فن و ثقافت

میں اور امریتا

یہ مضمون پہلی بار بھارتی انگریزی اخبار ”دی انڈین ایکپریس“ میں شائع ہوا

گلزار

ترجمہ: عدنان فاروق

امریتا جی بارے میری ابتدائی یادیں پنجاب ساہت سبھا بمبئی کے اجلاسوں سے جڑی ہیں۔ میں نے وہیں پہلی بار ان کی مشہور نظم (اج آکھاں وارث شاہ نوں) معروف اداکار و یدایت کاربلراج ساہنی کی زبانی سنی۔

بلراج جی پنجابی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے کہا: ”آپ اردو میں لکھتے ہو، اردو ساہتیہ سمالن کے اجلاسوں میں جاتے ہو، پنجابی ساہت سبھا میں بھی آیا کرو“۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے ایک مرتبہ بلراج ساہنی کو نصیحت کی تھی کہ انسان کو اپنی مادری زبان میں لکھنا چاہئے۔ یہی نصیحت بلراج جی نے مجھے بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات ہے آپ بہت سی زبانیں جانتے ہو مگر پنجابی میں بھی لکھو۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ایک نوجوان لکھاری کے طور پر میرا خیال تھا کہ مجھے اس طرح بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ امریتا جی ان دنوں ایک شاندار حوالہ تھیں۔

میں انجمن ترقی پسند تنظیم (بمبئی) کا رکن تھا اور سکھبیر کے علاوہ نوتیج سنگھ جیسے ادیبوں کو بھی جانتا تھا۔ یہ دونوں ادبی رسالے پریت لاری کے مدیر تھے۔ ہم نوتیج، سکھبیر اور موہن سنگھ کی تحریریں پڑھ رہے تھے۔ انہیں پڑھتے ہوئے بھی یہ احساس رہتا تھا کہ امریتا جی کے کلام میں اور ہی طرح کی تشبیہات ملتی ہیں۔ جوتصویر کشی وہ کرتی تھیں، اس کی بات ہی الگ تھی۔ ان کا رنگ جتنا دنیاوی تھا، اتنا ہی صوفیانہ۔ ۔ ۔ اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن۔ ۔ ۔ یہ بالکل ایک منفرد انداز تھا۔

پھر ان کی خود نوشت کا قصہ! خوشونت سنگھ نے ایک دفعہ انہیں کہا:”ہے کیہہ تیری زندگی، اِک رسیدی ٹکٹ دے پچھے لکھی جانی ہا“۔

میرے خیال سے خوشونت سنگھ نے بہت خوبصورت بات کی تھی۔ امریتا جی نے اتنی ہی خوبصورتی سے اس بات کو سنا۔ اپنی خود نوشت کا نام ہی ”رسیدی ٹکٹ“ رکھ دیا۔

امریتا جی سے ذاتی واقفیت سے قبل میری امروز سے دوستی ہو چکی تھی۔ وہ اُن دنوں بمبئی میں ایک پینٹر تھے۔ وہ معروف اردو رسالے ”شمع“ کے سر ورق بنایا کرتے تھے۔ ہمارا ایک مشترکہ دوست تھا، پردیومان، وہ بھی آرٹسٹ تھا۔ امروز اکثر پردیومان کے پاس آتے اور وہیں ہماری ملاقات ہو جاتی۔ بعد ازاں امروز کے امریتا جی سے تعلقات بن گئے تو کبھی کبھی ان کا ذکر آ جاتا۔ اُن دونوں کے تعلقات کا سب کو معلوم تو تھا گو دونوں کے بیچ رسمی رشتہ نہیں تھا۔ امروز امریتا کو ہمیشہ ”میڈم“ کہہ کر بلاتے۔ اب بھی میڈم ہی کہتے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ اندازِ تخاطب تھا، اس سے امریتا جی کی سنیارٹی جھلکتی تھی۔

جب معروف فلمساز باسو بھٹ اچاریہ نے امریتا پریتم پر دستاویزی فلم بنانے کا سوچا تو ان سے ملنے کے لئے باسو جی مجھے بھی ساتھ لے گئے۔

باسو نے امریتا کی ریکارڈنگ بھی کی ہوئی تھی اور ان کے پاس بہت سا فوٹیج بھی موجود تھا۔ امریتا جی نے امروز کی زبانی میرے بارے سن رکھا تھا، میرے کلام سے بھی واقف تھیں کیونکہ اپنے رسالے ”نگمانی“ میں میرا کلام وہ شائع کر چکی تھیں۔ مجھے پوچھنے لگیں: ”ہور گلزار کیہہ لکھیا اے؟“

میں نے کہا کہ تقسیم بارے آپ جیسا تو نہیں لکھ سکتا مگر ایک نظم کہی ہے:

صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھلا دیکھا
سرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں
پاؤں دھوئے،ہاتھ دھلوائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تندور پہ مکئی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے
پوٹلی میں مہمان میرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کاگڑ لائے تھے
آنکھ کھلی تو دیکھاگھر میں کوئی نہیں تھا
ہاتھ لگا کر دیکھا تو تندور ابھی تک بجھا نہیں تھا
اور ہونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا
خواب تھا شاید، خواب ہی ہو گا
سرحد پار کل رات،سنا ہے چلی تھی گولی
سرحد پر کل رات، سنا ہے
کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا

نظم سنی تو امریتا جی بالکل خاموش ہو گئیں۔ دستاویزی فلم کی ریکارڈنگ چلتی رہی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، فلم کا اختتام انہیں زیادہ پسند نہیں آیا۔ خیر۔ لنچ کا وقت ہو گیا۔ وہ بولیں:”گلزار نظم پھر سے سناو“۔ میں نے سنا دی۔ بولیں:”ایڈی وڈی گل تو اتنی ہولی طرح کہہ گیا“۔ پیک اپ ہو نے لگا تو میرا ہاتھ تھام کر مجھے پاس بٹھا لیا۔ بولیں:”گلزار وہ نظم پھر سناتو“۔ میں نے سنائی۔ یہ تھا ایک طویل ملاقات کا قصہ۔

اس کے کچھ عرصہ بعد امروز اور امریتا بمبئی میرے دفتر مجھے ملنے آئے۔ ان دنوں میرا دفتر میرے گھر ہی میں تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں ان کے ناول ”پنجر“ پر فلم بناؤں۔ وہ ساتھ کچھ نوٹس بھی بنا کر لائیں تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ حامی بھرنے سے پہلے میں یہ ناول پھر سے پڑھنا چاہتا ہوں۔

اگلے روز میں نے ان سے کہا کہ میں اس ناول کا اسکرین پلے لکھوں گا اور سچی بات یہ ہے کہ کسی ہدایت کار کو اپنے ہی اسکرین پلے پر فلم نہیں بنانی چاہئے۔ بولیں کہ انہوں نے اپنا ایک خاکہ لکھ رکھا ہے۔ میرا جواب تھا کہ آپ خود لکھ لیں میں تکنیکی حوالوں سے آپ کی مدد کر دوں گا۔ اگر میں نے اسکی ہدایت کاری کی تو اسے اپنے انداز سے لکھوں گا۔ ان سے یہ بھی کہا کہ اگر میں نے فلم بنائی تو پہلے تین ابواب پر اسی ترتیب سے کام کروں گا مگر باقی کا ناول فلیش بیک میں ہو گا۔ جب کتاب کسی دوسرے میڈیم پر پیش کی جاتی ہے تو اسے عین اسی طرح پیش نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیم کی جان پہچان ضروری ہوتی ہے۔ آپ منشی پریم چند ایسے بڑے ادیب کی کہانی پر ہی فلم کیوں نہ بنا رہے ہوں، آپ کو رد و بدل تو کرنا پڑے گا۔ امریتا کو یہ سب پسند نہیں آیا۔

ساحر اور امریتا

ساحر لدھیانوی کو امریتا پریتم کی زندگی میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ جہاں تک تعلق ہے ان دونوں کے تعلقات کا تو میرے خیال سے وقت کے ساتھ ساتھ کافی مبالغہ آرائی ہو چکی ہے۔

میری ساحر صاحب سے اچھی جان پہچان تھی۔ ہم کئی سال تک، بمبئی کے فور بنگلوز والے کنور لاج میں ہمسائے کے طور پر رہتے رہے۔ میں نے اٹھارہ روپے پر وہاں احاطے میں ایک کمرہ لے رکھا تھا، وہ پہلی منزل پر رہتے تھے۔ اکثر ملاقات رہتی تھی۔ وہ فلم انڈسٹری کی ایک کامیاب شخصیت تھے۔ میں جدوجہد میں مصروف ایک جونیئر ادیب تھا۔

میرے خیال سے ساحر صاحب نے کبھی امریتا جی کے حوالے سے براہ راست یا بالواسطہ رسپانس نہیں دیا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ”چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں“سدھا (ملہوترہ) کے لئے لکھی گئی تھی کیونکہ انہوں نے ہی یہ نظم گائی بھی تھی۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ فل کی ایک اپنی کہانی ہوتی ہے۔ لازمی نہیں وہ کسی فرد کی ذاتی کہانی ہو۔ کم از کم میرا یہ خیال ہے۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ لکھتے ہوئے کوئی لکھاری اپنے ذاتی جذبات اور تجربات کو اپنی تحریر میں لے آئے۔ امریتا جی نے ساحر بارے بہت لکھا۔

میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مجھے سب معلوم ہے مگر امریتا کی نظم ”میں تینوں فیر ملاں گی“ پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ یہ نظم امروز کے لئے لکھی گئی ہے۔ بالکل واضح ہے کہ وہ امروز کے کینوس اور پینٹگز کی بات کر رہی ہے۔

ممکن ہے انہوں نے کچھ نظمیں ساحر کے لئے بھی کہی ہوں لیکن ساحر کی شاعری میں مجھے کبھی کوئی نظم نہیں ملی جو امریتا کے لئے لکھی گئی ہو۔ یہ البتہ میری ذاتی رائے ہے۔ امریتا کی ساحر کے لئے دلچسپی اور ستائش کا میں احترام کرتا ہوں۔ امریتا نے جس طرح مرد عورت کے رشتے پر بات کی، وہ بھی بہت دلچسپی کی حامل ہے۔

وہ ایک جرات مند عورت اور ایک جرات مند شاعرہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیائے ادب میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ میں ایک دفعہ انہیں خراج ِعقیدت پیش کرنے کے لئے ایک سی ڈی ریکارڈ کر رہا تھا اور اس دوران مجھے ان کی بہت سی نظمیں یاد ہو گئیں۔ ”اک بار کبیر کا خیال ضرور آتا ہے“ اور ”وے میں تڑکے گھڑے دا پانی نئیں رہنا“بالکل ہی اور طرح کا کلام ہیں۔

امریتا عمر کے آخری حصے میں تھیں جب میں اور گوپی چند نارنگ، جو اُن دنوں ساہتیہ اکیڈمی کے صدر تھے، ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ دینے کے لئے ان کے گھر گئے۔ وہ بستر میں دراز تھیں اور مجھے یاد ہے کہ امروز انہیں وہ اعزاز دکھا رہے تھے۔ امروز امریتا کو بتا رہے تھے:”ایہہ لے کے آئے نے تساں دے واسطے“۔ انہیں مگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ امروز نے کہا اگر آپ نے پہلے یہ انعام دیا ہوتا تو امریتا کو اچھا لگا ہوتا۔ مجھے اس سارے واقعے پر بہت دکھ ہوا۔

امروز اور امریتا کے تعلق کی بات کریں تو امروز کے صبر اور برداشت کی داد دینی چاہئے۔ میں نے ایک بار دونوں کے خوبصورت تعلق پر نظم کہی تھی:

تیری نظم سے گزرتے وقت خدشہ رہتا ہے
پاوں رکھ رہا ہوں جیسے گیلے کینوس پر امروز کے
برش سے رنگ ٹپکنے لگتا ہے
وہ اپنے کورے کینوس پر نظم لکھتا ہے
تم اپنے کاغذ پر نظم پینٹ کرتی ہو