Saif Ur Rehman Rana

سیف الرحمن رانا لاہور میں مقیم سینئیر صحافی ہیں۔ وہ لاہور کے مختلف اردو اخباروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ یوٹیوب چینل ’دیکھو‘ سے وابستہ ہیں۔


سوشل میڈیا کے باعث بدلتے سیاسی رجحانات اور سیاسی جماعتوں کی آزمائش

17 جنوری 2022ء کو صوبہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج نے ملک میں گذشتہ چند سالوں میں جنم لینے والے نئے سیاسی رجحانات اور فکر انگیز رویوں کی نہ صرف توثیق و تصدیق کی بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ دور حاضر میں سب سے زیادہ موثر ذریعہ برائے پراپیگنڈ ا غالباً سوشل میڈیا ہی ہے۔

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (تیسرا حصہ)

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں دولت کی ریل پیل اور سٹے بازی کا آغاز تب ہوا، جب راولپنڈی میں ایک پرائیویٹ ڈویلپر نے ڈی ایچ اے کی طرز پر ایک نئی بستی بسانے کا اعلان کیا۔ اس بستی کا نام اس ڈویلپر نے بری فوج کے پراجیکٹ ڈی ایچ اے کی طرح، پاکستان نیوی کی اجازت سے بحریہ ٹاؤن رکھا۔

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (پہلا حصہ)

شہریوں کی مناسب رہائش فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف ریاست نے اس کام سے ہاتھ کھینچ رکھا ہے، دوسری جانب سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر اس ملک کے عوام اور ماحولیات کا استحصال کریں۔

نادرا کے اعتراض کا جواب: پاکستان پوسٹ کی جگہ ٹی سی ایس کو ٹھیکہ دینا مزدور دشمنی ہے

ٹینڈر جاری ہوا یا نہیں اس سے قطع نظر عمومی اصول و روایت یہ ہے کہ اگر کسی سرکاری ادارے کو کسی دوسرے سرکاری ادارے کی خدمات کی ضرورت ہو تو وہ باہمی خط و کتابت کرتے ہیں یا متعلقہ وزارت کی مدد لی جاتی ہے۔ کیا نادرا حکام نے وزارت مواصلات یا محکمہ ڈاک خانہ سے کبھی یا کسی بھی سطح پر رابطہ کیا؟ کیا نادرا حکام اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ وہ سرکاری ڈیٹا ایک نجی ادارے کے حوالے کر رہے ہیں؟

نادرا نے کورئیر سروس کا ٹھیکہ پاکستان پوسٹ کی بجائے ’ٹی سی ایس‘ کو کیوں دیا؟

یہ جاننے کے لئے میں ٹوکن مشین کے پاس آن کھڑا ہوا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایجنٹ ٹائپ لوگ وہاں سے اضافی ٹوکن لے کر اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ بعد میں آنے والوں کو یہ ٹوکن نمبر فروخت کئے جاتے ہیں۔ اگر کسی ٹوکن نمبر کے لئے آواز پڑ بھی چکی ہو تو عملہ کی ملی بھگت سے اسے دوبارہ بھی موقع مل سکتا ہے۔ اس طرح نادرا کے دفتر میں جہاں عام شناختی کارڈ کی فیس 750 روپے ہے، وہاں 500 تک اضافی رشوت دینے سے معاملہ فوری حل ہو جاتا ہے۔

بحریہ ماہانہ 7 ارب ناجائز ذرائع سے ہتھیاتا ہے: فائلوں کو لگے پہیوں کی کہانی

صرف لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملک ریاض کی نجی ہاؤسنگ سکیم بحریہ ٹاؤن میں مفاد عامہ کے لئے گورنمنٹ کے نام منتقل شدہ جگہ پر متعدد عمارات قائم ہیں، جن کا تمام تر کمرشل فائدہ سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے ماہانہ کمایا جا رہا ہے۔ یہی عالم ان تمام سوسائٹیوں کا ہے، جن کے مالکان بے پناہ سیاسی، سماجی اور معاشی اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔

بحریہ ٹاؤن ہی ’منی اسرائیل‘ نہیں، ہر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ملک ریاض ہے

وجودہ حکومت نے تعمیراتی شعبہ کو جو ٹیکس ایمنسٹی دی ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز بالخصوص بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے پہلے ہی بحریہ ٹاون کے صارفین سے اربوں کھربوں روپے ماہانہ کی بنیادپر لوٹ رہے ہیں۔