پاکستان

[molongui_author_box]

کشمیر میں تحریک کی فتح: بڑی پیش رفت لیکن حتمی لڑائی ابھی باقی ہے!

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک سال تک جاری رہنے والی عوامی حقوق تحریک نے تمام تر سامراجی جبر اور بربریت کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر ریاست کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ طاقت کے ذریعے تحریک کو کچلنے کی بھرپور کوشش کی گئی تاہم عوامی طاقت کے سامنے مسلسل 5 روز تک ریاست مکمل طور پر مفلوج رہی۔ وزیراعظم اور وزرا سمیت ممبران اسمبلی جموں کشمیر سے فرار ہو چکے تھے۔ افسران نے اپنی سرکاری گاڑیاں چھوڑ کر نجی گاڑیوں میں سفر شروع کر دیا تھا۔ پولیس کو مسلسل ہونے والی شکست اور بڑے عوامی ریلے کی دارالحکومت مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کے چلن دیکھ کر لانگ مارچ کو پہلے پہل غیر ملکی ایجنڈا اور سازش قرار دینے والے حکمران اشرافیہ کے نمائندوں نے حکومت سے لاتعلقی اختیار کرنے اور عوامی تحریک کے حق میں بیانات دینے شروع کر دیئے تھے۔ پورا معاشرہ یکلخت ایک بلند تر سیاسی شعور، نئی اخلاقیات، بدلی ہوئی نفسیاتی کیفیت اور اجتماعی و اشتراکی ثقافت کے رنگ میں رنگتا جا رہا تھا۔

عوامی تحریکوں میں عوام کی بدلتی نفسیات

ریاستی فورسز اور افسروں کو عوام نے یر غمال بنایا ہوا تھا۔ چوکوں میں لٹکتے افسروں کے لباس عوامی طاقت کے آگے ان کی بے بسی کا واضح اظہار کر رہے تھے۔ ریاستی گاڑیوں کی تباہی بھی ریاست کی کمزوری کو ظاہر کر رہی تھی، لیکن تصادم میں جانے والی جانیں سستے آٹے اور سستی بجلی سے کہیں گنا بڑھ کر زیادہ قیمتی تھیں۔ سلام ہے ان نوجوانوں کو جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔شاید ان جانوں کا ازالہ تمام تر مطالبات کی منظوری کے ذریعے سے ممکن تھا،جو کہ نہ ہو سکا،لیکن پھر بھی عوام اپنی فتح پر نہ صرف ناز کر رہی تھی بلکہ ایک جشن کا سماں دیکھنے کو مل رہا تھا۔

جموں کشمیر: 17 سیاحتی مقامات کی 880 کنال سے زائد اراضی عسکری کمپنی کو لیز پر دینے کی تیاریاں

اس عمل کے ذریعے سیاحتی مقامات پر مقامی آبادیوں کی رسائی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ تر مقامات ایسے ہیں جو مقامی آبادیاں چراگاہوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کیلئے مال مویشی اور سردیوں کی لکڑیوں کا انحصار انہی مقامات پر ہوتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ان مقامات پر شہریوں کو مویشی پالنے اور زندگی گزارنے میں مشکلات ہوں گی ، بلکہ سیاحتی مقامات پرمقامی آبادیاں جو چھوٹے کاروبار کرتی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس وجہ سے پہلے سے موجود بیروزگاری کی بلند شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ سے شدید ترین ماحولیاتی تبدیلیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ ایکو سسٹم متاثر ہوگا اور خطے کی زمینی ہیت بھی تبدیل ہو جائے گی۔

بچہ ریڈیو سرکٹ نہیں بنا سکا اور ملک چاند پر پہنچ گیا

چین کامشن چاند کے لیے روانہ ہو گیا اور جاتے جاتے شنگھائی یونیورسٹی کے تعاون سے بنایا ہوا پاکستانی انسی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی کا آئی کیوب کیو سیٹلائٹ بھی اپنے ساتھ لے گیا۔کچھ لوگ اس پر تنقید کر رہے ہیں اور کچھ تنقید کرنے والوں کے لتے رہے ہیں۔کچھ کے خیال میں یہ ایک جست ہے جو انسانیت نے پہلی بار بھری ہے،کچھ کے نزدیک یہ محض ایک ”ہوشیاری اور چالاکی“ہے جو کہ منگل پر جانے کی بھارت”شوخی“کے جواب میں کی گئی ہے۔

آزادی اور غلامی

آج آپ جیسے نوجوان دنیا کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور پاکستان کے بے ہودہ، ناکارہ، غیر فعال نظام کو نظرانداز کرنے کے طرح طرح کے شاندار طریقے وضع کر رہے ہیں۔ کالج کے طلبہ اپنے خاندان کی آمدن میں مدد کرنے کیلئے مغربی کمپنیوں کے لیے آن لائن کام کرتے ہیں، ڈاکٹرز اور نرسیں پاکستان سے مغرب کے کلینک اور ہسپتال چلانے میں مدد کر رہے ہیں اور اس عمل میں پاکستان کیلئے آمدنی اور مہارت لاتے ہیں، انجینئرز اور دیگر آئی ٹی پروفیشنلز پاکستان سے دنیا بھر کی کمپنیوں کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے ہیں،اس طرح یہ ایک لمبی فہرست ہے۔ میرے بیٹے وہ پاکستان ہی ہے جس پر یقین رکھتے ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری: مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے

موجودہ حکومت اب پی آئی اے کی نجکاری کا باقاعدہ اعلان کر چکی ہے۔ پی آئی اے کا فلائٹ کچن کا ایک ادارہ پہلے ہی نجی کمپنی ‘کچن کوزین ’کو بیچا جا چکا ہے۔ اب موجودہ حکومت انتظامی امور سمیت 51فیصد شیئرز کسی نجی ادارے کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 49فیصد شیئرز تمام تر ذمہ داریوں کے ساتھ حکومت کے پاس رہیں گے۔ اس طرح انتظامی فیصلہ جات سمیت منافعوں اور لوٹ مار کی سرمایہ داروں کو چھوٹ ہوگی، جبکہ تمام تر خسارے اور بوجھ حکومت کے ذمے ہونگے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 22 سالہ ماریہ کا قتل

سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھتے ہوئے بحران نے سامراجی طاقتوں میں عدم توازن پیدا کیا ہے جس وجہ سے جہاں خانہ جنگی، پراکسی وار اور جنگوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں وہاں ہی تیسری دنیا کے ممالک، خاص کر پاکستان جس میں سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت کی وجہ سے جدید قومی ریاست تشکیل ہی نہیں ہو سکی، زیادہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ غربت اور بے روزگاری میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ بجلی اور دیگر توانائی کے شعبوں میں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے عوام پر ٹیکسز کی بھرمار جاری ہے۔محنت کشوں کے پاس پہلے سے موجود سہولیات چھینی جا رہی ہیں، پنشن کا خاتمہ اور قومی اداروں کی نجکاری سمیت محنت کشوں پر مختلف حملے جاری ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ایک انقلابی سرجری کے ذریعے سماج کو آگے نہیں بڑھایا جاتا تو وحشت و جرائم کا پنپنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سیاسی ثقافت کی گراوٹ: پیپلز پارٹی کے ’ساتھیو مجاہدو‘ سے ’قیدی نمبر 804‘ تک

پھر یوں ہوا کہ سیاست سے ترقی پسند نظریات غائب ہوتے چلے گئے۔ زوال پزیر اورگراوٹ کا شکار سیاست کا ابتدائی اظہار اگر نواز شریف اورآصف علی زرداری تھے تو اس اس گراوٹ کو اتھاہ گہرائیوں میں پہنچانے کا سہرا عمران خان کے سر باندھا جا سکتا ہے۔
جوں جوں سیاست زوال پزیر ہوئی،توں توں سیاسی ثقافت بھی تباہ ہوتی گئی اور ہوتی جا رہی ہے۔ دلیل کی جگہ اگر گالی لے چکی ہے تو ساتھیو مجاہدو کی جگہ قیدی نمبر 804 جیسی فحاشی نے لے لی ہے۔
1990ء میں جب بے نظیر کی حکومت برطرف ہوئی تو اردو کے مایہ ناز شاعر محسن نقوی نے نظم لکھی ’یا اللہ یا رسول بے نظیر بے قصور‘۔ یہ نظم بچے بچے کو ازبر تھی۔ عمران خان کی حکومت بر طرف ہوئی تو ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈ تھا ’رنڈی‘۔

بھگت سنگھ: وہ تاریخ جو مٹ نہیں سکتی!

بھارتی حکمران طبقے کی جانب سے بھگت سنگھ کی بالواسطہ کردار کشی یہاں کی نسبت زیادہ افسوسناک ہے۔ یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ کچھ مہینے پہلے درندہ صفت ہندو بنیاد پرست اور بھارتی سرمایہ داروں کے محبوب سیاستدان نریندرا مودی کو بھگت سنگھ کی آپ بیتیوں پر مبنی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اپنی شہادت کی سات دہائیوں بعد بھی بھگت سنگھ نوجوانوں میں مقبول ہے اور دایاں بازو اسی مقبولیت کو کیش کروانے کی کوشش کررہا ہے۔ دائیں بازو کی طرح کانگریس اور اصلاح پسند بایاں بازو بھی ’’تبدیلی‘‘ کی لفاظی اور سیاسی شعبدے بازی کے لئے بھگت سنگھ کے نام کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن حکمران طبقے کے مختلف حصوں کی یہ بیہودہ چالبازیاں بھگت کے حقیقی نظریاتی ارتقا پر پردہ نہیں ڈال سکتی ہیں۔ موت کے وقت وہ اپنی سیاسی زندگی کے اس نظریاتی نچوڑ اور نتیجے پر چٹان کی طرح قائم تھا کہ برصغیر کے عوام کی نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔

دریاؤں کا عالمی دن اور کراچی کا ملیر دریا

ہر سال14مارچ دنیا میں دریاؤں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دریاؤں اورندیوں کی زندہ حیثیت تسلیم کی گئی ہے اور ان کے حفاظت کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ندیوں کی بدولت دریاؤں کا جنم ہوتا ہے اور اگر ندیاں باقی نہ رہیں تو دریا بھی ختم ہو جائیں گے۔ آج دنیا ندیوں اور دریاؤں کو زندہ حیثیت سے نظام کائنات کا اہم ستون تسلیم کر چکی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کراچی کو آکسیجن مہیا کرنے والے ملیر کو زندگی کی علامت دینے والی ملیر ندی کو سرکار کی سرپرستی میں موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔