Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


کولن پاول: طاقتور جنرل جس نے امریکی استعماریت کے ہاتھ مضبوط کئے

انہیں ایک ایسی متنازعہ فوجی شخصیت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ عالمی جنگوں میں اہم فیصلے کرتے وقت انہیں جائز قرار دیا لیکن بعدمیں انہی کو غلط کہہ کراپنی قابلیت اور فیصلہ سازی کو مشکوک بھی بنایا۔

بغاوت کے الزامات پڑھ کرہم سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے: ظفراللہ پوشنی

آزادی کے بعد ہی امریکی اثرو رسوخ پاکستان کے معاملات میں بے حد بڑھ چکاتھا اور اسی اثر کے تحت ملک میں بائیں بازو کی تحریکوں کو قانونی موشگافیوں کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں پھنساکر اورظلم وتشدد کے ذریعے ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

کبھی کبھی: فہمیدہ ریاض کی ایک نظم اور ان کا فن

فہمیدہ ریاض کا شمار ملک کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صنفی اور سماجی مساوات کے لئے ہر قدم پر جرات مندانہ آواز اٹھائی۔ انہیں ہمیشہ ایک باشعور اور ترقی پسند شاعرہ کے طورپر یاد رکھا جائے گا۔

در جاناں

ہر لحظہ غنیمت ہے اگر ہاتھ میں ہے جام

ٹارزن کی واپسی اور بھیڑیوں کا راج!

یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ طالبان کی داغ بیل میں پاکستان، امریکہ، سعودی عرب اور اتحادیوں کا ہاتھ تھاجنہیں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کے طور پر استعمال کیا گیا۔ امریکی قبضے کے خلاف جب یہی طالبان میدان میں اترے تو انہیں دہشت گرد کا نام دیا جانے لگا۔ اب نئے حالات میں امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں بھی پیش پیش ہو گا اور شاید چین، روس اور دوسرے وسطی ایشیائی ممالک بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ رہیں۔