خبریں/تبصرے

نیو یارک میں 8 سوشلسٹ اسمبلی اور سینٹ تک پہنچ گئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) نیو یارک کی ریاستی اسمبلی اور سینیٹ میں سوشلسٹ ارکان کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ گذشتہ ہفتے دو نئے سوشلسٹ ارکان کے حلف اٹھانے کے بعد، منتخب اسمبلیوں میں سوشلسٹ ارکان کی یہ تعداد امریکہ کی کسی بھی ریاست سے زیادہ ہے۔ یہ سب ارکان ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (ڈی ایس اے) کے ارکان ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے منتخب ہوئے ہیں۔

معروف ترقی پسند جریدے جیکوبن کے مطابق نیویارک میں بھی ایک صدی سے زائد عرصہ بعد سوشلسٹ اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نئے آنے والے سوشلسٹ نمائندوں میں 27 سالہ ٹیک ورکر اور کمیونٹی آرگنائزر کرسٹن گونزالیز (Kristen Gonzalez) کوئینز میں پیدا ہوئیں اور ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں، نیپالی تارک وطن اور ہڈسن ویلی میں ماحولیاتی کارکن سرہانا شریستھا (Sarahana Shrestha) ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔

6 سوشلسٹ قانون ساز جو پہلے ہی ڈی ایس اے کی سلیٹ پر مشتمل ہیں، وہ حکومت کیلئے نسبتاً نئے ہیں۔ ریاستی سینیٹ میں نارتھ بروکلین کی جولیا سالازار (Julia Salazar) 2018ء میں منتخب ہوئی تھیں۔ جباری برسپورٹ (Jabari Brisport) سنٹرل بروکلین سے 2020ء میں سینیٹ کیلئے منتخب ہوئے تھے اور اسی سال سن سیٹ پارک کی مارسیلا میتائنس (Marcela Mitaynes)، گرین پوائنٹ سے ایملی گالاگھر (Emily Gallagher)، ٓسٹریا سے زہران ممدانی (Zohran Mamdani) اور کراؤن ہائٹس سے فاراسوفرنٹ فاریسٹ (Phara Souffrant Forrest) نے اسمبلی میں قدم رکھا۔

سوشلسٹ منتخب عہدیداران کی ایک اہم کمپئین امیروں پر دوبارہ ٹیکس لگانا ہے، اس بار نئی آمدنی میں 40 بلین ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ انتہائی ضروری عوامی اشیا کو فنڈ کیا جا سکے۔ رواں ہفتے سال کی ترجیحات کے بارے میں پوچھے جانے پر کرسٹن گونزالیز نے بتایا کہ ’آفس کاکس میں سوشلسٹ کے حصے کے طور پر ہماری ترجیح محنت کش طبقے کے حالات کو مادی طور پر بہتر بنانا ہے۔‘