نقطہ نظر

دی لیجنڈ آف مولا جٹ فلمی یوتھیاپا ہے

فاروق سلہریا

مہینہ بھر قبل یہ فلم دیکھنے کا موقع ملا۔ فلم دیکھنے کے دوران بار بار مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس فلم اور قوم یوتھ میں کتنی زیادہ مماثلت ہے۔

۱۔ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست دراصل سیاست سے عاری سیاست ہے۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس جماعت کی سیاست دراصل سیاست دشمنی کی سیاست ہے۔ یہ سیاست ضیا الحق کی سیاست ہے جو سیاست کو برا کہتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے۔ سیاست کا مطلب ہے مکالمہ اور جمہوریت۔ ضیا الحق کی سیاست ہے آمریت۔ عین اسی طرح، مولا جٹ کی ری میک کا مولا جٹ سے کوئی تعلق ہے نہ پنجابی فلم اندسٹری سے۔ یہ سراسر ہالی وڈ فلموں کی نقالی ہے۔ یہ تھوڑا سا گلیڈی ایٹر کا چربہ ہے۔ تھوڑا سا گیم آف تھرونز کی نقالی۔

۲۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے ’ہینڈ سم‘رہنما کی مقبولیت، جس کی واحد خوبی یہ ہے کہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، مڈل کلاس کے احساس کمتری کا ازالہ تھا۔ بھارت کی نفرت میں پلنے والی مڈل کلاس جس نے مطالعہ پاکستان کے علاوہ زندگی میں کچھ نہیں پڑھا ہوتا، اسے لگتا تھا کہ بھارتیوں (بالی وڈ) کو ملنے والی عالمی پذیرائی پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس کا حل ان کے خیال میں یہ تھا کہ جب نوٹس دیکھ کر تقریر کرنے والے لہورئے گوالمنڈئے نواز شریف کی جگہ ’ہینڈ سم‘ شستہ انگریزی اور’گڈ لکس‘کے ساتھ نمودار ہو گا تو مغرب پاکستان پر فریفتہ ہو جائے گا۔ دی لیجنڈ آف مولا جٹ کی مقبولیت بھی ایسے ہی احساس کمتری کا ازالہ کرتی ہے۔ ان کا خیال تھا جب پنجابی سٹائل سے انگریزی بولنے والی میرا کی جگہ انگریزی سٹائل سے پنجابی بولنے والی ماہرہ خان آئے گی تو مغرب پاکستانی فلموں پر فریفتہ ہو جائے گا۔ انہیں لگ رہا ہے کہ بالآخر، پاکستان نے بھی ایک ایسی فلم بنا لی ہے جس میں ہالی وڈ کا ایکشن بھی ہے اور بالی وڈ کا مصالحہ بھی۔ انگریز اور انگریزی کو علم، ادب اور فن کا معیار ماننے والی اس مڈل کلاس کو اس سے غرض نہیں کہ فلم کا بیانیہ کیا ہے، پیغام کیا ہے۔

۳۔ اصل مولا جٹ کا پیغام تھا: تشدد کا خاتمہ۔ بلاشبہ اس فلم میں بھی تشدد دکھایا گیا تھا لیکن فلم کا اختتام اس بات پر ہے کہ تشدد ختم ہونا چاہئے۔ اوریجنل مولا جٹ نوری نت سے دشمنی اس بنیاد پر ختم کر دیتا ہے کہ نوری نت کی بہن کو اس نے منہ بولی بہن بنا رکھا ہے۔ جب منہ بولی بہن اپنے بھائی (نوری نت) کی زندگی کے لئے مولا جٹ سے منت کرتی ہے تو مولا جٹ گنڈاسہ پھینک دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ دشمنیاں ہمیشہ کے لئے بھلا دی جائیں۔ اس کے برعکس ’ری میک‘ کا اختتام اس پیغام پر ہوتا ہے کہ مولا جٹ نوری نت کو مارنے کے بعد نت قبیلے کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے یعنی’نظریہ مسلسل تشدد‘۔ مسلسل تشدد کا پیغام پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا پیغام تو ہو سکتا ہے، پاکستانی آرٹسٹوں کا نہیں۔

۴۔ اصل مولا جٹ کے مصنف کا دعویٰ ہے کہ نوری نت کا کردار ضیا الحق اور مولا جٹ کا کردار بھٹو کی عکاسی تھا۔ ایسا حقیقت میں تھا یا نہیں، فلم بینوں نے اسی انداز میں لیا تھا۔ بھٹو کو پھانسی ہونے کے کئی سال بعد تک، بھٹو کے بعض جیالے یہ ماننے پر تیار نہ تھے کہ بھٹو کو پھانسی ہو چکی ہے۔ یوں ’مولے نوں مالا نہ مارے تے مولا نئیں مردا‘ ایک معجزے میں یقین کا اظہار تھا۔ ایک طرح کی امید تھی۔ اسی وجہ سے مولا جٹ پر ضیا آمریت نے بار بار پابندی بھی لگائی۔ اس کے برعکس نام نہاد ’ری میک‘کو ریاست کی پوری سرپرستی حاصل ہے۔ یہ فلم فوجی آمریت کو للکارنے کی بجائے ’نظریہ مسلسل تشدد‘ کی پرچارک ہے۔ یوں ریاستی و فوجی سرپرستی بھی قوم ِیوتھ اور نقلی مولا جٹ میں مماثلت کا ایک پہلو ہیں۔ اگر پی ٹی آئی سیاست کا یوتھیاپا ہے تو یہ فلم، ثقافت کا یوتھیاپا ہے۔

۵۔ طالبان خان اور قوم یوتھ کو گلے کاٹنے والے طالبان سے بہت عقیدت ہے۔ طالبان کی بربریت کو گلوریفائی کرنا قوم یوتھ کی نظریاتی سیاست کا اہم جزو ہے۔ نقلی مولا جٹ میں بھی گلے کاٹنے کا سین یوں پیش کیا گیا ہے گویا یہ کوئی آرٹ ہو، معمولی سی بات ہو، جسے کائی الہڑ مٹیار بھی سر انجام دے سکتی ہے بشرطیکہ وہ ’ہینڈسم‘ ہو۔

۶۔ ریاستی سرپرستی کے علاوہ، دی لیجنڈ آف مولا جٹ مار دھاڑ والی مارکیٹنگ اور بگ بجٹ (مصطفےٰ قریشی کے بقول: ہماری مولا جٹ غریبوں کی مولا جٹ تھی) کی بنیاد پر کامیابی کی منزل کو پہنچی ہے۔ پراجیکٹ عمران خان کے پیچھے بھی ایک طرف ایک بد زبان سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کی اندھا دھند مارکیٹنگ ہے تو دوسری طرف کئی اے ٹی ایم مشینیں بگ بجٹ مہیا کر رہی تھیں۔

۷۔ قوم یوتھ کا پیغام تھا اور ہے کہ بس ایک مسیحا سب دکھوں کا علاج ہے۔ قوم یوتھ اجتماعی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی۔’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے حمایتی بھی خوشخبری دے رہے ہیں کہ یہ فلم پاکستان میں فلم انڈسٹری کو بحال کر دے گی (دونوں سراسر غلط ہیں)۔

۸۔ پراجیکٹ عمران کو لانچ کرتے ہوئے جب دیگر سیاسی جماعتیں، میڈیا ہاؤس اور صحافی نشانے پر تھے تو قوم ِیوتھ کو جمہوریت اور آزادی رائے کی ہر آواز کے پیچھے را کا ہاتھ دکھائی دیتا تھا۔ جب ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ریلیز ہوئی تو ’جوائے لینڈ‘ پابندی کا شکار ہو گئی۔ مجال ہے ’ری میک‘ والی ٹیم نے ہلکی سے بھی آواز اٹھائی ہو ’جوائے لینڈ‘کے حق میں!

۹۔ جس طرح، قوم یوتھ سیاسی جماعت کی بجائے فوجی مقاصد پر مبنی ایک سیاسی پراجیکٹ تھا اسی طرح یہ فلم ایک ویڈیو گیم ہے، جو بلاشبہ گرافکس کا شاہکار ہے۔ اسے ویڈیو گرافکس کا ایوارڈ بھلے ہی دے دیں لیکن بڑی فلم کہنا زیادتی ہے۔

جس طرح قوم یوتھ کو سیاسی کارکن کہنا مشکل ہے کیونکہ وہ سیاست کی بجائے شخصیت کے سحر میں گم ہے، اسی طرح اس فلم کے فین ویڈیو گیم کے سحر میں مبتلا ہیں۔ ویڈیو گیم کھیلنے والے یا پورنو گرافی دیکھنے والے کہانی میں دلچسپی نہیں رکھتے گو کہانی ویڈیو گیمز میں بھی ہوتی ہے، پورنوگرافی میں بھی۔

قصہ مختصر، اگر تحریک انصاف کی سیاست، سیاست سے عاری ہے تو دی لیجنڈ آف مولا جٹ’مولا جٹ‘ سے عاری ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔