دنیا

عصمت اللہ نیازی سینئر براڈ کاسٹ جرنسلٹ ہیں۔ وہ ایک عرصہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے وابستہ رہے۔ ان دنوں بطور فری لانس کام کر رہے ہیں۔ ان سے asmatniazi@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


سول ملٹری تعلقات اور پاک بھارت امن

پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی خلیج کارگل وار اور ممبئی حملوں کی وجہ سے بہت گہری ہے۔ بعد ازاں، کلبھوشن کی گرفتاری اوربھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری سے یہ خلیج مزید گہری ہوئی۔ اس خلیج کا بھرنا وقت کی ضرورت ہے جس کے لئے دونوں ملک کی قیادت کو انتھک محنت کرنا ہو گی اور دونوں اطراف کی فوجی لیڈرشپ کو اس کوشش کا احترام کرنا ہو گا۔

مراکش: ’ورلڈ کپ میں جیت سے عوام خوش لیکن حکمرانوں سے نفرت ختم نہیں ہوئی‘

تاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ خوشی وقتی رہے گی اور اگر فٹ بال کی فتح لوگوں کو ان کے خوفناک حالات زندگی کو چند دنوں کیلئے بھولنے میں مدد فراہم کرتی بھی ہے تو بھی محنت کش طبقے کی بے اطمینانی اور حقارت (الحکرۃ) کا احساس واپس آجائیگا۔ جس چیزکا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے وہ یہ ہے کہ اس بے اطمینانی کا اظہار حکمران طبقات کے حملے کے تشدد کے برابر اجتماعی تحریکوں میں کب ہو گا۔

بلاول کو بچر آف بنگال یا بچرز آف افغانستان پر تو کوئی اعتراض نہیں

معلوم نہیں اُن دنوں، جب یہ مہم چل رہی تھی، پیپلز پارٹی کا بچر آف گجرات بارے کیا موقف تھا۔ کوئی موقف تھا بھی یا نہیں۔ ہاں البتہ جب چند روز قبل حنا ربانی کھر طالبان کے ساتھ فوٹو سیشنز کر رہی تھیں، جس کا مقصد طالبان کی گلوبل امیج بلڈنگ تھا، تو اس فوٹو سیشن سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ پیپلز پارٹی کو اپنی نوکری سے غرض ہے…اس نوکری کو بچانے کے لئے وہ بچرز آف افغانستان کو بھی ہنس ہنس کر گلے مل سکتے ہیں۔

منافقت میں پیپلز پارٹی اور طالبان بھائی بھائی ہیں

مطالعہ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے علاوہ، اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی مقدس پالیسی کے مطابق جماعت اسلامی کے رکن مولانا چترالی بالکل درست اعتراض کر رہے ہیں کہ بھائی حنا ربانی کھر کو کابل بھیج کر ہم نے طالبان کے مردانہ جذبات کو مجروح کیا ہے۔

سوشلسٹ کرنل کی قیادت میں بنگلہ دیش کا ’سپاہی انقلاب‘ جو 2 ہفتے بعد ناکام ہو گیا

’ہمارا انقلاب محض ایک قیادت کو دوسری قیادت سے تبدیل کرنا نہیں ہے۔ یہ انقلاب ایک مقصد کیلئے ہے، یعنی مظلوم طبقات کے مفاد کیلئے۔ اس کیلئے مسلح افواج کے پورے ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کئی دنوں تک ہم امیر طبقے کی فوج تھے۔ امیروں نے ہمیں استعمال کیا ہے۔ ان کے اپنے مفادات کی 15 اگست کے واقعات ایک مثال ہیں۔ تاہم اس بار ہم نے نہ تو امیروں کیلئے بغاوت کی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے کی ہے۔ اس بار ہم نے ملک کے عوا م کے شانہ بشانہ بغاوت کی ہے۔ آج سے قوم کی مسلح افواج اپنے آپ کو ملک کے مظلوم طبقات کے محافظ کے طور پر استوار کریں گی۔‘

شکریہ مراکش الیون مگر: قطر میں فلسطین کا جھنڈا لہرانا بہادری ہے نہ مزاحمت

کیا ہی اچھا ہوتا اگر فلسطین کے ساتھ مراکش الیون فلسطین کے علاوہ مراکشی ریاست کے جبر کا شکار بربر قوم کا جھنڈا بھی لہراتے۔ ترک سلطان رجب طیب اردگان کی بربریت کا شکار کردستان کا جھنڈا بھی لہراتے۔ مراکش میں جمہوریت کے لئے قید ضمیر کے قیدیوں سے بھی اظہار یکجہتی کرتے۔ ہم یہ توقع تو نہیں رکھتے کہ وہ ہم جنس پرستوں کا پرچم بھی لہراتے لیکن کم از کم ہم جنس پرستوں کے اس جمہوری حق کو تو تسلیم کرتے کہ وہ قطر میں اپنا جھنڈا لہرا سکتے ہیں۔

’COP27‘: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے عالمی اہداف مصنوعی، جعلی اور بھونڈے

ماحولیاتی تباہی کے تدارک کے نام پر عالمی ماحولیاتی کانفرنس ’COP27‘ رواں ماہ 06 نومبر کو شروع ہو چکی ہے۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ یہ کانفرنس 18 نومبر تک جاری رہے گی۔ ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے حکمران بیٹھ کر ماحولیاتی آلودگیوں پر ایک بے معنی بحث و تکرار کے بعد کچھ اہداف مقرر کریں گے اور پھر آئندہ کانفرنس کے انعقاد تک چند ایک مستثنیات کے علاوہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ جو اقدامات ماضی میں کیے جانے تھے یا جو آئندہ اہداف لئے جاتے ہیں، وہ محض نمائش سے کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ اس کانفرنس میں زیادہ تر بحث و تکرار ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ داران کے تعین کے گرد ہی رہتی ہے۔

دنیا بھر کا بایاں بازو ایران میں بغاوت سے یکجہتی کرے: فورتھ انٹرنیشنل

اس تحریک کو سیاسی و اخلاقی مدد دینے کے لئے ٹریڈ یونینز، طلبہ تنظیمیں، خواتین تنظیمیں، عالمی یکجہتی کی علامت کے طور پر، پیغامات ارسال کریں۔ ہم ٹریڈ یونینز سے کہیں گے کہ وہ ایران میں ٹریڈ یونینز سے رابطہ کریں اور اس بابت بحث کریں کہ عملی یکجہتی کے طور پر کیا کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹیاں ایران میں یونیورسٹیوں سے رابطے کر کے وہاں کے طلبہ کی حفاظت کا مطالبہ کریں۔ اسی طرح طلبہ اور خواتین کی تنظیمیں ایران کے طلبہ اور خوتین سے رابطے پیدا کریں۔

ایران میں عورت انقلاب: پاکستانی سوشلسٹ، فیمن اسٹ کھل کر حمایت کریں

خطے میں ہونے والی اس اہم ترین پیش رفت بارے پاکستان کا بایاں بازو اور فیمن اسٹ تحریک عمومی طور پر خاموش نظر آ رہی ہے۔ ہونا اس کے الٹ چاہئے۔ ایک کی جیت سب کی جیت اگر سوشلسٹ اصول ہے تو اس اصول کے تحت بائیں بازو اور فیمن اسٹ تحریک کو کھل کر ایران میں جاری انقلاب کی حمایت کرنی چاہئے۔

ایران: انقلابی تحریک سے لرزتی ملاں ریاست

ملائیت کے انقلابی دھڑن تختے کی صورت میں ملک میں امکانی طور پر ایک نسبتاً جمہوری حکومت بنے گی جو اپنے تیئں ایک لازمی اور مثبت پیش رفت ہوگی۔ اس سے سیاسی پارٹیاں فروغ پائیں گی۔ بائیں بازو کی قوتوں کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ جو مستقبل کے سوشلسٹ ایران کا راستہ ہموار کرے گا۔ ایران کے اندر ہونے والی یہ تبدیلیاں لامحالہ پاکستان میں موجود انقلابی قوتوں کا حوصلہ بڑھائیں گی۔ ملک میں موجود سیاسی گھٹن کا خاتمہ ہوگا اور انقلابی تبدیلی کی مہک سیاسی فضا کو معطر کرے گی۔ افغانستان پر مسلط سیاہ رجعت کے حوصلے پست ہوں گے۔ اس لیے ایران کی موجودہ تحریک ہر انقلابی کی حمایت اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں تحریک کے ابھار کی صورت میں جنم لینے والی کوئی سیاسی تشکیل انقلابی قوتوں کی موجودگی کی وجہ سے یقینا ایران کی نسبت ایک قدم آگے ہو گا جو اپنی باری میں ایران کو اپنے پیچھے کھینچ سکتی ہے۔