خبریں/تبصرے

لاکھوں افغان شہری ’منجمد‘ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اقوام متحدہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ لاکھوں افغان شہری منجمد جہنم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اگر انہیں فوری امداد نہ دی گئی تو لاکھوں زندگیاں ختم ہو جائیں گی اور مایوسی اور انتہا پسندی میں بھی اضافہ ہو گا۔

’اے پی‘ کے مطابق انہوں نے بدھ کے روز اقوام عالم سے اپیل کی کہ افغانستان میں انسانی امداد کیلئے فوری اقدامات کریں۔

انکا کہنا تھا کہ جنگ سے تباہ حال ملک میں معیشت کو بحال کرنے کیلئے اس کے اثاثے جاری کئے جائیں ورنہ بہت جلد بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ’وقت انتہائی اہم ہے، عملی اقدامات کے بغیر زندگیاں ختم ہو جائیں گی۔ لاکھوں لوگ بھوک، تعلیم اور نقد رقم کی کمی کا شکار ہیں، امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی ضرورت مندوں تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔‘

انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اجازت نامے جاری کریں جو تمام انسانی امداد کیلئے ضروری مالی لین دین کی اجازت دیتے ہیں۔ تاکہ ڈاکٹروں، اساتذہ، صحت و صفائی کے ملازمین سمیت دیگر سول ملازمین کو تنخواہیں دی جا سکیں۔

انکا کہنا تھا کہ ’80فیصد سے زائد آبادی پینے کیلئے آلودہ پانی پر انحصار کر رہی ہے اور بعض کنبوں کو کھانے پینے کی اشیا خریدنے کیلئے اپنے بچوں کو فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ روس، چین اور دیگر کچھ ملکو ں نے بھی یہ پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔