مزید پڑھیں...

ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے خلاف انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں: خلیل جھشان

اولاً یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امن کی راہ میں کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی ہے اور اسرائیل کی رجعت پسند حکومت کو آج بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کوئی فوائدحاصل ہونے کی امید بھی نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ امن کے لئے سنجیدہ ہو۔ خود نیتن یاہو بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے لئے یہ معاہدے کرنازیادہ ضروری ہیں خصوصاً اس وقت جب عرب ملکوں نے اسرائیل سے فلسطینی علاقوں سے دستبردار ہونے کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا۔

7 اکتوبر 1958ء…

صدر اسکندر مرزا نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو توڑ دیا، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی، آئین منسوخ کرکے مارشل لا لگا دیا اور جنرل ایوب خاں کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔

پی ڈی ایم کے ایجنڈے اور عوامی مطالبات میں گہری خلیج حائل ہے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی قیادت فضل الرحمان کو سونپنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اتحاد کس دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ عوامی مطالبات اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مطالبات میں بڑا فرق ہے۔ عوام اپنے مسائل کا حل، روزگار، غربت کا خاتمہ، امن و امان، صحت، تعلیم، طبقاتی نظام کا خاتمہ اور تمام تر ضروریات و سہولیات زندگی چاہتی ہے جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اقتدار، حصہ داری، چاپلوسی اور اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے۔