Rabbiya Bajwa

ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فنانس سیکرٹری رہی ہیں اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔


سنیارٹی اصول رد کر کے جسٹس عائشہ کی سپریم کورٹ میں تقرری صنفی ترقی نہیں

اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں 49 جج ہیں۔ ان میں صرف دو خواتین جج ہیں۔ ان دو ججوں میں جسٹس عالیہ نیلم بھی شامل ہیں اور وہ بھی بہت قابل جج ہیں۔ ان کے بھی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کی جج بننے کے امکانات ہیں لیکن سینیارٹی کے اصول کو نظرانداز کر کے اور صنفی ترقی کے نام پر ایک خاتون جج کو سپریم کورٹ لیجایا جانا جہاں ایک طرف سنیارٹی کے اصول سے انحراف ہے وہاں دوسری طرف یہ عمل غیر ضروی تفریق کا سبب بھی ہے جو عدالتی نظام سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث نہیں ہو گا۔

یہ’مشرق زدہ مردوں‘ کی مردانگی کا اجتماعی اظہار ہے

بس اتنا کہوں گی کہ مجھے فخر ہے میں ’مغرب زدہ‘پاکستانی عورت ہوں جو نہ کسی پر ظلم کر سکتی ہے نہ کسی کا ظلم سہہ سکتی ہے، جو انسانیت پر یقین رکھتی ہے اور بطور انسان عورت کی برابری، عزت نفس اور آزادی کی قائل ہے۔

لالہ آفریدی کے بیانئے کا بوجھ!

یہ تو طے ہے کہ ہم ترقی پسند سوچ رکھنے والے وکلا ان کے اصولی موقف اور مزاحمتی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہوں گے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کے حمایتی وکلا ان کی ریڈیکل سوچ اور بیانئے کا بوجھ اٹھا سکیں گے؟

اسلامی بم سے اسلامی میٹرس تک

اس اسلامی بم اور عزت و وقار کی بدولت ہمارے سابق سپہ سالار راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے باوجود اپنے برادر ممالک کی حفاظت کا بیڑہ اٹھانا پڑا۔

قاضی فائز عیسیٰ: سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

جسٹس فائز عیسیٰ کے موقف کے مطابق اس ریفرنس کے محرکات میں ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا اسلام آباد میں تحریک لبیک کے دھرنے کے خلاف فیصلہ دینا تھا۔ جس میں انھوں نے مسلح افواج کے سربراہ ہان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ادارے میں اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جو اپنے حلف کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔

سائنس نسل پرستی کو رد کرتی ہے

پوری دنیا آج ایک ہی بیماری کا شکار ہے جس کے علاج کے لیے سائنس تو کوئی تفریق نہیں برت رہی مگر رجعتی سوچ اور سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی غیر انسانی روئیے ضرور نسلی اور سماجی تفریق کا سبب ہیں۔