پاکستان

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


لانگ مارچ عمران خان کی سیاسی پسپائی کا موجب بن سکتا ہے

ہم کسی بھی صورت ریاستی جبر کی حمایت نہیں کر سکتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم عمران خان کے حامی ہو گئے ہیں۔ ہماری سیاست انقلابی اصولوں سے وابسطہ ہے، جس میں جمہوری دفاع بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے، راستوں سے رکاوٹیں ہٹائی جائیں۔ پرامن جدوجہد کے راستہ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔ اگر عمران خان کے بیانیہ کو اکثریت ملتی ہے تو ملے، اسے بندوقوں سے نہ روکا جائے۔

شیریں مزاری اور علی وزیر: ’دو قومی نظریہ‘

’اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شیریں مزاری کو رہا کیا جا سکتا ہے تو سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر علی وزیر کو رہا کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کے خلاف نت نئے مقدمے کون بنا رہا ہے؟ مراد علی شاہ صاحب کچھ تو بولئے!‘

بلوچستان: شیرانی کا جنگل آگ کی لپیٹ میں، 7 افراد جھلس کر ہلاک

بلوچستان کے ضلع شیرانی کا جنگل آگ کی لپیٹ میں ہے۔ یہ جنگل، جو ایک مشہور پہاڑ ’کوہ سلیمان‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ 10 دنوں سے آگ کی لپیٹ میں ہے۔ آگ کی وجہ سے حیوانات و نباتات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ مزید بڑے نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔ آگ بجھنے یا کم ہونے کی بجائے مسلسل پھیل رہی ہے۔اس پھیلتی ہوئی آگ نے مقامی ذرائع کے مطابق 100 سے زائد گھروں کو گھیر لیا ہے۔ مکینوں کو بچانے کیلئے فوری طور ہنگامی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اس آگ میں 7 افراد جھلس کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحران کا حل: اشرافیہ کو 1 کھرب کی سبسڈی کا خاتمہ، 10 ارب ڈالر کی درآمدی تعشیات پر پابندی

غریب لوگوں کے بھلے کے لئے کچھ پالیسیاں تو فوری طور پر لاگو کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر امیر لوگوں کو ملنے والی ٹیکس مراعات ختم ہونے سے جو آمدن ہو گی، یا اشرافیہ پرلگنے والے نئے ٹیکسوں سے ہونے والی آمدن فوری طور پر غریب عوام پر خرچ کی جا سکتی ہے۔ اؤل، حکومت خوراک کو بنیادی انسانی حقوق قرار دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت فوڈ سٹمپس جاری کر سکتی ہے جن کے ذریعے خوراک کے بنیادی اجزا (آٹا، گھی، کوکنگ آئل وغیرہ) ان 40 فیصد گھرانوں تک 50 فیصد رعایت پر فراہم کیا جا سکیں، جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

میر جعفر، میر صادق والا بیانیہ اور تاریخ کا سامنا کرنے سے انکار

شروع میں ہندوستان علما ہی نہیں، پورے عالم اسلام کو لگا کہ دین سے دوری کی وجہ سے یورپ غالب آ گیا لہٰذا جگہ جگہ دیوبند اور بریلی کی طرز پر مدرسے کھلے۔ ہندوستان میں بعد میں میر جعفر اور صادق والا بیانیہ بھی گھڑ لیا گیا۔ کم سے کم ہندوستان کی حد تک (تا آنکہ کمیونسٹ تحریک کی بنیاد پڑی) کسی مسلمان مفکر کو نہ کلونیل ازم کی سمجھ آئی نہ سرمایہ داری کی۔ کمزور بنیادوں پر کھڑی اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے حکمرانوں کو بھی میر جعفر میر سادق والا بیانیہ سود مند دکھتا ہے لہٰذا خوب بیچا جاتا ہے۔

اکیڈیمیا کی فرح گوگی: عطا الرحمان کے ناکام منصوبے، اربوں ضائع

انہی کی شہ پر عمران خان نے بھی القادر یونیورسٹی سوہاوہ (جہلم) کی تعمیر شروع کی تھی۔ یہاں روحانیت پڑھائی جانی تھی۔ اس یونیورسٹی کے بورڈ میں عمران خان، فرح شہزادی، بشری ٰبی بی، بابر اعوان اور ذوالفقار زلفی جیسے روحانی رہنماشامل ہیں۔ اس وقت کل طالب علم 37 ہیں۔ اب تک اس یونیورسٹی پر عمران خان ایک ارب روپے خرچ کر چکے ہیں۔

بلوچستان: قومی آزادی اور مسلح مہم جوئی

”ہم عالمی انقلاب کی پرولتاری فوج کے سپاہی ہیں۔ ہم آپ کی قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو دوسری محکوم قوموں کی طبقاتی جد وجہد کے ساتھ جوڑنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اس سیارے کے ہر کونے میں اس استحصالی نظام اور اس کی ریاستوں کو اکھاڑ پھینکنے کی عالمی جد وجہد میں آپ کو دعوت دیتے ہیں۔ سوشلزم نجی ملکیت کی نفسیات اور قومی جبر کا خاتمہ کرتا ہے جو آخری تجزیے میں وسائل، دولت اور جائیداد کی ملکیت کا سوال ہے۔ بلوچستان کے وسائل صرف اسی صورت میں یہاں کے لوگوں کے ہوسکتے ہیں جب نجی ملکیت کے نظام اور ذرائع پیداوارکی نجی ملکیت، تقسیم اور تبادلہ کے نظام کا خاتمہ کر کے اجتماعی ملکیت کو رائج کیا جائے۔ یہ صرف محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے تحت سوشلسٹ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔“