Yasmeen Afghan

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔


افغان خواتین بربریت کی بند گلی میں

اب پلک جھپکتے ہی افغان خواتین وہ تمام حقوق کھو چکی ہیں۔نہ صرف وہ حقوق جن کیلئے وہ انتھک اور تندہی سے لڑی تھیں بلکہ خواتین کارکنوں کو اب طالبان تلاش کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی پروفیسر کا خاندان سمیت کفن پوش احتجاجی جلوس

دنیا کے لیے یہ ایک چھوٹا سا احتجاج لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کئے جانے کے باوجود اس بہادر خاندان نے باہر آ کر دنیا کو دکھانے کے لیے احتجاج کیا کہ ان کی خاموشی نے افغانستان کو ایک زندہ خواب میں بدل دیا ہے، لیکن دھمکیوں کے باوجود افغان سڑکوں پر آئیں گے، چاہے وہ تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں، اپنی آواز بلند کریں گے۔ ان چھوٹے مظاہروں کے بعد مستقبل قریب میں بڑے احتجاج ہوں گے۔

فحاشی کی روک تھام کیلئے طالبان افغان نان اور کباب پر بھی پابندی لگا رہے ہیں

طالبان کا بنیادی مقصد افغان خواتین کو نشانہ بنانا ہے، وہ خواتین کیخلاف سخت قوانین متعارف کروا رہے ہیں، وہ انہیں معاشرے سے پوشیدہ کرنا چاہتے ہیں، انہیں بے رنگ کرنا چاہتے ہیں، وہ خواتین کو سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر سزا دے رہے ہیں لیکن افغان خواتین ان قرون وسطیٰ کی طاقتوں کے خلاف سخت طریقے سے لڑ رہی ہیں اور ان کے غیر انسانی حالات کے سامنے نہیں جھکیں گی۔

طالبان کیخلاف پورا افغانستان غیر اعلانیہ ہڑتال پر ہے

”یہ آسان نہیں ہے، کیونکہ ہمیں مالی مسائل بھی ہیں لیکن ہمیں ان وحشیوں کو خاموشی سے ہی نہ کہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہمارے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور ہم بھی ان کے حکم کے تحت کام نہیں کر سکتے اس لیے ہم دور رہتے ہیں۔“

عورتوں اور خوشیوں سے خوفزدہ طالبان

”افغان لوگوں کا کسی چیز پر کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ ہماری ہر چیز حتیٰ کہ ہماری نجی زندگی اور بیڈ روم بھی طالبان سے محفوظ نہیں۔شادیوں پر طالبان کے حملوں بارے اور بھی رپورٹس سننے کو ملی ہیں۔ بعض خواتین اب بھی جینز پہن کر نکلتی ہیں۔۔۔کہ یہ بھی مزاحمت کی ایک علامت ہے،مگر اکثریت نے برقعہ اوڑھ لیا ہے۔“

طالب کی بطور چانسلر تعیناتی: پروفیسرز یونین نے فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج کی دھمکی دیدی

اشرف غیرت کی تعیناتی کے بعد ان کے بعض پرانے ٹویٹ بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک ایسے ہی ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا: ”ایک جاسوس صحافی سو پولیس والوں سے خطرناک ہوتا ہے۔جو لوگ صحافیوں کو قتل کرنے سے گریز کرتے ہیں مجھے ان کی ایمان پر شک ہے۔ جاسوس صحافیوں کو قتل کر دو۔ میڈیا کو قابو کرو“۔

’میرے بیٹے آج سکول گئے، بیٹی گھر پر رہی: میں اسکے ساتھ آنکھ نہیں ملا پا رہا‘

”جیسا کہ لگتا ہے کہ طالبان افغان خواتین اور لڑکیوں سے بہت نفرت کرتے ہیں اور ان کو (سماجی سرگرمیوں سے) خارج کرتے اور انہیں محروم کرتے رہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ تمام 17-18 ملین خواتین اور لڑکیاں اس ملک کو چھوڑ دیں اور طالبان کو اپنے آپ اور بندوق برداروں کے ہمراہ چھوڑ دیں۔ وہ ہمارے لائق نہیں ہیں۔“

’نیا افغانستان‘: وزارت خواتین کو امر بالمعروف کے مرکز میں بدل دیا

”طالبان ہم سے مسلسل جھوٹ بول رہے تھے۔ ہم سے کہہ رہے تھے کہ آپ خواتین ملازمین کو اگلے ہفتے بلوایا جائے گا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اس وزارت کو ہی ختم کر دیا جائے گا۔ خواتین کے نام پر کچھ باقی نہیں بچے گا۔ تمام خواتین جو اس احتجاج میں شامل ہیں، ہم سب اپنے اپنے کنبے کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ہم میں سے بعض بیوہ ہیں۔ بعض کے شوہر نشہ کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیم حاصل کی ہم گھر پر نہیں بیٹھنا چاہتیں۔ وہ ہمیں وزارت میں داخل نہیں ہونے دے رہے۔ ہم تین ہفتے سے یہاں آ رہے ہیں۔ افغانستان میں عورت نام کی کوئی ذات نہیں بچی“۔