دنیا

[molongui_author_box]

بنگلہ دیش میں طلبہ کی احتجاجی تحریک

بنگلہ دیش میں طلبہ کی حالیہ احتجاجی تحریک نے ملک کے سیاسی اور سماجی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ احتجاج سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کے خلاف جون کے اوائل میں شروع ہوئے۔ یہ کوٹہ سسٹم سرکاری ملازمتوں میں مخصوص طبقات کو مراعات فراہم کرتا ہے۔ اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لیے تحریک کے پیچھے کارفرما بنیادی عوامل کا احاطہ ضروری ہے۔

بھارتی انتخابات میں ہندوتوا گھائل

بھارت کے حالیہ عام انتخابات میں بظاہر ’فتح‘ کے بعد نریندر مودی ایک بار پھر بھارت کا وزیرا عظم بننے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ تقریباً 65 فیصد ٹرن آﺅٹ کے ساتھ 19 اپریل سے یکم جون تک جاری رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے عام انتخابات میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے (400 نشستوں کے) تمام تر اہداف اور پروپیگنڈے کے برعکس پارلیمنٹ کی 543 کُل نشستوں میں سے محض 240 ہی حاصل کر سکی ہے۔ بی جے پی کے انتخابی الائنس این ڈی اے کی حاصل کردہ نشستوں کو شامل کیا جائے تو لوک سبھا میں مودی کو کُل 293 نشستیں حاصل ہو سکی ہیں جو حکومت بنانے کے لیے درکار 272 سیٹیوں کے ہدف کو پورا کرتی ہیں۔ تاہم اب مودی کو مخلوط حکومت کے ذریعے حکمرانی کرنا ہو گی۔

حکومتی تشدد کے خلاف بنگلہ دیشی طلبہ کی جاندار مزاحمت!

یہ شدید عدم مساوات اور استحصال بنگلہ دیش تک ہی محدود نہیں بلکہ دنیا بھر سرمیاداری کا پیدا کردا ہے اور خاص طور پر نیو لبرل پالیسیوں کے تحت بحران اپنی انتہا کو چھو رہا ہے۔ ڈھاکہ کی سڑکوں سے لے کر کشمیر کے پہاڑوں تک، چین کے کارخانوں سے لے کر جنوبی افریقہ کی کانوں تک دن رات محنت کرنےکے با وجود اربوں محنت کش اور مزدور اپنی زندگی برقرا نہیں رکھ پا رہے ۔ ایک کونے پر دولت کے مسلسل جمع ہوتے ہوئے ذخائر کی وجہ سےاشرفیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ دوسرے کونے پر عوام کو غربت اور بدحالی کی پستیوں کی سمت دھکیلا جا رہا ہے۔

برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کی جیت: اِک اور دریا کا سامنا تھا مجھ کو…

توقعات کے مطابق برطانیہ کے عام انتخابات میں دائیں بازو کی کنزویٹو (ٹوری) پارٹی اپنی تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ پارلیمان میں 244 نشستوں کی کمی کیساتھ اسے صرف 121 نشستیں مل پائی ہیں۔ جبکہ مجموعی ووٹ میں اس کا حصہ تقریباً 43 فیصد سے 23 فیصد تک گر گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں لیبر پارٹی نے 209 کے اضافے کے کیساتھ 411 نشستیں اور (معمولی اضافے کیساتھ) 33 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ’’سنٹرسٹ‘‘ لبرل ڈیموکریٹس 72 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے ہیں (63 کا اضافہ)۔ اگرچہ مجموعی ووٹ میں ان حصہ محض 12 فیصد رہا۔ بہرحال 174 نشستوں کی بڑی اکثریت کیساتھ لیبر پارٹی بغیر کسی اتحادی کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے اور پارٹی رہنما کیئر سٹارمر بر طانیہ کا نیا وزیر اعظم منتخب ہو چکا ہے۔ ملکی تاریخ میں وہ لیبر پارٹی، جو 2010ء کے بعد پہلی بار اقتدار میں آئی ہے، سے تعلق رکھنے والا ساتواں وزیر اعظم ہو گا۔

رئیسی کی موت پر اہل ایران خوش، ملاکریسی کو دھچکہ

یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ رئیسی کی موت پر کوئی بھی آنسو نہیں بہا رہا۔۔۔ما سوائے اعلیٰ سرکاری شخصیات کے،یا پھر اس رژیم کے علاقائی اتحادی رنجیدہ ہیں۔کچھ یورپی ریاستوں کو بھی دکھ پہنچا ہے۔ خطے کی کچھ ریاستوں کو بھی دکھ ہوا جنہوں نے ترکی کی طرح رئیسی کو زندہ ڈھونڈنے میں مدد کی پیشکس کی تھی۔اور تو اور ناٹو نے بھی تعزیت کی ہے۔۔۔جب کسی سربراہِ ریاست کی جان بچانے کا معاملہ ہو تو تمام تر اختلافات بھلا کر عالمی رہنما یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

جموں کشمیر: نوآبادیاتی جبر اور نیو لبرل پالیسیوں کیخلاف عوامی طاقت کی فتح

جموں کشمیر میں رونما ہونے والے یہ واقعات غیر معمولی ہیں اور یہ کامیابی تاریخی ہے۔ ایک نوآبادیاتی خطے میں نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف یہ بہت بڑی حاصلات ہیں، جو تقریباً ناممکن تھیں۔ اس کے اثرات نہ صرف اس سماج پر تادیر رہیں گے، بلکہ حقیقی معنوں میں ہمالیہ سے اٹھنے والے یہ طوفان پاکستان سمیت جنوب ایشیاء کے طول و عرص میں نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف محنت کشوں کو جدوجہد کا حوصلہ اور طاقت فراہم کریں گے۔
تاہم یہ لڑائی کا اختتام نہیں ، بلکہ یہ اس جدوجہد کے آغاز کا بھی آغاز ہے، کہ جس کی فتح مندی ہر طرح کے استحصال اور غلامی کی ہر شکل کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ یہ انقلابی قوتوں کا بھی امتحان ہے کہ وہ مستقبل کی اس جدوجہد کی تیاری کے عمل کو تیز تر کریں، عبوری پروگرام کی بنیاد پر قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کرنے کے فن سے لیس ہوں اور محنت کشوں اور عام عوام کو اس نظریاتی اوزار سے لیس کریں، کہ جس کا استعمال ان کے مقدر بدل دے۔

وقت کے بدلتے مزاج اور ماضی کے طریقہ ہائے واردات

حضور والا اگر صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے کچھ سیکھنے پر تیار ہیں تو سب سے پہلے یہ جانکاری ضروری ہے کہ وقت اور حالات بہت بدل چکے ہیں۔ سرمایہ دارانہ استحصال نے عوام کے لیے وہ حالات پیدا کر دیئے ہیں کہ انہوں نے اب مرنا ہی ہے۔ یا تو وہ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں مریں یا پھر اپنے حق کی خاطر لڑتے ہوئے مریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالات میں عوام ہمیشہ دوسرے آپشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ سربکف ہو چکے ہیں۔ مسئلہ آپ کا اور آپ کی حکومت کا ہے کہ آپ نے انھیں روٹیاں دینی ہیں یا گولیاں۔ آپ نے عوام کو دہائیوں سے غصب بنیادی حقوق دینے ہیں یا ریاستی تشدد۔ دونوں آپشن آپ کے لیے کھلے ہیں،لیکن یہ طے شدہ ہے کہ آخری تجزیے میں ماضی کے اوزار عصر حاضر سے ہم آہنگ نہ ہیں۔لہٰذا ناکامی ان کا مقدر ہے۔

بھارتی عام انتخابات: ہندو قوم پرستی کا عفریت چھٹ پائے گا؟

بی جے پی کے تمام تر غلبے کے باوجود لداخ سے میزورام اور منی پور تک مزاحمت کی علامات اب بھی موجود ہیں۔ دیو ہیکل محنت کش طبقہ زیادہ دیر تک بی جے پی کے زہریلے پراپیگنڈہ اور فریب کی یلغار کا شکار بنا نہیں رہ سکتا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بحران اور مسلسل نیو لبرل حملے محنت کشوں کو بغاوت پراکسانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ تاہم ایک درست پروگرام اور لائحہ عمل کی بنیاد پر ہی نہ صرف ہندوتوا کے فسطائی غلبے کو توڑا جا سکتا ہے بلکہ ایک نئے سماجی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ جو پورے جنوب ایشیا میں محنت کشوں کیلئے ایک درخشاں مثال ثابت ہو گا۔

17 اپریل: کسانوں کی جدوجہد کا عالمی دن

اس سال ہمارا پوسٹر فطرت کے تمام عناصر کے باہم مربوط ہونے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انسانیت ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ پوسٹر واضح کرتا ہے کہ کس طرح زمین (ماں) کسانوں اور ان کی جدوجہد کی حمایت اور انکے وجود اور حقوق کا دفاع کرتی ہے۔ اس وژن کے مطابق، ہم کسانوں جیسی اجتماعی تحریک کا حصہ بن کر بھی اپنی ماں جیسی زمین کو نذرانہ پیش کر سکتے ہیں۔ ہماری ماں جیسی دھرتی اپنے فطری تاثرات کے علاوہ پہاڑوں کے ساتھ ہمارے آباؤ اجداد اور اجتماعی یادداشت کی علامت ہے۔

ایران اسرائیل تصادم: سامراجی طاقتیں دور رس تناظر سے عاری

بہرحال زیادہ امکان یہی لگ رہا ہے کہ کشیدہ حالات کو ادارہ جاتی مذمتوں اور پرفریب بیان بازیوں میں زائل کرنے اور ایران اسرائیل تصادم کو کم از کم وقتی طور پر دبا دینے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن یہ معاملات جتنے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں اس کے پیش نظر متعلقہ سامراجی طاقتیں خود بھی کوئی دوررس تناظر بنانے سے عاری نظر آتی ہیں۔ دنیا بھر کے محنت کش عوام کے لئے اس متروک سرمایہ دارانہ نظام میں استحصال اور بربادی ہی مضمر ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔