پاکستان

بارشوں سے ہونے والی تباہی کے نقصانات کے ازالہ کے لئے غیر ملکی قرضے ضبط کیے جائیں

فاروق طارق

ملک بھر میں ہونے والی مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، سندھ خاص طور پر اس سے متاثر ہوا ہے، جہاں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اربوں روپے کے نقصانات گھروں میں پانی داخل ہونے سے ہوئے ہیں۔

تا حد نظر اندرون سندھ کے دیہات بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر کپاس اور مرچ کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سوات، بشام اور کئی دیگر علاقوں میں دریاؤں میں سیلاب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ شاہراہ قراقرم بھی کئی مقامات سے تیز بارشوں کے باعث زیر آب ہے اور گلگت بلتستان کے راستے کٹ چکے ہیں۔

ضلع تلہ گنگ میں مقامی چھوٹے ڈیموں کا پانی باہر نکل کے مقامی دیہاتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ جھنگ ضلع کے درجنوں دیہات بھی زیر آب ہیں۔ سیلاب کے ریلے بڑھتے جا رہے ہیں۔

سندھ کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان میں کراچی کے چھ اضلاع، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو، میرپور خاص، عمر کوٹ تھرپارکر، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ شامل ہیں۔ بارشوں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی ڈیڑھ سو سے بڑھ چکی ہے۔

شدید بارشوں کی وجہ سے جو 24 اگست سے جاری ہیں، کراچی شہر کے بیشتر رہائشی اور کاروباری و نشیبی علاقے کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ شہر کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں گلشنِ حدید، سرجانی ٹاؤن، ملیر ندی سے ملحقہ علاقے، کورنگی، لانڈھی، ڈیفنس، منظور کالونی، شاہ فیصل کالونی اورنگی ٹاؤن، آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، کھارادر، نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، گلبرگ، بفرزون، عزیز آباد اور لیاقت آباد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ گزری، کیماڑی، سعدی ٹاؤن، قائد آباد اور گلستان جوہر کے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے سانگھڑ، عمر کوٹ، میر پور خاص اور دیگر کا دورہ کر کے بتایا کہ سندھ ڈوب چکا ہے اور فیڈرل سطح سے انہیں کوئی امداد نہیں ملی۔ ادھر فیڈرل حکومت کی سنگدلی کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ عمران خان ابھی تک سندھ نہیں پہنچے، انکے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ کے ایک وزیر نے دس ارب روپے وفاق سے مانگے ہیں۔ یہ رقم ان کے پاس نہیں اور اگر ہوتی بھی تو یہ رقم سندھ کے حوالے نہ کرتے۔ وفاق نے اس سال 1837 ارب روپے غیر ملکی قرضہ جات کی مد میں ادا کئے ہیں۔ لیکن ان کے پاس سندھ کے بارش میں ڈوبتے عوام کے لئے دس ارب روپے بھی نہیں ہیں۔

یہ ترجیحات کا ایشو ہے کہ آرمی چیف دو ستمبر کو سندھ کا ہنگامی دورہ اس وقت کریں گے جب چھ دنوں سے شدید بارشوں سے کراچی سمیت بے شمار دیگر شہر ڈوبے ہوئے ہیں اور کراچی کے اکثر علاقوں میں بجلی پانچ دن تک غائب رہی ہے۔

2006ء میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو نجی کاروان کے حوالے کئے جانے کے بعد ”کے الیکٹرک“ کراچی کے عوام کو اپنے دلفریب نعروں کے باوجود عملی جامہ پہنانے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ یکم ستمبر کو کے الیکٹرک بارے چیف جسٹس کے ریمارکس انتہائی اہم اور حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ ”کے الیکٹرک نے 2015ء سے حکومت کو کوئی پیسے ادا نہیں کئے۔ حکومت ”کے الیکٹرک“ کی منشی بنی ہوئی ہے“۔ یہ ہے نجکاری کا نتیجہ اور چیف جسٹس کے ان مشاہدات نے نجکاری کرنے کے حکومتی تمام دلائل کو رد کر دیا ہے۔

بارشوں نے پاکستان کے اور خاص طور پر سندھ میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی ناکامی کو بے نقاب کیا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے رکھوالے چاہے وہ ایم کیو ایم والے ہوں یا پی پی پی والے، سندھ میں بنیادی انفراسٹرکچر تعمیر کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست ہی نہیں، نکاسی آب کے نالوں پر مکانات کی تعمیر کو ہونے دیا گیا، کراچی میں خاص طور پر ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ان بارشوں نے جو تباہی پھیلائی وہ ان کی اپنی تیار کردہ تھی۔ سندھ کے مشیر عبدالوہاب کہتے ہیں ”ان علاقوں سے پانی کہاں نکالیں۔ نکالنے کے لئے کوئی جگہ ہی نہ چھوڑی گئی“۔ سمندر میں مٹی ڈال ڈال کے انہوں نے بارش کے پانی کے سمندر میں گرنے کے قدرتی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ ڈی ایچ اے میں رہنے والوں نے بھی زندگی میں پہلی دفعہ ان فوجی ہاؤسنگ سوساٹیوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔ اور ان میں ہونے والی کرپشن کا بار بار ذکر کیا۔

بارشیں اس سال اس لئے بھی زیادہ ہوئیں کہ موسمی تغیرات کو روکنے کے لئے حکومتوں نے کوئی خاطر خواہ انتظام نہ کئے تھے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق غربت، بیروزگاری، بڑھتی آبادی اور موسموں کے تابع زراعت پر انحصار کے باعث دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیا کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جرمن واچ نامی عالمی تھینک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ عالمی ماحولیاتی اشاریے میں پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ملکوں میں کیا گیا ہے جو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ مگر اس خطرے کو روکنے کے لئے کوئی بنیادی کام نہ کئے گئے۔

زیادہ بارشیں قدرتی آفات نہیں بلکہ انسانوں کی اپنی پیدا کردہ صورتحال سے ہیں۔ اس سے نقصانات میں بے شمار اضافہ ہو گیا ہے۔ ان سے نپٹنے کے لئے ضروری اقدامات سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں بارشوں سے ہونے والے تمام نقصانات کو فوری طور پر پورا کرنے کے لئے بجٹ ترجیحات تبدیل کی جائیں۔ غیر ملکی قرضہ جات ادا کرنے سے فوری انکار کیا جائے اور دفاعی بجٹ میں کم از کم 10 فیصد کمی کر کے اسے نقصانات کے ازالے اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔