دنیا

[molongui_author_box]

صدر جو بائیڈن انڈیا کی زوال پذیر جمہوریت کو امریکی مفادات کی نذر نہ کریں!

امریکہ کی خارجہ پالیسی انڈیا کے اندرونی حالات کو نظر انداز نہیں کر سکتی اور صدر جو بائیڈن انڈیا کی گرتی ہوئی جمہوری روایات کوبھی مد نظر رکھیں۔ انڈیا میں ’G20‘ کے اجلاس میں شرکت کے دوران صدرجو بائیڈن نے ملک کی اندرونی پالیسیوں پر تبصرے سے گریز کیالیکن بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد اندرونی پالیسیاں ہوتی ہیں جن کے اثرات عالمی ہوتے ہیں۔ امریکہ کی یہ حکمت عملی ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے تھی نہ کہ جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر یا ملزم؟

گزشتہ ہفتے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں پر جارجیاکی ایک عدالت میں ملک کے خلاف سازش اور انتخابی نتائج سبو تاژ کرنے کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی۔اسی ہفتے ریاست کے قوانین کے تحت انہیں جیل میں حاضری دینی پڑی، دوسرے ملزموں کی طرح تصویر اتاری گئی اورانہیں گرفتار کرکے ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر چوتھا مقدمہ دائر!

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد قانونی کاروائیوں کا گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہاہے۔ ریاست جارجیا کے محکمہ انصاف نے ان پر 2020ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج بدلنے، ریاستی انتظامیہ کو نتائج تبدیل کرنے پر اکسانے، ریاستی مقننہ کو الیکٹورل کالج کے فیصلے نظرانداز کرنے کی ترغیب دینے اوربیلٹ کی گنتی میں بددیانتی کے سنگین الزامات لگانے کی فرد ِجرم عائد کی ہے۔

افغانستان انسانی حقوق کے بدترین بحرا ن سے گزر رہا ہے: ہیومن رائٹس واچ

سیاسی انتقام اورمہنگائی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں افغان شہری نقل مکانی پر مجبو ر ہوئے اور ان میں سے بیشتر ایران، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ میں کس مپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آج افغانستان انسانی حقوق کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے لیکن طالبان کی حکومت اپنے اقدامات پر نظر ثانی کے بجائے صورت حال کو مزیدسنگین بنا رہی ہے۔

خونی طالبان آمریت کے دو سال مکمل: 48 ملین افغان بھوک کا شکار

آج کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے دو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس قبضے پر فتح کے شادیانے بجانے والوں میں خواجہ آصف بھی آگے آگے تھے۔ چند روز قبل، موصوف شکوہ کر رہے تھے کہ طالبان پاکستان میں دہشت گردی کی سر پرستی کر رہے ہیں۔ پاکستان کا سرمایہ دار میڈیا طالبان کی محبت میں مجنوں اور فرہاد بنا ہوا تھا۔ اور تو اور سویڈن کے سرکاری چینل ’ایس وی ٹی‘ کے ایک عرب نژاد رپورٹر (ثمیر ابو عید) نے ایک لمباٹی وی فیچر کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ طالبان بھلے ’مغرب زدہ‘ شہری حلقوں میں مقبول نہ ہوں، دیہی آبادی میں بہت مقبول ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر ریاست کے خلاف سازش کی فردِ جرم عائد!

ڈیموکریٹک پارٹی کے امید وارجو بائیڈن 2020ء کے انتخابات جیت کر صدر منتخب ہو گئے تھے لیکن ٹرمپ نے نتائج تسلیم نہیں کیے اورانتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 6 جنوری 2021ء کی رات اپنے حامیوں کو کانگریس کی عمارت پر حملہ کر کے انتخابی نتائج کی تصدیق روکنے کی ترغیب دی۔ اس پرُ تشدد حملے میں کئی ہلاکتیں ہوئیں، عمارت کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور سکیورٹی کے عملے نے کانگریس کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کرکے ان کی جان بچائی۔ اسی رات کانگریس کے ارکان نے صدر بائیڈن کے حق میں انتخابی نتائج کی تصدیق بھی کردی تھی۔

عالمی جنوب میں خوراک کے بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

جنگ، تقسیم اور نقل و حمل کی خرابی (روس یوکرین)، بدلتے ہوئے موسمیاتی پیٹرن (پاکستان کاسیلاب)، بڑے برآمد کنندگان سے برآمدات میں کمی (بھارت کی منتخب چاول کی برآمدات پر پابندی) جیسے عوامل قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

ایرانی صحافت پابندیوں کی زد میں!

اس سال مئی میں دونوں صحافیوں پرامریکہ سمیت دشمن ملکوں کے ایماپر قومی مفادات کو نقصان پہنچا نے کے الزامات میں مقدموں کی سماعت شروع کی گئی تھی جو اب تک جاری ہے۔ یہ مقدمات تہران اسلامی انقلابی عدالت میں چلائے جا رہے ہیں جوسخت سزاؤں کے لئے جانی جاتی ہے۔

سامراجی قوتیں گوریلا جنگیں کیوں ہارتی ہیں؟

پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ کیا عوامل ہیں جو گوریلا باغیوں کی تشکیل میں اہم کردار اداکرتے ہیں؟ مجموعی طور پر سیاست، انتظامی اہلیت اور جنگ، یہ تین عوامل گوریلا تحریکوں کی تشکیل کے اہم اجزا ہیں۔ ملکی سیاست، بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بیرونی افواج ملکوں پر قبضہ کرتی ہیں۔ مقامی رد عمل کے طور پر باغی گروہ تشکیل پاتے ہیں جو متحد ہوکر انتظامی امور کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں اور بیرونی فوجوں کا عمل دخل بتدریج کم ہو جاتا ہے۔

ناروے کی مارکسسٹ پارٹی اور اخلاقی اُلجھن

55 لاکھ کی آبادی والے ملک ناروے کی قومی اسمبلی میں کل 169 نشستیں ہیں اور قومی اسمبلی کی 10 مختلف جماعتوں سے ایک”ریڈ“یعنی لال ہے۔ اس جماعت کی بنیاد 2007ء میں رکھی گئی تھی۔10سال بعد 2017 کے انتخابات میں اس جماعت کے مرکزی راہنما بیعونارموکسنیص نے قومی اسمبلی کی نشست جیت کر سب کو حیران کر دیا۔