Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔


ہر گوبند کھرانہ بھی ہمارا ہیرو ہے

وائے افسوس! لاہور اپنے اس سپوت سے بے خبر ہی نہیں، لاہور کو ان کے بارے جاننے میں کوئی دلچسپی بھی نہیں۔ لاہور کو اپنے ایک اور سپوت، نوبل انعام یافتہ سائنس دان سبرامنین چند ر شیکھر (1910-1995ء)، بارے بھی کوئی علم نہیں۔

المطوع کی آمد…بھاگو!

عمران خان کی قیادت میں البتہٰ پاکستان کسی اور ہی سمت میں گامزن ہے۔ موجودہ حکومت کے لاگو کردہ یکساں قومی نصاب پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لئے سرکاری اور نجی سکولوں پر مذہبی پولیس سے چھاپے مروائے جا رہے ہیں۔پاکستانی طرز کے مطوع جنم لے رہے ہیں۔

یکساں قومی نصاب والو: افغانستان سے کچھ سیکھو!

پاکستان کے رہنماؤں (بالخصوص وزیر اعظم اور ان کے وزیر تعلیم) کو پاکستان کے تعلیمی نظام کو مزید تباہ کرنے سے پہلے افغانستان کے ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یکساں قومی نصاب کے نام پر آنے والی تبدیلی سے تعلیمی عدم مساوات تو برقرار ر ہے گی مگر معیارِ تعلیم مزید گر جائے گا۔ جدید دنیا میں پاکستان کی شراکت ختم ہو جائے گی لیکن ہمارے قومی رہنما صرف احکامات دیتے ہیں۔ وہ سوچتے، سنتے یا پڑھتے نہیں۔ بیس سال بعد پاکستانی پوچھیں گے: ان لوگوں نے کیا میراث چھوڑی ہے؟

کیا طالبان سد ھر گئے ہیں؟

بدلے ہوئے طالبان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس بار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی توجیہہ و تشریح اتنی سخت نہیں ہو گی۔ کیا عام طالبان بھی اس سے متفق ہوں گے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں البتہ اس جنگجو طالبان کے رہنما، جو دہائیوں سے غیر ملکی امداد اور بھتوں پر گزارا کر رہے تھے، خوب سمجھتے ہیں کہ معاشی ضرورتیں تبدیلی کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

افغانستان کا بیڑا کس نے غرق کیا؟

اگر افغانستان کو کبھی ایک جدید ملک بننا ہے تو اس پر ایک ایسے آئین کے تحت حکمرانی ہونی چاہیے جس میں اسلامی بنیادی اقدار کے ساتھ اظہار رائے، انتخابات، طاقت کی تقسیم اور انسانی حقوق کی آزادی ہو۔ جن وحشی لوگوں نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا ہے وہ ملک کو ایک تباہی سے دوسری تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ دسمبر 2014 ء میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کو ذبح کرنے والے پاکستانی طالبان اور افغان طالبان نظریاتی بھائی ہیں۔ ایک کابل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے (اور ممکنہ طور پر کر بھی لے گا) جبکہ دوسرا اسلام آباد پر نظریں جمائے بیٹھا ہے مگر ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے کی بجائے افغانستان میں آئین پر مبنی جمہوریت ہی پاکستان کے طویل مدتی مفادات کیلئے مفید ثابت ہو گی۔

چائنا سے کیا سیکھا جائے؟

چین اور پاکستان میں کچھ باتیں یقینا مشترک بھی ہیں، خصوصاً یہ کہ دونوں ملک اپنی اپنی مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق پامال کرتے ہیں۔ وہ وہاں مسلمانوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں اور یہاں غیر مسلم ہمارے عتاب کا شکار ہیں۔ لیکن بہرحال چین نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ایک تیسری دنیا کا ملک پہلی دنیا میں نہ صرف داخل ہو سکتا ہے، وہ طاقت کی چوٹیوں کو بھی چُھو سکتا ہے۔ یقینا اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

کیا پاکستان کو ایسی شرم و حیا کی ضرورت ہے؟

سعودی عرب اور خلیجی ممالک دنیا کے سب سے زیادہ قدامت پسند ممالک ہوتے تھے جبکہ پاکستان زیادہ آزاد اور نرم مزاج ممالک میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ صورتحال اب بدل گئی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف ریورس گیئر میں ہے بلکہ زیادہ تیزی سے قدامت پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں پی ٹی آئی کے نصاب تعلیم کے متاثریں جتنے مجہول اور جاہل ہوں گے، اس کی ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔

کیا او آئی سی فرانس سے لڑائی مول لے گی؟

وزیر اعظم صاحب! ہم آپ سے متفق ہیں کہ فرنچ لوگ بہت برے، توہین مذاہب کا ارتکاب کرنے والے اور سیکولرازم کے مارے ہوئے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کتنے ہی مسلمان، بالخصوص پاکستان کے شہری، فرانسیسی ویزہ لینے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مسلمان فرانس میں رہ رہے ہیں۔ کوئی فرانس یا یورپی یونین چھوڑنے پر تیار نہیں۔

گھر سیدھا کرنے کی پہلی کوشش: اسلام آباد میں صوفے نذر آتش

صوفوں کی آتش زنی نے 2007ء کی یادیں تازہ کر دیں جب ہمارے فوجی اور سپاہی موت کی بھینٹ چڑھے۔ اس کے باوجود تک آج تک مولانا عبدالعزیز یا ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں ہو سکی۔ عام ریاستیں یہ اجازت نہیں دیتیں کہ اپنے شہریوں کے قاتل کو آزاد گھومنے دیں یا ان قاتلوں کو ایسے ادارے چلانے دیں جہاں سے مزید قاتل پیدا ہوں۔ چودہ سال گزر گئے، اسلام آباد کا یہ اہم معمہ حل نہیں ہو سکا۔