دولت کا ہی ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی: رحمت یا زحمت؟

’’گیجٹس‘‘ سے لاحق ہونے والی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے ہٹ کر بھی بات کی جائے تو موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے گرد گھومتی ہوئی زندگیاں، روح کی غربت کا اظہار ہیں۔

سرمایہ داری صحت کے لئے مضر ہے!

دواساز کمپنیوں کا مقصد مرض کا علاج نہیں بلکہ منافع ہے۔ ایک دواسازکمپنی کیلئے مرض میں مبتلا انسان کسی طور ایک ’’مریض ‘‘نہیں ہوتا بلکہ ایک ’’گاہک‘‘ ہوتاہے۔

کیا انسان فطرتاً لالچی ہے؟

انسان کی قوتِ محرکہ کیا ہے؟ اس کے متعلق سرمایہ داری کی سمجھ بوجھ نہ صرف انتہائی تنگ نظر بلکہ انسان دشمن ہے۔

انسان انسانوں میں بھی کتنا اکیلا ہے!

بیگانگی اور تنہائی کا مسئلہ بنیادی طور پر انفرادی یا شخصی نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی معاشرتی مسئلہ ہے جو اس نظام زر اور اس کے بحران سے پورے سماج کو لاحق ہے۔

بالشویک انقلاب آج بھی واحد راہِ نجات!

صرف بالشوازم کے نظریات، طریقہ کار اور حکمتِ عملی پر مبنی انقلاب ہی اس اذیت اور محرومی کے خاتمے میں فتح یاب ہو سکتا ہے۔ سرمایہ داری عالمی سطح پر اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ آنے والے تاریخی عہد میں حکمران طبقات لرز اٹھیں گے کیونکہ عوام اپنی تقدیر بدلنے کے لئے تاریخ کے میدان میں اترنے کو ہیں۔

سٹیل مل کا مقدر؟

اس ملک کی تمام صنعت، زراعت اور اقتصادیات کو ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے منصبوبہ بند معیشت میں استوار کرکے منافع خوری اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

’آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہئے‘

”انقلاب کیلئے جذباتیت یا خون خرابے کی بجائے مستقل مزاجی سے کی جانے والی جدوجہد، پیش قدمی اور قربانی چاہیے۔ سب سے پہلے ذاتی تسکین کے خوابوں سے چھٹکارا پانا ہو گا… مشکلات اور مصائب آپ کو مایوس نہ کریں۔ نہ ہی ناکامی اور غداریوں سے دل برداشتہ ہوا جائے۔ جتنی بھی مشقت کرنی پڑے، آپ کے اندر کا انقلابی مرنا نہیں چاہیے۔ ان امتحانات سے گزر کر ہی آپ کامیاب ہو ں گے اورآپ کی فتح ہی انقلاب کا اثاثہ ہو گی“۔

پاکستان میں طلبہ سیاست کی تاریخ و تناظر

طلبہ کی تحریکوں کا انقلابات میں ایک اہم ابتدایہ کا کردار بنتا ہے۔ شاید اسی صورت حال کو مدِ نظررکھتے ہوئے ٹراٹسکی نے یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ طلبہ درختوں کی بلند ٹہنیوں کی طرح ہوتے ہیں جو آنے والے انقلابی طوفانوں میں سب سے پہلے جھولنے لگتی ہیں اوران انقلابی ہواؤں کی آمد کا پیغام دیتے ہیں۔