خبریں/تبصرے

پیرکوہ: مُردوں کو غسل دینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں رہا

اکبر نوتزئی

ترجمہ: حارث قدیر

ہیضے کی وبا اچھے حالات میں بھی انتہائی خطرناک ہوتی ہے، لیکن پانی کی شدید قلت اور مناسب صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی کمی کے ساتھ مل کر یہ تباہی کا نسخہ بن سکتی ہے۔ یہی کچھ بلوچستان کے وسیع و عریض ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل پیر کوہ میں ہو رہا ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل) کی ایک بڑی سہولت سمجھا جانے والا یہ دور دراز کا قصبہ پانی کی شدید قلت کے ساتھ وبا پھیلنے کی دوہری پریشانی کا سامنا کر رہا ہے۔

شہر ی مسائل پر توجہ دینے کیلئے سڑکوں پر نکلنے والے کارکنوں میں سے ایک نور بگٹی نے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”حال ہی میں قصبے میں فوت ہونے والی ایک چھوٹی بچی کا خاندان آخری رسومات ادا کرنے کیلئے پانی تلاش کرنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔“ انکا کہنا تھا کہ ”اگر مُردوں کیلئے پانی نہیں ہے تو آپ کے خیال میں ہمیں پینے کیلئے پانی کیسے ملے گا؟“

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہیضے سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ تعداد کم بتائی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اعظم بگٹی نے بتایا کہ اس علاقے سے ہیضے کا پہلا کیس 17 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا، لیکن اسلام آباد سے ٹیسٹ کے نتائج کی تصدیق گزشتہ ماہ کے آخر تک ہی موصول ہوئی تھی، جس کے بعد مریضوں کا علاج شروع کیا گیا تھا۔

اعظم بگٹی کے مطابق 2 ہزار 249 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے اور اس وقت علاقے میں صرف 38 مریض ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ حالات اب قابو میں ہیں۔ تاہم مقامی لوگ ان سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال ’قابو میں‘ سے بہت دور ہے اور اس وبا سے اب تک تقریباً دو درجن اموات ہو چکی ہیں۔

ڈی ایچ او اپنی طرف سے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اس بیماری کے بارے میں آبادی میں شعور کی کمی ہے۔ انکا دعویٰ ہے کہ ”کچھ مریض تو علاج کے دوران ہسپتالوں سے بھاگ گئے، یا خود ہی ڈسچارج ہو گئے۔“

ان دعوؤں کی حقیقت کچھ بھی ہو، ایک بات یقینی ہے کہ 40 ہزار سے زائد کے اس قصبے میں پانی کی باقاعدہ فراہمی نہیں ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے ہنگامی بنیادوں پر ضلع ڈیرہ بگٹی میں پانی کی فراہمی کے جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے 300 ملین روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دی، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ صورتحال بہت سنگین ہو چکی ہے۔

تاہم فی الحال مقامی لوگوں کو عطیات پر ہی گزارہ کرنا ہو گا اور اجتماعی طور پر فی ٹینکر 3500 روپے کی بھاری قیمت پر پانی خریدنا ہو گا۔ پانی کی تلاش کے حوالے سے کام کرنے والے سماجی کارکن گل زر بگٹی نے بتایا کہ وہ علاقے میں شہریوں کیلئے پانی کی فراہمی کیلئے ٹینکرز کا بندوبست کرنے کے کام میں مشغول ہیں۔ جو بھی عطیات جمع کئے ہیں وہ ڈیرہ بگٹی کی پہاڑیوں سے آنے والے ٹینکروں کیلئے ادا کئے جائینگے۔

گل زر بگٹی نے کا کہنا تھا کہ یہ قصبہ 2015ء سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ حکومتوں پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ”پیرکوہ کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے والے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن وہ صرف کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔“

وہ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ان کا قصبہ پانی کے ذرائع سے منقطع رہا ہے اور اسے اپنی ضروریات کیلئے بارش کے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان کے اور ان کے ساتھ کارکنوں کے شور شرابے کی بدولت حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مظاہروں کے بعد بلوچستان کے سیکرٹری صحت نے پیر کوہ کا دورہ کیا، وزیر اعظم نے اتوار کو ڈیرہ بھٹی کے رہائشیوں کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایات دی ہیں۔

یہ اقدامات اس علاقے کے رہائشیوں کیلئے طویل مدتی ریلیف کا موجب بنیں گے یا نہیں، اس بابت مقامی لوگ پر امید بھی ہیں لیکن مایوسی کا شکار بھی ہیں۔ وہ یہ سب پہلے بھی متعدد بار سن چکے ہیں، اب دیکھ کر یقین کرنا چاہتے ہیں۔

بشکریہ ڈان

اکبر نوتزئی کوئٹہ میں رہتے ہیں اور روزنامہ ڈان سے منسلک ہیں۔