فن و ثقافت

دیوداس کا جادو اور سماجی بے حسی!

قیصرعباس

بنگالی ناول نگار سچندر چٹھپا دھیا کی لازوال تصنیف ”دیوداس “ برصغیرکے ان مقبول ناولوں میں سے ایک ہے جو 1917ء میں اشاعت کے بعد گذشتہ ایک صدی سے نہ صرف فلمی صنعت بلکہ لوگوں کے دل ودماغ پرحاوی ہے۔ اس عرصے میں انڈیا، پاکستان اوربنگلہ دیش میں بنگالی، ہندی، اردو، تلیگو، ملیالم ا ور آسامی زبانوں میں اس ناول پر فلمیں بن چکی ہیں۔

ان فلموں کے ذریعے دیوداس ایک دیسی ہیرو کا عوامی استعارہ بن گیاہے جو اپنے بچپن کی محبوبہ پاروتی کے عشق میں گرفتار ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے سماج سے مقابلہ کرنے کی بجائے خود شکستگی کی راہ پر گامزن ہوگیا ہے ا ورآخرکار اپنی جان دے دیتاہے۔

مگریہ صرف ایک رومانوی داستان نہیں، طبقاتی تفریق، معاشرے میں صنفی عدم مساوات اورجاگیردارانہ تسلط کی کہانی بھی ہے جوبرصغیر کے صدیوں پرانے سماجی رویوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

دیو داس پر سب سے پہلی فلم1935ء میں بنی جسے پی سی بروا کی ہدایت کاری میں بمل رائے نے فلمبند کیا۔ کے ا یل سہگل، جو اس وقت کے مشہورگلوکار بھی تھے، فلم کے ہیرو تھے اور جمنا ہیروئن تھیں۔ بنگالی زبان کی یہ فلم روائت اور جدیدیت کے امتزاج کے ساتھ ہندو دیو مالائی تصورات کو ساتھ لئے اپنے زمانے کی ایک مقبول کہانی کے طورپر ابھری۔

اس کے بعد 1955ء میں بننے والی فلم ہر دور کی لازوال تخلیق ثابت ہوئی جس کی ہدایت کاری پہلی بنگالی فلم کے کیمرہ مین بمل رائے نے کی تھی۔ مقبول رومانوی ہیرو دلیپ کمار, ہیروئن سوچیترا سن اور وجینتی مالا کے ساتھ یہ فلم مقبولیت کی ان بلندیوں تک پہنچی جو مغرب میں ’Gone With The Wind‘ جیسی فلموں کو اب تک حاصل ہے۔ اس فلم میں ا یس ڈی برمن جیسے موسیقار اور ساحر لدھیانوی جیسے نغمہ نگار کے تخلیق کئے ہوئے گانے آج بھی برصغیر کی فضاوں میں گونج رہے ہیں۔

فلم کی کہانی تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو ایک مثلث کے تین کونوں کی طرح ایک دوسرے سے وابستہ بھی ہیں اور الگ بھی۔ پاروتی یا پارونچلی ذات کے ایک متوسط گھرانے کی لڑکی ہے اور دیوداس ایک جاگیر دارکا بیٹا۔ دونوں اپنے بچپن کی محبت کو سماج کی روائتوں سے بچانے کی کوششِ ناکام میں مصروف ہیں لیکن دونوں سماجی گورکھ دھندوں کے اندھے کنویں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اس حیثیت سے دونوں کردار دو مختلف طبقوں کی نمائندگی بھی کررہے ہیں۔ تیسرا کردار ایک طوائف چندر مکھی کا ہے جو دیوداس کے عشق میں گرفتارہے۔ صبر و ایثار کی یہ تصویر ہر طرح سے ہیرو کا دل جیتنے کی کوشش کررہی ہے جو اپنے سپنوں میں کسی اور کو بسائے بیٹھاہے اور اسے صرف غم غلط کرنے کا وسیلہ سمجھتا ہے۔

کہانی ایک کم حیثیت لڑکی اورمردانہ زعم میں گرفتار ہیرو کے گھمنڈ کو بھی آشکار کرتی ہے جب وہ ایک غلط فہمی کو دور کرنے کی بجائے اسے ایک خط میں پیغام بھیجتا ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتاجب کہ در حقیقت وہ اس کے عشق میں پاگل ہے۔

کہانی کے اس موڑ پر پاروتی سماج میں صنف نازک کی حیثیت اور طبقاتی استحصال کی دو دھاری تلوارکی زد میں ہے۔ اپنے محبوب کی بے اعتناعی اوراس کے خاندان کے ذلت آمیز سلوک کے بعد وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک امیر اور عمر رسیدہ جاگیردار سے شادی پر آمادہ ہوجاتی ہے جسے اپنی بیوی کی موت کے بعد اولاد کی دیکھ بھال کے لئے نئی جاگیردارنی کی ضرورت ہے۔ اس طرح پاروتی اپنے تئیں سماج سے انتقام تولے رہی ہے لیکن خود شکستگی کی تاریک اور کٹھن راہوں سے گزرتے ہوئے۔

کہانی کا پلاٹ پدر سری معاشرے میں ایک با اثر جاگیردار اور اس کے خانوادے کی کھوکھلی روائتوں کو طشت ازبام کرتاہے جہاں وہ اپنے نوجوان بیٹے کی آرزؤں کو قربان کرتے ہوئے اپنے طبقاتی مفاد ات کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف دیوداس جو اپنے بچپن کے عشق میں بری طرح گرفتارہے، جاگیرداری اور موروثی نظام کی زنجیر وں کو توڑنے کی بجا ئے اپنی ذات کے زندان میں پناہ لے کر رفتہ رفتہ خود کو تباہ کرلیتاہے۔ کہانی برصغیر کے پیچیدہ معاشرتی رشتوں کو بے نقاب کررہی ہے جہاں ایک نچلے طبقے کے ہمسائے سے سماجی تعلقات رکھنا تو جائز ہے مگر اسے اپنی اونچی ذات کی حویلیوں میں شامل کرناکسی گناہ سے کم نہیں۔

لیکن کہانی کا یہی پیچیدہ موڑ اور اس کا المناک انجام برصغیر کے باسیوں کے ذہنوں کو ایک صدی سے مسخر کئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کہانی کو کسی بھی پہلو سے فلما یا جاتا ہے یہ باکس آ فس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتی ہے۔

اسی کہانی کو 2002ء میں ایک اور کامیاب ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے ایک مہنگے بجٹ کے ساتھ پھر فلما یا جس میں لالی پاپ ہیرو شا ہ رخ خان اور گلیمرس ہیروئن ایشوریا رائے نے ہیر و ہیرو ئن کے کردار ادا کئے۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی لیکن اس کے سیٹ کی چمک دھمک اور شاہانہ ماحول کی عکس بندی، جو ہدایت کار کا خاصہ ہیں، معاشرے کی صحیح عکاسی نہیں کرسکے۔ خوبصورت سیٹ اور اعلیٰ فلمبندی کے بل بوتے پر اس فلم کو خا صی پذیرائی ملی لیکن کچھ مبصرین کے خیال میں وہ بھر پور کردار نگاری اورمعاشرے کی حقیقت پسندانہ عکاسی جو پرانی فلموں میں نظر آتی تھی اس فلم میں موجود نہ تھی۔

بالی وڈ کے ایک اور با صلاحیت ہدایت کار انو راگ کشیاپ نے 2009ء میں اسی کہانی کو ایک نئے روپ میں فلمایا جس میں پنجابی ماحول کی عکاسی کی گئی تھی۔ فلم کا انگریزی نما نام ”دیو۔ ڈی“ بھی بالی وڈ کے جدید دور کا غماز تھا جس میں ایک پرانی کہانی کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ا بھے دیول نے دیوداس اور ماہی گل نے پارو کے کردارنبھائے جبکہ اداکارہ کلکی کو چلن نے طوائف کا نیاکردار لینی کے روپ میں پیش کیا۔ فلم کی پوری کہانی نوجوان ہیرو اور ہیروئن کے درمیان غلط فہمیوں اورہیرو کی کھوکھلی مردانگی کے گرد گھومتی ہے جس میں پنجاب کی روائتی رومانوی فضا وں میں ہیرو کے تضادا ت کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ جہاں خود اس کے لئے دوسری لڑکیوں سے فلرٹیشن تو جائز ہے مگر ایک دوست کی غیرمستند افواہ پر کہ وہ اس کی محبوبہ کے ساتھ سوچکاہے اسے زدو کوب کرتاہے۔ یہاں بھی ایک مرد اپنی ہیروئن کو صرف ایک غلط فہمی کی بنیادپر مسترد کردیتاہے اور عورت یہاں بھی مرد کے استحصالی رویے کا شکار نظر آتی ہے۔ فلم میں کاشیاپ کی تخلیقی صلاحیتیں موسیقی، فلمبندی اور ایڈیٹنگ کے نئے زاویے استوارکرتی نظر آتی ہیں، ایک آزمودہ کہانی کو ا چھوتے رنگ دیتے ہوئے۔

پاکستان میں بھی دیو داس کے نام سے اب تک د و فلمیں بن چکی ہیں۔ ہدایت کار خواجہ سرفراز نے 1965ءمیں پاکستان کے پرد ہ سیمیں پر پہلی دیوداس فلم پیش کی تھی جس کے ہیرو حبیب، ہیروئن شمیم آرا اور دوسرے اداکاروں میں آغاطالش اور نیرسلطانہ شامل تھے۔ یہ فلم بمل رائے کی کلاسیک فلم سے بہت مشاہبت رکھتی تھی مگر یہی خصوصیت اس فلم کی ناکامی کی بنیاد بھی بنی۔ فلم اگرچہ ایک اچھی کاوش تھی لیکن اداکاری اور کہانی میں کوئی نیا رنگ نہ بھر سکی۔ اقبال کاشمیری نے بھی اس امر کہانی پر ایک فلم 2010ء میں پیش کی جس میں زارا شیخ نے پارو، ندیم شاہ نے دیوداس اور میرا نے چندر مکھی کے کردار نبھائے۔ فلم ناول سے بہت قریب تھی لیکن روائتی، میلوڈرامیٹک ادائیگی اور غیر معیاری اداکاری کا شکار ہوگئی۔

مجموعی طورپر اس ناقابل فراموش ناول اور اس پر بنی فلموں کی کہانیاں برصغیر کے پیچیدہ معاشروں کے ان بیانیوں کو اجاگر کرتی ہیں جس میں عورت مرد کے مقابلے میں ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے جو اس کے جابرانہ سخت گیر رویوں کا شکارہے۔ ان تمام فلموں میں معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو بھی رومانوی رویوں پر غالب دکھایا گیا ہے جس میں اونچی ذات کا ایک خوبرو ہیرو نیچی ذات کی ایک حسین ہیروئن کے عشق میں گرفتار تو ہوسکتا ہے لیکن اس کے لئے معاشرے کی مخالفت مول نہیں لے سکتا۔ یہ تضادات معاشرتی بھی ہیں اور طبقاتی بھی جو انفرادی تضادات کو جنم دیتے ہیں۔

ان تضادات کے علاوہ دیوداس جیسی فلموں نے جنوبی ایشیائی معاشروں میں جو نفسیاتی اثرات مرتب کیے ہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ سماجی ارتقا کی راہ میں ہمالیہ بن کرکھڑے ہیں۔ اس ناول کی کہانی پر مبنی فلموں نے پورے برصغیر کے سماجی رویوں پر ایک ایسا اثر چھوڑا ہے جس نے بٹوارے سے پیشتر اور بعدکی نسلوں میں ناامیدی، سماجی بے حسی اور خود شکستگی کے رویوں کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکیاہے۔ اپنی ذات کی چاردیواری میں بند ہوکر سماجی حقیقتوں سے الگ تھلگ رہنے کایہی رویہ پاکستان میں بھی اپنے حالات پر خاموشی اور مزاحمت سے گریز کا درس دیتا ہے۔ گزشتہ بہتر سالوں میں اشرافیہ اور ان کے حواریوں نے لوٹ کھسوٹ کا جوبازار گرم کیاہے اس پر ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ عام لوگوں کی زندگی کے بڑھتے ہوئے مسائل نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے لیکن وہ اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کررہے ہیں۔

دیوداس کارومانوی کھیل اب بھی ایک سدابہار کہانی کے روپ میں کہیں نہ کہیں تھیٹر، ٹی وی یا پردہ سیمیں کی زینت بن رہاہے اور شاید بنتا رہے گاکہ اس میں رومان، جذباتی کشمکش، المیہ ڈرامے کے تمام اجزا شامل ہیں لیکن ایک ہی کہانی کو باربار دیکھ کر شاید فلموں کے شائقین اب کچھ نیا پن دیکھنا چاہتے ہیں۔ نئی نسل اب پردہ سیمیں پر ایک ایسا دیوداس اور پاروتی دیکھنے کی خواہش مند ہے جو روائتوں کو چیلنج کرتے ہوئے معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرات رکھتے ہوں۔ جو اپنی محبت کو سماجی روایات کی چوکھٹ پر قربان کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ اٹھ کھڑے ہوں اور دوسری طرف طبقاتی دیواروں کو توڑ کر مساوات کا علم بھی بلند رکھنے کاعزم رکھتے ہوں۔ بر صغیر کی فلم انڈسٹری ایک ایسے انقلابی ہدایت کار کی منتظر ہے جو اکیسویں صدی کے تخلیقی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اور معاشرے کے تضادات کا ادراک بھی!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔