Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


مجید امجد: ایک نظم، ایک غزل

انہوں نے اردو نظم کو جدید موضوعات کا اسلوب دیا اور سادہ مگر عمیق تخیلات کے ساتھ اسے عالمی ادب کے قریب تر کرنے میں اہم کردار اداکیا۔

ایک سیاسی رہنما جس کی زندگی عاجزی اور انکساری سے عبارت تھی

طالب علم رہنما کی حیثیت سے وہ 1955ء میں ون یونٹ کے خلاف احتجاج میں شامل رہے۔ فوجی آمر جنرل ایوب خان کے دور میں انہوں نے بلوچ طلبہ کے وظائف اور ان کے حقوق کی جنگ جاری رکھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بالوں کی سیاہی تو سفیدی میں بدل گئی لیکن اپنی قوم کے حقو ق کی جدوجہد کا جذبہ آخری سانس تک اسی طرح جوان رہا۔

صحافت کا پہلا اور آخری سبق: ڈاکٹر مہدی حسن کی یاد میں

ان کی پوری زندگی جراتِ اظہار، تحمل اورپیشہ وارانہ دیانتداری کا نمونہ تھی۔ جراتِ اظہار ایسی کہ ہر آمر کے سامنے نعرہ حق بلند کیا اور اس کے لئے سختیاں تک برداشت کیں، جیل بھی گئے اور ملازمت سے ہاتھ بھی دھوئے۔ وہ سچ کو صحافت کی پہلی شرط قرار دیتے تھے۔ تحمل ایسا کہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں تمام زیادتیوں اور حریفوں کے استحصال کو پامردی سے برداشت کیا۔ ہم نے انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ جب کبھی غصہ آتا چہرہ سرخ ہو جاتا اور خاموش نظر آتے۔

پاکستان دنیا بھر میں طالبان کے مفادات کا چمپئن بننا چاہتا ہے: مائیکل گوگل مین سے گفتگو

صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں ایک ایگزکٹیو حکم کے ذریعے افغان سنٹرل بنک کے 3.5 بلین ڈالر فراہم کرنے کی راہ ہموار کی ہے جو امریکہ کے فیڈرل رزرو میں منجمد تھے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ رقم کب تک فراہم کی جا سکے گی اور کن مقاصد کے لئے استعمال کی جا سکے گی۔ افغانستان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ فاقے کی حد تک پہنچ رہے ہیں اور طالبان کے پاس انتظار کا مزید وقت نہیں ہے۔