دنیا

فائر برگیڈ آتش زنوں کے حوالے: روس، چین، سعودیہ یو این کی انسانی حقوق کونسل کے امیدوار

فاروق سلہریا

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق روس، چین اور سعودی عرب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ گارڈین کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے: یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ فائر برگیڈ آتش زنی کرنے والوں کے حوالے کر دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق پندرہ نشستوں کو پر کیا جانا ہے۔ لاطینی امریکہ (3 نشستیں)، افریقہ (4 نشستیں)، مشرقی یورپ (2 نشستیں)، مغربی یورپ (2 نشستیں)، ایشیا پیسیفک (4 نشستیں) کے لئے مخصوص نشستوں پر صرف ایشیا پیسفک کی نشستوں کے لئے مقابلہ ہو گا کیونکہ لاطینی امریکہ میں تین نشستوں کے لئے تین اور افریقہ میں چار نشستوں کے لئے چار ہی امیدوار ہیں۔ اس لئے مقابلے کی ضرورت ہی نہیں۔ مشرقی اور مغربی یورپ میں بھی یہی صورت حال ہے۔

مقابلہ صرف ایشیا پیسفک میں ہو گا جہاں سعودی عرب، چین، پاکستان، نیپال اور ازبکستان امیدوار ہیں۔

معلوم نہیں چین اور سعودی عرب کس منہ سے اس انتخاب میں حصہ لیں گے لیکن گارڈین نے جو واویلا مچایا ہے اس پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے۔

گارڈین نے نہ صرف روس، چین، سعودی عرب اور کیوبا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ لگے ہاتھوں وینزویلا کو بھی رگید دیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ان تمام ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال کم یا زیادہ پیمانے پر خراب ہے لیکن سعودی عرب اور کیوبا کو ایک ہی پیمانے پر تولنا سامراجی بیانئے کی روایتی منافقت ہے۔

اس سے بھی بڑی منافقت یہ ہے کہ سامراجی ممالک کو انسانی حقوق کا علمبردار بنا کر پیش کیا جائے۔ یہ درست ہے کہ سامراجی ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہے (وہاں بھی کینیڈا اور امریکہ کے درمیان فرق پایا جائے گا) لیکن سامراجی ممالک کی انسانی حقوق کی کارکردگی صرف اندرونی طور پر نہیں بیرونی محاذ پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مثلاً: امریکہ، فرانس اور برطانیہ سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ جب سعودی جہاز یمن پر بمپاری کرتے ہیں تو انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی ذمہ داری سامراج پر بھی عائد نہیں ہوتی؟ خاص کر جب صدر ٹرمپ سر عام یہ کہتے ہیں کہ سعودی بادشاہت امریکی سرپرستی کے بغیر ایک ہفتہ نہیں نکال سکتی۔

افریقہ کے اندر جاری ہرخانہ جنگی میں یورپی ممالک ملوث ہیں۔ تیسری دنیا کی لگ بھگ ہر آمریت سامراج کی مدد سے قائم ہے۔ وینزویلا پر امریکی پابندیاں چار لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہیں۔ کیا یہ پابندیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟

ایران اور اس سے پہلے عراق پر امریکی پابندیاں لاکھوں اموات (اقوام متحدہ کے اپنے جائزوں کے مطابق) کا موجب بنیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سامراج کے دو چہرے ہیں۔ اندرونی محاذ پر بلا شبہ سامراجی ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال بہت بہتر ہے۔ کاش ایسی ہی صورت حال ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے سب ممالک میں بھی نظر آئے۔

سامراج کا دوسرا چہرا ہمیں گلوبل ساوتھ میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں سامراج کے سامنے درجنوں محمد بن سلمان بھی بونے نظر آئیں گے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔