Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔


ارنسٹ مینڈل: عالمی ٹراٹسکی اسٹ تحریک کا میر کارواں

1950ء کی دہائی کے اواخر سے وہ چوتھی انٹرنیشنل اور بلجئیم میں ٹراٹسکی اسٹ تحریک کے اہم رہنما اور نظریہ دان بن کر ابھرے۔ اسی دوران وہ دو جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ”مارکسٹ اکنامک تھیوری“ پر بھی کام کرتے رہے۔ وہ ایک شاندار مقرر تھے۔ کئی یورپی زبانیں بولتے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں، بالخصوص 1968ء کے بعد، وہ ایک ہر دلعزیز شخصیت بن کر ابھرے۔ بائیں بازو کے وہ لوگ جو ان کی سیاست سے اختلاف رکھتے تھے، وہ بھی ارنسٹ مینڈل کے اثر و رسوخ اور بلا کی ذہانت کا اعتراف کرتے تھے۔ مغربی جرمنی کی ایس ڈی ایس (سوشلسٹ جرمن سٹوڈنٹس یونین)، بالخصوص اس کے رہنما مرحوم رودی ڈچک (Rudi Dutschke) ارنسٹ مینڈل سے بہت متاثر تھے۔

پاکستان کے گاڈ فادر؟

خان کو یقین ہے کہ انہیں دوسرا موقع ضرور ملے گا، چاہے ان کی اہلیہ کو اپنے سابق شوہر اور بیٹے کے ساتھ جیل میں وقت گزارنا پڑے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک سوچ رہے ہوں، کیوں کہ وہ متوسط شہری اور محدود بورژوا طبقے میں مقبول ہیں۔ عمران خان کی قسمت کچھ بھی ہو، مستقبل قریب میں پاکستانی سیاست میں کچھ نہیں بدلے گا۔ اشرافیہ کی شیطانی لالچ اور مستقل بے حسی حلب کے رہنے والے دسویں صدی کے عظیم سیکولر شاعر ابو العلا معری کے ان اشعار کی یاد دلاتی ہے:

جہاں کبھی شہزادہ حکومت کرتا تھا
وہاں ہوائیں سنسنا رہی ہیں
یہاں کبھی وہ شخص رہتا تھا
جسے غریب کی آہ سنائی نہ دیتی تھی

نیٹو لینڈ سے ایک مراسلہ

ذرا ڈھکے چھپے لفظوں میں کہیں تو بائیڈن انتظامیہ نے پہلے بلی کو تھیلے سے نکال کر کے اپنا پہلا اہم ہدف حاصل کیا اور پھر (دوسرے مر حلے پر) نیو یارک ٹائمز میں امریکی سکیورٹی حکام کی طرف سے کی گئی بریفنگ پر مبنی تین ہفتے قبل چھپے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا گیا کہ امریکی حکام یورپی ممالک پر روس کے خلاف ایک ’مشترکہ لائحہ عمل‘ وضع کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

افغانستان: ہتھوڑے اور سندان کے بیچ

افغانستان اندر صورتحال لاینفک طور پر غیر مستحکم ہے۔ خیالی پلاؤ پکانے والے ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ گمان کہ اتحاد اپنی موجودہ شکل میں چند سال جاری رہے گا تو اسے مضحکہ خیز ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’آزاد‘ کابل میں قبضہ بازی کی خاطر پہلے ہی کشمکش شروع ہو چکی ہے گو کھلم کھلا جھڑپوں سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔ بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ مغرب دیکھ رہا ہے۔ سرمائے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

طارق علی: تقسیم فیض، منٹو اور امرتا پریتم کی نظر میں

”آج میرا دل افسردہ ہے۔ ایک عجیب سا اضمحلال اس پر چھایا ہوا ہے۔ چارساڑھے چار سال پہلے جب میں نے اپنے دوسرے وطن بمبئی کو خیر باد کہا تھا تو میرا دل اس طرح مغموم تھا۔ مجھے وہ جگہ چھوڑنے کا صدمہ تھا جہاں میں نے اپنی زندگی کے بڑے پُر مشقت دن گزارے تھے۔ ملک کے بٹوارے سے جو انقلاب برپا ہوا، اس سے میں ایک عرصے تک باغی رہا اور اب بھی ہوں لیکن بعد میں اس خوفناک حقیقت کو میں نے تسلیم کر لیا مگر اس طرح کہ مایوسی کو میں نے اپنے پاس تک نہیں آنے دیا۔“

ملک ہار دینے والا جرنیل (آخری قسط)

فوج کو جب اندازہ ہوا کہ اس نے اپنا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے توزخم خوردہ فوجی قیادت نے ذوالفقار علی بھٹو نامی نجیب سیاستدان سے رابطہ کیا تاکہ بچے کھچے ملک کے معاملات کو چلایا جا سکے اور وہ انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس موقع پر فوج کی ”نسبی آزدی“ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ یہ کہ وہ کبھی پھر اقتدار کا رخ کریں گے، نا ممکن دکھائی دیتاتھا۔

ملک ہار دینے والا جرنیل (چوتھی قسط)

یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ہیں جن کے سامنے تقسیم ہند کے دوران یا بنگال میں پڑنے والے 1943ء کے عظیم قحط کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی کم پڑ جاتی ہے۔

ملک ہار دینے والا جرنیل (تیسری قسط)

مشرقی پاکستان کے کمانڈنٹ جنرل ”ٹائیگر“ نیازی نے بڑ لگائی تھی کہ وہ ہفتوں میں سرکشی کا قلع قمع کر دیں گے مگر ان کی شیخی کسی کام نہ آئی۔ جنرل گل حسن کے لئے مشکل ہو رہا تھ کہ وہ جنرل نیازی کے لئے اپنے دل میں موجود ہتک چھپائیں۔ گل حسن کے خیال میں جنر ل نیازی زیادہ سے زیادہ ”کمپنی کمانڈر بننے کے قابل“ تھے۔ جنرل گل حسن خود بھی کوئی توپ قسم کے فوجی مدبر نہ تھے۔