خبریں/تبصرے

دنیا بھر میں نیو لبرل حکمرانوں کے خلاف مظاہرے: کروڑوں لوگ سڑکوں پر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) گذشتہ روز چلی میں عام ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس سے قبل ہفتہ وار تعطیل کے دوران پورا ملک ہنگاموں کی لپیٹ میں تھا۔ لوگ انڈر گراؤنڈ ٹرین کے کرایوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرے اس قدر بھر پور تھے کہ حکومت نے ایمر جنسی نافذ کر دی۔ پانچ شہروں میں کرفیو لگانا پڑا۔ جبرو تشدد کا یہ عالم تھا کہ 8 شہری ریاستی تشد د سے ہلاک ہو گئے۔ تشدد نے عوام کو اور بھی مشتعل کر دیا۔ دو دن کے بعد حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اورکرائے میں اضافہ واپس لے لیا گیا۔

ہفتے والے دن، لندن میں ایک ملین لوگ وزیر اعظم بورس جانسن کی بریگزٹ ڈیل کے خلاف باہر نکلے۔

لبنان میں مہنگائی اور بد عنوانی کے خلاف پچھلے پانچ دن سے لوگ سڑکوں پر ہیں۔ اتوار کے دن ایک ملین لوگوں نے بیروت میں مظاہرہ کیا۔ لبنان کے صدر نے اپنے حکومتی حلیفوں سے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی بات مان لیں۔

گذشتہ ہفتہ وار تعطیل کی ایک اور بڑی خبر بارسلونا میں لاکھوں لوگوں کا اجتماع تھا۔ یہ اجتماع سپین سے آزادی کے لئے تھا۔

پچھلے چند ہفتوں سے ہیٹی میں مظاہرے جاری ہیں۔ عوام صدر جوونیل موئس کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں مگر لوگ سڑکوں پر موجود ہیں۔

گذشتہ چند ہفتوں یا مہینوں میں آذربائیجان، تیونس، الجزائر اور عراق میں عوامی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ’روزنامہ جدوجہد‘ میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ ایکواڈور کی حکومت دارلحکومت سے فرا رہو گئی اور پانچ دن کے عوامی مظاہروں کے بعد حکومت نے مقامی آبادی کو دی جانے والی وہ سبسڈی بحال کر دی جو وہ آئی ایم ایف کے کہنے پر ختم کرنا چاہتی تھی۔

ادھر، سب سے زیادہ طویل چلنے والی ہانگ کانگ کی تحریک اور مظاہرے مسلسل میڈیا میں شہ سرخی بن رہے ہیں۔

لاطینی امریکہ سے لے کر مشرقی ایشیا تک، عوام نے بغاوت کر دی ہے۔