Nasir Iqbal

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔


عمران حکومت کا خاتمہ : ایک مختلف نقطہ نظر

قبل از وقت انتخابات کا عمرانی مطالبہ اپنی جگہ مگر اس وقت ملکی حکمران طبقات کی اپنی ضرورت بنتی ہے کہ جنرل الیکشن جلدی ہو جائیں اس لیے غالب امکان ہے کہ جون کے مہینے یعنی بجٹ کے بعد الیکشن کی صورت بن سکتی ہے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا تعارف اور جدوجہد

اس وقت پاکستان کسان رابطہ کمیٹی بے زمین کسانوں، مزارعین، کھیت مزدوروں، ہاریوں، چھوٹے پیمانے کے کاشتکاروں اور زراعت سے متعلقہ دیگر افراد اور طبقات کا ملک گیر سطح پر نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ 2003ء میں چشتیاں کسان کانفرنس کے موقع پر رابطہ کمیٹی کاباقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا۔ ”جہیڑا واوے اوہی کھاوے“ اور اپنی مدد آپ کے نعروں کے تحت ملک کے تمام استحصال زدہ کسانوں کے ہر قسم کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ پرامن جمہوری اور آئینی و قانونی جدوجہد کا طریقہ کار مسلسل اختیار کیا گیا۔ کمیٹی ارکان میں کسان ذاتی، علاقائی یامقامی تنظیموں اور کوآپریٹو سوسائٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ تمام فیصلے ارکان کی باہمی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے یا کثرت رائے کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔

یوکرائن پر حملہ: سپر پاور بننے کیلئے روس کی آخری کوشش

آج یوکرائن پر روسی یلغار کو ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے او ر معاملہ کسی بہتر حل کی طرف جاتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ حسب معمول میڈیا اور سوشل میڈیا پر انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا بازار گرم ہو چکا ہے اور متضاد قسم کی خبروں کا چلن عام ہو گیا ہے اور صورتحال یہ ہے کہ کسی کو بھی حتمی خبر کی خبر نہیں ہے۔ اس سارے قضیے میں صرف ایک بات ہی اچھی اور حتمی ہے اور وہ یہ ہے کہ یوکرائن کی عوام نے اپنی آزادی کی بقا کی ٹھان لی ہے۔ اس سلسلے میں ہم پاکستانی میڈیا کو مستثنیٰ کرتے ہیں کیونکہ ان کے تئیں عمران خان اور اپوزیشن کی لڑائی ہی دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ا یشوز ہیں۔

جمہوریت کا تقاضہ ہے: طلبہ یونینز بحال کی جائیں

رواں سال میں ان تنظیموں نے ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس اور لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنے کا پرگرام دیا۔ چنانچہ پروگرام کے عین مطابق9 فروری سے دھرنا جاری ہے جو کہ پنجاب حکومت سے بامعنی مذاکرات اور مطالبات منوا کر ختم ہو گا۔

”روس یوکرائن جنگ“ کے امکانات

ممالک کی ڈپلومیٹک کاوشوں اور نیک تمناوؤں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس وقت دنیا میں ایک بڑی جنگ اور جنگی جنون مخالف تحریک کی اشد ضرورت ہے اور اس وقت تک ضرورت ہے جب تک دنیا سے جنگی جنون مکمل طور پر رخصت نہ ہو جائے۔ بڑے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے لیڈر اور ممالک انا، ماضی پرستی اور چھوٹے چھوٹے تجارتی مسائل کو حل کرنے کے لیے توپیں اٹھا کر چل پڑتے ہیں۔

سمندر پار پاکستانی اور ملکی سیاست

ووٹ کے حق کا مسئلہ دوہری شہریت یا ان پاکستانیوں کا مسئلہ ہے جو پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ یہ مسئلہ ایک اہم مگر نہایت بحث طلب مسئلہ ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔

دنیا کا مستقبل سیاسی کارکنان کے ہاتھوں میں ہے

ہم خاصی تحقیق کے بعد ذمہ داری سے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جناب ذالفقارعلی بھٹو اکیلے پھانسی نہیں لگے تھے بلکہ تمام جیالے بھی اپنی اپنی گردن اور جثے کے تناسب کے بلیدان ہو گئے۔

سوشلزم سے مایوسی سوچ کے بند گلی میں بند ہو جانے کانام ہے

ہماری ترقی پسندوں سے یہی گذارش ہے کہ وہ مایوسی کے اندرونی عوامل پر توجہ دیں، انہیں ٹھیک کریں اور یقین رکھیں کہ اس کا م کے لیے کسی بجٹ یا سرمائے کی ضرورت نہیں ہے۔ باقی کا کام سائنس اور فلسفے نے کرنا ہے اور وہ پہلے ہی سے بہت اچھا کر رہے ہیں۔