دنیا

کرونا: عالمی تجارت میں 32 فیصد تک کمی کا خطرہ

فاروق طارق

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 190 ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے اور رکنے کا نام بھی نہیں لے رہا۔ اس وائرس نے سرمایہ درانہ ممالک کے چھپے اور رکے ہوئے معاشی بحران کو پبلک کر دیا۔ دنیا میں ایک نئے سرمایہ دارانہ شدید معاشی بحران کے تمام تر اجزا اس دو ماہ کے اندر اندر کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی معیشت کی کساد بازای کو تسلیم کر رہے ہیں۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی میں بدترین کساد بازاری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

عالمی ادارہ تجارت نے 8 اپریل کو کہا کہ رواں برس عالمی تجارت 13 سے 32 فیصد تک گر سکتی ہے۔ اس کا سربراہ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں بدترین کساد بازاری دیکھنی پڑ سکتی ہے۔ دنیا بھر میں مجموعی قومی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی ائیر بس نے اپنے طیاروں کی پیداوار میں ایک تہائی کی کمی کر دی ہے۔ دنیا بھر میں طیارہ ساز کمپنیوں کو شدید بحران کا سامنا ہے۔

کووڈ 19 کی وبا دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو بھی اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ دن بہ دن یہ وبا مزید شدت کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ اس وائرس اور اس کے زیر اثر لئے جانے والے اقدامات نے تیسری دنیا، بشمول پاکستان کے متوسط اور کمزور طبقے کی زندگی کو ایک ڈراؤنے خواب میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ لوگ جو اس نیو لبرل معیشت اور صنعتی و زرعی نظام کی ہولناکیوں سے بری طرح متاثر اور بمشکل زندگی بسر کر پا رہے تھے، اس معاشی لاک ڈاؤن نے ان سے دو وقت کا کھانا بھی چھین لیا ہے۔ لوگ صحیح معنوں میں فاقوں پر مجبور ہیں۔

معروف معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی حکومتی پیکج پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”پیکیج کا وقت غلط ہے، لاک ڈاؤن سے بڑے کاروباری مراکز اور بڑے شہر بند ہیں۔ تعمیراتی صنعت میں کام کرنے والے انجینئراور مزدور وغیرہ کسی بھی تعمیراتی جگہ پر کیسے پہنچیں گے تا آنکہ لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوجاتا۔ حقیقت ہے کہ اس پیکیج کا فائدہ غریب مزدور تک نہیں پہنچ پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیکیج کاروباری ٹائکونز کے لئے ہے جن کا سرمایہ پھنس گیا ہے۔ ان کی صنعتی پیداوار تب تک شروع نہیں ہوپائے گی جب تک کام والا کام پر واپس نہیں جائے گا۔ لاک ڈاؤن نے سپلائی چین کو منجمد کر دیا ہے اور برآمدی صنعتیں کسی ویکیوم میں کام نہیں کرسکتیں۔“

ان کے بقول ”نجی شعبے کے کس بلڈر نے غریب یا نچلے متوسط طبقے کے لئے مکانات تعمیر کیے ہیں؟ جیمز، جاگنگ ٹریک اور سوئمنگ پول وغیرہ کے ساتھ پرتعیش مکانات کے اشتہار دینے والے منصوبے اس ملک کے لئے شرمناک ہیں جہاں دو افراد کے لئے بنے ایک کمرے میں 20 افراد رہتے ہیں۔“

کرونا وائرس بارے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ وباعالمی سطح پر پچاس لاکھ افراد سے زیادہ کو متاثر کر سکتی ہے اور اسکے فوری ختم ہونے کے امکانات کم ہیں، اسے ختم ہونے میں سال ڈیڑھ سال بھی لگ سکتا ہے۔ 15 لاکھ تو 9 اپریل کو اس موذی وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔ اب تک 88 ہزار سے زیادہ افراد اس بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

پاکستان میں 9 اپریل تک 4263 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں ایران کے اندر اب تک 3993 افراد اس بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

آج دنیا بھر میں زندگی ایک کے بعد دوسرے ملک میں مفلوج ہو رہی ہے۔ بارڈرز بند کئے جا رہے ہیں۔ ملک کلوز کئے جا رہے ہیں۔ ائیرپورٹس، ریستوران، سینماگھر، تعلیمی ادارے، سپورٹس ایونٹس اور پبلک پارکس بند کئے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر جن ممالک اور گروہوں نے اسے مذاق سمجھا وہ اب تیزی سے افراتفری میں ہر چیز کو بند کر رہے ہیں۔ یہ وائرس کوئی مذاق نہیں تھا اور نہ ہی کسی ایک ملک کی سازش، جیسا کہ بعض دانشور اس بارے کہہ رہے تھے۔

چین نے اپنے 700 ملین افراد کے ایک دوسرے سے رابطے ختم کر کے جو لاک ڈاؤن کیا تھا اس کی اسے بھاری قیمت اٹھانی پڑی ہے۔ ایک حکومتی اکنامک سروے کے مطابق اس کی انڈسٹریل پیداواراس ماہ کئی دہائیوں میں سب سے کم ہوئی ہے۔ فروری میں اس کی بے روزگاری کی شرح کئی دہائیوں کی نسبت سب سے زیادہ رہی ہے۔ اس بھاری قیمت پر چین کی حکومت اس وائرس کو اس وقت کسی حد تک کنٹرول کرنے کے قابل ہوئی ہے اور اس ملک میں پہلی دفعہ وائرس کے شکار افراد میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس بحران کے باعث شدید متاثر ہونے والے شعبوں میں سرِ فہرست زرعی، صنعتی اور تعمیراتی ادارے اور ان شعبوں میں کام کرنے والے دیہاڑی دار ہیں۔ بنیادی طور پر ایک طرح یا دوسری طرح سے یہ سب ایک ہی لوگ ہیں کیونکہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں یہ گاؤں اور چھوٹے شہروں کے بے زمین خاندان ہیں جن کے مرد اور عورتیں روزانہ کی بنیاد پر ایسے مختلف شعبوں میں محنت کرکے اپنے لئے دو وقت کے کھانے کا بندوبست کرتے ہیں۔

صحت اور تعلیم جیسی بنیادی اور لازمی ضروریات سے یہ کروڑوں انسان ہمیشہ ہی سے محروم رہے ہیں۔ اس لاک ڈاؤن کے باعث زرعی لیبر کی کھپت محدود ہوچکی ہے اور شہروں میں کام نہ ہونے کے باعث خاندان کے باقی افراد بھی اپنے آبائی علاقوں میں واپس آچکے ہیں۔ سو اِن لاکھوں خاندانوں کے حالات زندگی ناقابل بیان ہیں۔ پہلے جہاں مشکل حالات میں دکانداروں سے ادھار لیکر گزر ہو جاتا تھا سو وہ سلسلہ بھی اب مکمل طور پر بند ہوچکا ہے کیونکہ چھوٹے دکاندار ان حالات میں نقد سودا نہ بیچ کر خود بیروزگار ہو جائیں گے۔ پس حقیقی معنوں میں فاقے ہیں۔

مزارعین اور بانڈڈ لیبر کی زندگی پاکستان میں پہلے ہی غلاموں سے کم نہیں ہے۔ وہ ان تمام طرح کی تباہیوں کا شکار ہیں جن سے ایک انسان اس دنیا میں ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر بیماری کا علاج اکثر اوقات مذہبی دعاؤں سے کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے اوراسے کلچر بنا لیا گیا ہے۔ کرونا وائرس بارے بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس بارے عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ باتوں پر عمل کیا جائے۔

پاکستان کی ریاستی اور سیاسی مشینری اس سے زیادہ نااہل، ناقابل اور بیکار کبھی تاریخ میں نہیں نظر آئی۔ اس بحران نے اسے بالکل ہی ننگا کردیا ہے۔ اس بحران میں ریاست کا کردار ایک دور کھڑے تماشائی سے زیادہ نہیں ہے۔ مکمل معاشی لاک ڈاؤن ہوئے 20 سے زائد دن گزر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم پاکستان نے”گھبرانا نہیں ہے“ کے کھوکھلے نعرے سے علاوہ کوئی عملی اور ٹھوس کام نہیں کیا۔

مسلسل آمریتوں اور جمہوری پارٹیوں کی آمرانہ سیاست کے باعث بلدیاتی ادارے تباہ اور مکمل طور پر غیر فعال ہوچکے ہیں۔ ریاست کی عدم دلچسپی اور کسی بھی قسم کے ریاستی فلاحی ڈھانچے کے نہ ہونے کے باعث لوگ اپنے حال آپ زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ ریاست کا تصور میڈیا چینلز پر بیانات یا سڑک پر لگے فوج اور پولیس کے ناکوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔

ایسے میں صرف سماجی یکجہتی، جو مختلف طرح کی سماجی تنظیموں کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت کی جارہی ہے، ہی ان لاکھوں خاندانوں کے بقا اور سلامتی کی ضمانت ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔