فن و ثقافت

خیام: لاہور کا بمبئی سے آخری اہم رشتہ ٹوٹ گیا

شعیب گنڈاپور

جس انداز سے مختلف دھنیں ہمارے دماغ پر نقش ہوتی ہیں، اس سے ہماری یادداشت کے ارتقائی عمل کا پتہ ملتا ہے۔ ہماری یادداشت آوازوں، تصویروں اور نظاروں کو ہماری زندگی کے خاص مراحل اور احساسات سے منسلک کر دیتی ہے۔

جہاں تک بات موسیقی کی ہے، کبھی کبھار کوئی نغمہ اپنی دھن یا شاعری کے باعث ہمارے دبے جذبات پر دستک دیتا ہے۔ اور کبھی کوئی ساز ہماری یادداشت میں زندگی کے ان حالات سے جڑ جاتا ہے، جن سے ہم اس ساز کو پہلی بار سنتے وقت گزر رہے تھے۔

فیض کی غزل ’کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں‘ کے مکمّل اشعار کو ڈھونڈتے ہوئے، آج سے کئی برس پہلے ایک شام میرے سرچ رزلٹ میں خیام کی وہ کمپوزشن آ گئی جو انہوں نے اس غزل پر ترتیب دی تھی۔ اسے پہلی بار سنتے ہی اس کے اثر نے مجھے مسحور کر دیا۔ ہندوستانی فلمی موسیقی سے تھوڑی بہت شناسائی رکھنے والے بھی خیام کے بہت سے بہترین گیت سن چکے ہوں گے مگر اکثر سننے والے اس طرف توجہ نہیں دیتے کہ ان گیتوں کے موسیقار کون ہیں۔ ان کی یہ غزل سننے کے بعد میں نے ان کے بارے میں مزید جاننا چاہا، کیونکہ نہ صرف یہ دھن ان کی تھی بلکہ غزل کو آواز بھی انہوں نے ہی بخشی تھی۔

خیام کی مخصوص متوازن آواز اور فیض کی باکمال شاعری کا اس نغمے میں ساتھ جگجیت کور نے دیا ہے۔ جگجیت کور، جو خیام کی اہلیہ تھیں، کی آواز اپنی دلفریبی میں نرالی تھی جسے سن کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آواز زمین سے ابھر رہی ہو۔ اس غزل کو مظفر علی کی فلم ’انجمن‘ کے لئے گایا گیا تھا۔

لکھنؤ میں ا چکن کی کشیدہ کاری کرنے والی ایسی خواتین کی جدّوجہد کو اس فلم کا موضوع بنایا گیا تھا جن کو ایجنٹوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں بدترین استحصال کا سامنا تھا۔ پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی اس فلم کو فیض احمد فیض کے نام منسوب کرنے کی وجہ بنی۔ فلم مکمّل تو ہو گئی مگر اس کے موضوع کی وجہ سے ڈسٹری بیوٹرز کو اس کی کمرشل کامیابی کے امکانات کم کم ہی نظر آئے باوجود اس کے کہ خیام، شبانہ اعظمی اور مظفر علی جیسے بڑے بڑے نام اس فلم سے منسلک تھے۔ ’انجمن‘ سینماؤں میں ریلیز نہ ہوئی جس کی وجہ سے اس کی عمدہ موسیقی زیادہ مقبولیت سے محروم رہی مگر اتفاقاً یہ بہترین نغمہ میری یادداشت کا حصہ بن گیا۔

جب میں نے یہ نغمہ سنا، اُن دنوں میں نائجیریا کے شہرلاگوس میں مقیم تھا۔ جب بھی یہ نغمہ سنتا ہوں، لاگوس میں لیکی کے ساحل پر چہل قدمی کی یاد آتی ہے، جب میں ہیڈفون پر لگاتار اسے سنے ہی جاتا تھا۔ خوشگوار معتدل موسم، ساحل سے ٹکراتی بحر اوقیانوس کی موجیں، مشروبات، مکئی کے بھٹے اور دستکاری کا سامان بیچتے ہوئے ٹھیلے والے۔ سب یادوں کے کینوس پر ابھرنے لگتا ہے:’صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں‘۔ کیسے غیر متوقع طور پر کچھ دھنیں کچھ یادوں سے جڑ جاتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے خیام کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں ان کے کئی انٹرویو سنے۔ ہندوستان میں موسیقی کی دنیا میں ان کا قدم رکھنا کیسے ممکن ہوا، یہ ان کے عزم اور یکسوئی کی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں تعلیم پر بہت توجہ دی جاتی تھی مگر خود خیام کا پڑھنے لکھنے کی جانب زیادہ جھکاؤ نہیں تھا۔ اوائل جوانی میں ہی وہ جالندھر میں اپنا گھر چھوڑ کر اپنے چچا کے پاس دہلی چلے گئے۔ جب چچا کو معلوم ہوا کہ بچہ گھر سے بھاگ کر آیا ہے تو خوب ڈانٹا، مگر جب احساس ہوا کہ فلم اور موسیقی مکمّل طور پر خیام کے دل و دماغ پر چھا چکی ہے، تو گانا سیکھنے کے لئے انہیں پنڈت امرناتھ کی شاگردی میں دے دیا۔

دہلی کے بعد وہ فلموں میں اپنی قسمت آزمانے بمبئی گئے۔ زیادہ کامیابی نہ ملی تو لاہور کا رخ کیا۔ کسی نے بابا چشتی کے پاس جانے کا مشورہ دیا جوچالیس کی دہائی کے معروف موسیقار تھے۔ یہاں پر قسمت نے خیام کا ساتھ دیا۔ خیام بابا چشتی کے بڑے سے سٹوڈیو میں جا کر چپکے سے ایک کونے میں کھڑے رہے اور گھنٹوں بابا چشتی کو بے ساختہ دھنیں تخلیق کرتے ہوئے سنتے رہے۔ دن کے اختتام پر بابا چشتی صبح بنائی گئی ایک دھن کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کمپوزیشن ریکارڈ کی گئی تھی اور نہ ہی ان کے اسٹاف میں کسی کو یاد تھی۔ اس موقع پر کونے میں کھڑے خیام بول پڑے:”میں وہ دھن سنا سکتا ہوں“۔ پہلے تو بابا چشتی برہم ہوئے کہ یہ لڑکا کہاں سے آیا تھا اور سٹوڈیو میں بغیر اجازت گھس کر کیا کر رہا تھا۔ سرزنش کرنے کے بعد بابا چشتی نے خیام کو دھن سنانے کو کہا. خیام کو سن کر بابا چشتی بہت متاثر ہوئے اور فوراً انہیں اپنی شاگردی میں لے لیا۔ بابا چشتی ہی نے خیام کو ان کی پہلی فلم ’ہیر رانجھا‘ میں کمپوز کرنے کا موقع دیا۔ یہ فلم 1948ء میں ریلیز ہوئی۔

یہ سات دہائیوں پر محیط ایک شاندار کیریئر کا آغاز تھا۔ اتنے طویل عرصے تک انڈسٹری میں کام کر کے خیام نے سینکڑوں گیتوں کی دھنیں ترتیب دیں۔ ہر دھن کی ترتیب کے پیچھے ایک واقعہ ایک کہانی ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات خیام اپنے انٹرویوز میں سنایا کرتے تھے۔ ان کہانیوں میں بہت سے فنکاروں، گلوکاروں، ہدایتکاروں کی کہانیاں بھی شامل ہیں جنہیں خیام نے اپنے سامنے انڈسٹری میں داخل ہوتے اور ترقی کرتے دیکھا۔

ان کی موسیقی کا انداز ہمیشہ گہرا اثر چھوڑنے والا، جذباتی اور منفرد رہا۔ کچھ ایسے بھی موقعے آئے جب کچھ پروڈیوسرز نے کہا کہ خیام کی موسیقی کا وقت گزر چکا ہے اور اب عوام کچھ نیا سننا چاہتے ہیں مگر سننے والوں نے ان کی کمپوزیشنز کو مقبولیت بخش کر ایسے شبہات کو ہر بار غلط ثابت کردیا۔ ”کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے“، ”اے دلِ نا داں“، ”دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجئے“، ”دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا“، ”یہ کیا جگہ ہے دوستو“ اور اس طرح کے بہت سارے لازوال نغمے آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

جب بھی ان کی بیگم، جگجیت کور، کا ذکر ہوتا، خیام اپنی تمام تر کامیابیوں کو ان کی مرہون ِمنّت قرار دیتے۔ جگجیت کور خود ایک منجھی ہوئی گلوکارہ تھیں۔ انہوں نے خیام کی کچھ دھنیں گائیں بھی، مگرپھر فیصلہ کیا کہ وہ زیادہ توجہ خیام کے کام میں معاون بننے پر دیں گی۔ ساحر لدھیانوی کا

لکھا ہوا ایک گیت، جسے جگجیت کور نے خیام کی بنائی ہوئی دھن پر گا یا تھا، ”تم اپنا رنج و غم، اپنی پریشانی مجھے دے دو“ بہت پسند کیا گیا۔ اسی گیت میں ایک شعر تھا:

میں دیکھوں تو سہی دنیا تمھیں کیسے ستاتی ہے
کوئی دن کے لئے اپنی نگہبانی مجھے دے دو

خیام ہمیشہ اس شعر کو جگجیت سے منسوب کرتے کیونکہ ان کے بقول جس طرح جگجیت کورنے ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھایا اور اور زندگی کے سرد و گرم میں ان کا ساتھ دیا، اس کی ترجمانی یہ شعرکرتاہے۔

ہندوستان کے تمام مایہ ناز گلوکار، چاہے وہ لتا منگیشکر ہوں یا محمد رفیع، آشا بھوسلے ہوں یا مکیش اور کشور کمار، خیام کی دھنیں گا چکے ہیں۔ اتنے بلند پایہ موسیقار ہونے کے باوجود خیام کی طبیعت کی عاجزی پر فرق نہیں پڑا۔ خیام جب اپنی یادوں کے سفر کے متعلق بتاتے تو فلم انڈسٹری میں مروج ایک رکھ رکھاو، وضع داری اور شائستگی کے ماحول کا تاثر ملتا تھا۔ لگتا ہے اب ایسی تہذیب ایک قصّہِ پارینہ بن چکی ہے۔ وہ خدا کا جب بھی شکر ادا کرتے، اسے اللہ، ایشور اور واہیگرو ایک ہی ساتھ پکارتے۔ وہ عالمگیر انسانیت پر یقین رکھتے تھے۔

کچھ سال پہلے انہیں اپنے اکلوتے جواں سال بیٹے کی موت کا گہرا صدمہ سہنا پڑا۔ اپنی نوے ویں سالگرہ کے موقع پر خیام اور ان کی اہلیہ نے ایک ٹرسٹ قائم کیا جس کا مقصد ضرورت مندآرٹسٹوں کی مالی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر جائیداد اس ٹرسٹ کے نام وقف کر دی تھی۔

Shueyb Gandapur

شعیب گنڈاپور لندن میں مقیم ایک فری لانس لکھاری ہیں جو سیاست، ثقافت، سیاحت اور ادب کے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے سفر کے دوران اخذ کیے گئے تاثرات کو وہ اپنے انسٹاگرام ہینڈل shueyb1 @ پر شیئر کرتے ہیں۔