خبریں/تبصرے

بی جے پی نے بھگت سنگھ، ٹیپو سلطان کو نصاب سے نکال دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بھارتی ریاست کرناٹک میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھگت سنگھ، ٹیپو سلطان سمیت 10 انقلابی اور آزادی پسند جنگجوؤں کی تاریخ کو نصاب تعلیم سے نکال دیا ہے۔ علما اور ماہرین تعلیم نے اس اقدام کو ریاست میں تعلیم کی ’زعفرانائزیشن‘ قرار دیتے ہوئے حکومتی کمیٹیوں اور اداروں سے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

’دی وائر‘ کے مطابق 2020ء میں کرناٹک میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد روہت چکرتیرتھا کی سربراہی میں ایک نظر ثانی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس نے سماجی سائنس اور زبان کی نصابی کتب کی چانج پڑتال کے بعد حال ہی میں کلاس ششم سے دہم تک کی سوشل سائنس کی نصابی کتب اور کلاس اؤل سے دہم تک کی مقامی زبان ’کناڈا‘ کی نصابی کتب پر نظر ثانی کی ہے۔

نظر ثانی کے بعد 10 انقلابی اور آزادی پسند جنگجوؤں بھگت سنگھ، ٹیپو سلطان، بساونا، پیریار اور نارائن کے ابواب کو نصاب سے ہٹا دیا یا سخت کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ ’کناڈا‘ شاعر کویمپو کے بارے میں حقائق کو بھی مبینہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

تاہم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے بانی کیشوبلیران ہیڈگیوار کی ایک تقریر کو کلاس دہم کی نظر ثانی شدہ ’کناڈا‘ زبان کی کتاب میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مصنفین ایس جی سدارامیا، ڈاکٹر جی ایس شیواردرپاپرتیشتھانا، ایچ ایس راگھویندرا راؤ، نٹاراجابڈالو اور چند شیکھر نانگلی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ بساراج بومائی کو خط لکھ کر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’ریاست کے تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں حالیہ غیر آئینی حملے اور جبر نے ہمیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت کی خاموشی اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی کمی، جو ریاست اور وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کیلئے کھلے عام فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، نے ہمیں بے چین اور خوفزدہ کر دیا ہے۔‘

ماہر تعلیم وی پی نرنجنا رادھیا نے قومی تعلیمی پالیسی پر اپنے کام کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اعزاز وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے دعوت کے جواب میں کہا کہ ’ریاستی حکومت نے تعلیم کو فرقہ وارانہ اور بھگوا بنانے کا سہارا لیا ہے اور اس عمل میں نصاب کے کسی فریم ورک، آئینی اقدار اور تعلیمی پالیسی پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ مشق اور جس پروگرام میں مجھے مدعو کیا گیا ہے، دونوں کی قیادت وزیر تعلیم کر رہے ہیں۔ اس لئے میں آئینی اقدار کے ساتھ کھڑا ہوں اور اس کا بائیکاٹ کرتا ہوں۔‘

کئی طلبہ گروپ بھی تبدیلیوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور مزید احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔