مزید پڑھیں...

کشمیر میں تحریک کی فتح: بڑی پیش رفت لیکن حتمی لڑائی ابھی باقی ہے!

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک سال تک جاری رہنے والی عوامی حقوق تحریک نے تمام تر سامراجی جبر اور بربریت کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر ریاست کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ طاقت کے ذریعے تحریک کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی گئی تاہم عوامی طاقت کے سامنے مسلسل 5 روز تک ریاست مکمل طور پر مفلوج رہی۔ وزیراعظم اور وزرا سمیت ممبران اسمبلی جموں کشمیر سے فرار ہو چکے تھے۔ افسران نے اپنی سرکاری گاڑیاں چھوڑ کر نجی گاڑیوں میں سفر شروع کر دیا تھا۔ پولیس کو مسلسل ہونے والی شکست اور بڑے عوامی ریلے کی دارالحکومت مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کے چلن دیکھ کر لانگ مارچ کو پہلے پہل غیر ملکی ایجنڈا اور سازش قرار دینے والے حکمران اشرافیہ کے نمائندوں نے حکومت سے لاتعلقی اختیار کرنے اور عوامی تحریک کے حق میں بیانات دینے شروع کر دیئے تھے۔ پورا معاشرہ یکلخت ایک بلند تر سیاسی شعور، نئی اخلاقیات، بدلی ہوئی نفسیاتی کیفیت اور اجتماعی و اشتراکی ثقافت کے رنگ میں رنگتا جا رہا تھا۔

لاہورمیں پی ایس سی کے زیر اہتمام فلسطین یکجہتی کانفرنس کا انعقاد

بدھ کے روز پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کی جانب سے ایچ آر سی پی لاہور میں فلسطین یکجہتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا،جس میں طلبہ اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں ایچ کے پی کے صدر فاروق طارق، پروفیسر تیمور رحمن، عورت مارچ آرگنائزر لینا غنی، ایڈووکیٹ اسد جمال، طالب علم رہنما سارہ علی، سابقہ طالب علم رہنما علی بہرام گاندھی اور پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کے نائب صدر حماد ملک نے اظہار خیال کیا۔

عوامی تحریکوں میں عوام کی بدلتی نفسیات

ریاستی فورسز اور افسروں کو عوام نے یر غمال بنایا ہوا تھا۔ چوکوں میں لٹکتے افسروں کے لباس عوامی طاقت کے آگے ان کی بے بسی کا واضح اظہار کر رہے تھے۔ ریاستی گاڑیوں کی تباہی بھی ریاست کی کمزوری کو ظاہر کر رہی تھی، لیکن تصادم میں جانے والی جانیں سستے آٹے اور سستی بجلی سے کہیں گنا بڑھ کر زیادہ قیمتی تھیں۔ سلام ہے ان نوجوانوں کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شاید ان جانوں کا ازالہ تمام تر مطالبات کی منظوری کے ذریعے سے ممکن تھا،جو کہ نہ ہو سکا،لیکن پھر بھی عوام اپنی فتح پر نہ صرف ناز کر رہی تھی بلکہ ایک جشن کا سماں دیکھنے کو مل رہا تھا۔

خود غرضی، نرگسیت اپنی ذات سے نفرت کا اظہار ہوتے ہیں: ایرک فرام

خود غرضی خود سے محبت کرنے کا نام نہیں۔ دراصل خود غرضی اور خود سے محبت ایک دوسرے کا متضاد ہیں۔ خود غرضی لالچ کی ایک قسم ہے۔ ہر قسم کے لالچ کی طرح، خود غرضی کا پیٹ بھی نہیں بھرتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود غرضی کے نتیجے میں کبھی بھی اطمینان نہیں ملتا۔

جموں کشمیر: نوآبادیاتی جبر اور نیو لبرل پالیسیوں کیخلاف عوامی طاقت کی فتح

جموں کشمیر میں رونما ہونے والے یہ واقعات غیر معمولی ہیں اور یہ کامیابی تاریخی ہے۔ ایک نوآبادیاتی خطے میں نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف یہ بہت بڑی حاصلات ہیں، جو تقریباً ناممکن تھیں۔ اس کے اثرات نہ صرف اس سماج پر تادیر رہیں گے، بلکہ حقیقی معنوں میں ہمالیہ سے اٹھنے والے یہ طوفان پاکستان سمیت جنوب ایشیاء کے طول و عرص میں نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف محنت کشوں کو جدوجہد کا حوصلہ اور طاقت فراہم کریں گے۔
تاہم یہ لڑائی کا اختتام نہیں ، بلکہ یہ اس جدوجہد کے آغاز کا بھی آغاز ہے، کہ جس کی فتح مندی ہر طرح کے استحصال اور غلامی کی ہر شکل کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ یہ انقلابی قوتوں کا بھی امتحان ہے کہ وہ مستقبل کی اس جدوجہد کی تیاری کے عمل کو تیز تر کریں، عبوری پروگرام کی بنیاد پر قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کرنے کے فن سے لیس ہوں اور محنت کشوں اور عام عوام کو اس نظریاتی اوزار سے لیس کریں، کہ جس کا استعمال ان کے مقدر بدل دے۔

لاہورمیں جموں کشمیر کی عوامی حقوق تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے احتجاج

منگل کے روز لاہورپریس کلب کے سامنے لاہور میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی قیادت میں جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک سے یکجہتی میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں کشمیری طلبہ کے علاوہ پاکستانی طلبہ اور کشمیری کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج میں تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اور رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے کشمیریوں پر سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی مذمت کی گئی۔

ہیرا منڈی بطور سافٹ ہندتوا: پاکستان دہشت گرد سے بازار حسن تک

آٹھ قسطوں پر مبنی،سنجے لیلا بھنسالی کی نیٹ فلکس سیریز’ہیرا منڈی‘ کا ذکر سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر تو سنائی دیا ہی، راقم کے تجربے میں حالیہ دنوں میں شائد ہی کوئی ایسی محفل تھی جہاں اس سیریز کا ذکر نہ ہوا ہو۔بی بی سی اردو کے کالم نگار وسعت اللہ خان عام طور پر فلموں بارے نہیں لکھتے۔انہوں نے بھی ’ہیرا منڈی‘ پر کالم لکھ ڈالا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس حد تک تو یہ سیریز پاکستان میں کامیاب رہی کہ اسے دیکھا گیا،اس پر بات ہوئی۔

مذاکرات ناکام: ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ دھیرکوٹ پہنچ گیا، آج مظفر آباد روانگی ہو گی

لانگ مارچ کے قافلوں کو روکنے کیلئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، درخت کاٹ کر سڑکوں پر پھینکے گئے اور اس کے علاوہ پہاڑیاں کاٹ کر بھی سڑکوں پر پھینکی گئی تھیں۔ تاہم مظاہرین رکاوٹیں ہٹاتے آگے بڑھتے رہے۔ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں بھی ہوئیں۔ 60سے زائد پولیس اہلکاران اور سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوئے۔ ایک پولیس سب انسپکٹر کی ہلاکت بھی ہوئی۔
مظاہرین 11مئی کو ہی پونچھ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ 12مئی کو پونچھ ڈویژن کے قافلوں سمیت ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلے راولاکوٹ شہر میں داخل ہوئے۔ یہ قافلے اب دھیرکوٹ میں پہنچ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مظاہرین منگلا ڈیم کی پیداواری لاگت پر ٹیکس فری بجلی کی فراہمی، آٹے کے نرخ گلگت بلتستان کے برابر کرنے اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جموں کشمیر: ریاستی تشدد کیخلاف ریاست گیر لاک ڈاؤن اور جھڑپیں، لانگ مارچ آج شروع ہو گا

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری تحریک کے سلسلہ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جمعہ کے روز ریاست گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ ہزاروں افراد نے مختلف شہروں میں سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا اور آج 11مئی سے بہر صورت لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جموں کشمیر: تحریک کیخلاف ریاست کا کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتار، لاک ڈاؤن شروع

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں حکومت نے دارالحکومت مظفرآبادکی جانب لانگ مارچ کی کال کو ناکام بنانے کیلئے درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاریوں کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آج 10مئی سے غیر معینہ مدت کیلئے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔