Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔


پاکستان میں یونیورسٹی تعلیم کے 75 سال

میری خواہش ہے کہ پاکستانی پروفیسر ایک اخلاقی کمیونٹی تشکیل دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی طالب علم کو سوائے اس کی تعلیمی کارکردگی کے، کسی اور بنیاد پر نہ تو سزا دی جائے گی نہ کوئی فائدہ۔ جب کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہوتو تسلیم کرو کہ اس سوال کا جواب معلوم نہیں۔ یہ مت ظاہر کرو کہ سب معلوم ہے۔ اس وقت تک کوئی مقالہ شائع مت کرو جب تک کوئی نیا زاویہ نگاہ پیش نہیں کیا جا رہا، اگر کوئی پروفیسر دوست پکڑا جائے تو اس کا ساتھ نہ دو، جب تک اپنی تنخواہ حلال مت کرو، تب تک تنخواہ مت لو۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات نا منطور

اے اراکین پارلیمان! قبل اس کے کہ تمہاری کوئی وقعت باقی نہ رہے، جاگو!
اے افواج پاکستان! باقی سب کام چھوڑ کراپنا فرض نبھاؤ اور پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کرو۔
ہم تمہیں سیلوٹ کریں گے۔

شہباز شریف سرکاری ملازمین کی آئی ایس آئی سے سکرینگ کا فیصلہ واپس لیں

آئی ایس آئی کی بہت تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بہت فعال ادارہ ہے۔ اس کے باوجود آئی ایس آئی کی اس حوالے سے کوئی تربیت موجود نہیں کہ وہ پاکستان کو خوش حال بنا دے اور عالمی سطح پر پاکستان کو ایک طاقتور ملک بنا دے۔ اس کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ زیادتی ہے۔ شہباز شریف اپنا فیصلہ واپس لیں۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت یہی ہے کہ یہاں ایک ایسی جمہوریت چلتی رہے جس میں فرشتے ووٹ نہ ڈالیں۔

ریاست پاکستان کی بنیادیں لرز رہی ہیں

ایک کٹھن وقت ہمارا منتظر ہے۔ سمندری طوفان کے دوران چٹان کے قریب بحری جہاز کا ہونا خوفناک ہوتا ہے۔ اور بھی خطرے کی بات ہے کہ جہاز کا عملہ جہاز کو بچانے کی بجائے باہم دست و گریباں ہے۔ اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ منزل کا ہی پتہ نہیں۔ پاکستان کو اپنی منزل کا از سر نو تعین کرنا ہو گا۔ جب تک ہم ملٹری ازم، آبادی اور تعلیم کے مندرجہ بالا خوفناک مسائل حل نہیں کرتے، ہمیں مستقبل سے پرُامید ہونے کاحق نہیں ہے۔

ہر گوبند کھرانہ بھی ہمارا ہیرو ہے

وائے افسوس! لاہور اپنے اس سپوت سے بے خبر ہی نہیں، لاہور کو ان کے بارے جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔ لاہور کو اپنے ایک اور سپوت، نوبل انعام یافتہ سائنس دان سبرامنین چند ر شیکھر (1910-1995ء)، بارے بھی کوئی علم نہیں۔

المطوع کی آمد…بھاگو!

عمران خان کی قیادت میں البتہٰ پاکستان کسی اور ہی سمت میں گامزن ہے۔ موجودہ حکومت کے لاگو کردہ یکساں قومی نصاب پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لئے سرکاری اور نجی سکولوں پر مذہبی پولیس سے چھاپے مروائے جا رہے ہیں۔پاکستانی طرز کے مطوع جنم لے رہے ہیں۔

یکساں قومی نصاب والو: افغانستان سے کچھ سیکھو!

پاکستان کے رہنماؤں (بالخصوص وزیر اعظم اور ان کے وزیر تعلیم) کو پاکستان کے تعلیمی نظام کو مزید تباہ کرنے سے پہلے افغانستان کے ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یکساں قومی نصاب کے نام پر آنے والی تبدیلی سے تعلیمی عدم مساوات تو برقرار ر ہے گی مگر معیارِ تعلیم مزید گر جائے گا۔ جدید دنیا میں پاکستان کی شراکت ختم ہو جائے گی لیکن ہمارے قومی رہنما صرف احکامات دیتے ہیں۔ وہ سوچتے، سنتے یا پڑھتے نہیں۔ بیس سال بعد پاکستانی پوچھیں گے: ان لوگوں نے کیا میراث چھوڑی ہے؟

کیا طالبان سد ھر گئے ہیں؟

بدلے ہوئے طالبان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس بار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی توجیہہ و تشریح اتنی سخت نہیں ہو گی۔ کیا عام طالبان بھی اس سے متفق ہوں گے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں البتہ اس جنگجو طالبان کے رہنما، جو دہائیوں سے غیر ملکی امداد اور بھتوں پر گزارا کر رہے تھے، خوب سمجھتے ہیں کہ معاشی ضرورتیں تبدیلی کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

افغانستان کا بیڑا کس نے غرق کیا؟

اگر افغانستان کو کبھی ایک جدید ملک بننا ہے تو اس پر ایک ایسے آئین کے تحت حکمرانی ہونی چاہیے جس میں اسلامی بنیادی اقدار کے ساتھ اظہار رائے، انتخابات، طاقت کی تقسیم اور انسانی حقوق کی آزادی ہو۔ جن وحشی لوگوں نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا ہے وہ ملک کو ایک تباہی سے دوسری تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ دسمبر 2014 ء میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کو ذبح کرنے والے پاکستانی طالبان اور افغان طالبان نظریاتی بھائی ہیں۔ ایک کابل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے (اور ممکنہ طور پر کر بھی لے گا) جبکہ دوسرا اسلام آباد پر نظریں جمائے بیٹھا ہے مگر ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے کی بجائے افغانستان میں آئین پر مبنی جمہوریت ہی پاکستان کے طویل مدتی مفادات کیلئے مفید ثابت ہو گی۔