اداریہ


آج ’جدوجہد‘ کی تیسری سالگرہ ہے

ہماری اگلی کوشش ہو گی کہ نہ صرف کل وقت عملے میں اضافہ ہو سکے بلکہ ’جدوجہد‘ کی پہنچ میں اضافہ ہو۔ ان دونوں مقاصد کے حصول کے لئے ’جدوجہد‘ کی معاشی حالت کو بہت بہتر بنانا ہو گا۔ سیدھی سی بات ہے: انقلابی سیاست ہو یا صحافت، دونوں کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ محنت کش طبقے کے پاس وقت بچتا ہی نہیں کہ وہ دانشورانہ اور انقلابی سیاست میں حصہ لے سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل وقتی کامریڈز کا انتظام کرنا دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور ٹریڈ یونینز کا بنیادی چیلنج رہا ہے۔ اسی طرح، آن لائن اخبار ہونے کی وجہ سے اگر ’جدوجہد‘ کو اپنی آؤٹ ریچ میں اضافہ کرنا ہے تو بھی فیس بک اور ٹوئٹر کو بھاری فیس ادا کرنا ہو گی۔ امید ہے اپنے حامیوں اور قارئین کی مدد سے آنے والے دنوں میں یہ مقاصد بھی حاصل کر سکیں گے۔ ہمارا ایک ارادہ یہ بھی ہے کہ ملک بھر میں یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے علاوہ فیکٹریوں اور دفاتر میں پہنچیں اور تعارفی سیمینارز کی شکل میں ’جدوجہد‘ کو متعارف کرائیں۔ صرف معیاری اخبار نکالنا کافی نہیں۔ اسے ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہی اصل کامیابی ہو گی۔

قاتلوں کو مذاکرات کی میز پر نہیں، کیفر کردار کو پہنچائے

مذکورہ مذاکرات بارے پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی ہو یا طالبان، یہ ہمارے ہی بچے ہیں۔ بلوچ اور پشتون قوم پرست جوابی طور پر پوچھ رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کے پر امن کارکنوں اور بلوچستان کی گوریلا قوتوں کے بارے میں یہ رویہ کیوں اختیار نہیں کیا جا رہا۔ جن طالبان نے پاکستانی سپاہیوں کے سر قلم کر کے ان سے فٹ بال کھیلا اور سکول کے بچوں پر گولیاں برسائیں، ان سے تو مذاکرات جائز ہیں مگر ایک پشتو تقریر جس کا ایک سال سے اردو ترجمہ نہیں کرایا جا سکا، کی وجہ سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر پابند سلاسل ہیں۔ یہ دوہرے معیار سات پردے ڈال کر بھی چھپانا ممکن نہیں۔ نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں۔

ناظم الدین جوکھیو: پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے حکمران طبقات کوئی بھی اقدام کرنے میں سنجیدہ اس لئے نہیں ہیں کہ یہ قبائلی، سرداری اور وڈیرہ شاہی ڈھانچہ حکمران طبقات کے اس بحران زدہ نظام کے تحت حکمرانی کو جاری رکھنے اور اس نظام کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس ملک میں سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقلاب کے تقاضے پورے کرنے کیلئے بھی محنت کش طبقے کو اپنے کندھے ہی فراہم کرنا ہونگے۔

بیس سال پہلے: آج کے دن

افغانستان میں سامراجی انخلا کے بعد مسلط ہونے والی وحشت سے محنت کشوں اور خواتین کو ایک زبردست دھچکا لگا ہے اور وہ ایک صدمے کی کیفیت میں موجود ہیں۔ تاہم اس گہرے سکوت میں خواتین اور نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں نے کچھ ارتعاش پیدا کی ہے، آنے والے دنوں میں ان واقعات اور احتجاج کی شدت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی کی طرح اب صرف طاقت اور بندوق کے زور پر افغان محنت کشوں اور خواتین کو لمبے عرصے تک مطیع رکھنا ممکن نہیں رہنے والا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے احتجاج اجتماعی طاقت کے احساس کو بھی پیدا کر رہے ہیں، طالبان کے اقتدار اور معاشی، سیاسی و سماجی مسائل کے حل میں ناکامی سمیت امن و امان کے قیام میں ناکامی ان احتجاجوں کو مزید توانائی فراہم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

’یہ گرفتاری شہزاد اکبر کے کہنے پر ہوئی‘

اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ اختلاف رائے اور مباحثہ معاشرے کو مہذب بنانے، ترقی دینے اور مسائل حل کرنے کی جانب پہلا بنیادی قدم ہے۔
اظہار رائے کے حق کے لئے قربانیاں دینے والے صحافی پاکستانی معاشرے کے ہیرو ہیں۔ ’روزنامہ جدوجہد‘ اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے۔

خاشہ زوان: افغانستان میں اتنا غصہ ہے کہ طالبان بھی تین دفعہ بیان بدل چکے ہیں

خاشہ زوان کے قتل نے ایک بارپھر عیاں کیا ہے کہ بیس سالہ سامراجی تسلط اور افغان بربریت کے عرصہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایساکوئی اقدام سامراجی و طالبان ایجنڈے میں شامل تھا۔ افغانستان کے دکھوں کا مداوا خود افغان عوام کی اکثریت ہی اپنے مقدر اور تاریخ اپنے ہاتھ میں لیکر کر سکتے ہیں۔ اس خطے کے محکوم و مظلوم عوام کے دکھوں اور تکالیف سے نجات سرمایہ دارانہ حاکمیت کے ہر برج، ہر مینارے کو توڑنے اور عوامی شراکت داری پر مبنی وسائل و اختیارات پر اجارے کی صورت ہی ممکن ہے۔

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

عثمان کاکڑ سمیت اس ملک کے محنت کشوں، نوجوانوں اور محکوم قومیتوں کی نجات اور حقیقی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے ہزاروں سیاسی کارکنوں کی طبعی یا سیاسی موت کا انتقام پھر اس نظام کے خلاف ان کی جلائی ہوئی شمع کو جلائے رکھنے اور جدوجہد کو تیز کرتے ہوئے ان کے مشن کی تکمیل، اس خطے میں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنے پر ہی منحصرہے جہاں کوئی کسی کا کسی نوعیت کا استحصال نہ کر سکے۔

فوجی اڈے دینے سے افغان جنگ طویل ہو گی: یہ غیر مقبول حکومت کا غیر مقبول فیصلہ ہو گا

پاکستان کے شہری، بجا طور پر، اس اقدام کی سخت مخالفت کریں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کو اڈے دینے سے افغان جنگ جاری رہے گی۔ امن ایک سراب بنا رہے گا۔ طالبان اپنی کاروائیاں افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی شروع کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس جواز ہو گا کہ ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گویا ہم ایک مرتبہ پھر انتہائی خوفناک صورتحال کی جانب جا رہے ہیں۔

اسرائیل بربریت میں کامیاب مگر ’جنگ‘ ہار گیا ہے

عرب خطے پر بلواسطہ سامراجی اقتدار اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے صہیونی ریاست کے قیام کی وجہ سے نہ صرف فلسطینی محنت کشوں کی زندگیاں تاراج ہوئی ہیں بلکہ پورے عرب خطے کے محنت کشوں زندگیاں اجیرن بنائی گئی ہیں، دوسری طرف اسرائیل کے محنت کش بھی ایک مسلسل خوف کی کیفیت میں سامراجی مقاصد کے حصول کیلئے استحصال کا شکار ہوتے آئے ہیں۔طبقاتی جڑات کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ اقتدارکے خاتمے کے علاوہ مسئلہ فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ کے محنت کشوں کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔