خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: مقامی انتخابات میں بی جے پی کو شکست، پانچ کمیونسٹ امیدوار کامیاب

حارث قدیر

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں منعقدہ ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے انتخابات میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی زیر قیادت پیپلز الائنس نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے انتخابات میں حصہ لینے والے پانچوں امیدواران کامیاب ہو گئے ہیں۔ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو تمام تر ریاستی حربوں کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلز الائنس کو 108 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ بی جے پی 60 نشستوں اور کانگریس 22 نشستوں پر آگے ہے۔ صوبہ جموں میں بی جے پی 57 نشستوں پر آگے ہے جبکہ پیپلز الائنس 37 نشستوں پر کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ کشمیر میں پیپلز الائنس 71 نشستوں پر آگے ہے جبکہ بی جے پی کو تین نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ 36 آزاد امیدوار بھی برتری حاصل کئے ہوئے ہیں۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں جموں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعد جموں کشمیر میں یہ پہلی سیاسی سرگرمی منعقد کی گئی ہے۔ 25 روز کی مدت میں 8 مراحل میں جموں کشمیر کے 20 اضلاع کی کل 280 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔ پیپلز الائنس اور کانگریس کے 13 ضلع کو نسلیں جیتنے کا امکان ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا 6 ضلعی کونسلیں جیتنے کا امکان ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) کے اتحاد کی طرف سے نامزد کردہ پانچوں امیدوار کامیاب ہو گئے ہیں۔ بہی باغ کے حلقہ سے روبی جاں کامیاب ہوئے، کیموہ کے حلقہ سے عباس راتھر، کولگام اے سے ایم کے اختر، کولگام بی سے غلام محی الدین، حلقہ پمبی سے محمد افضل پرے کامیاب ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی ووٹنگ کا تناسب 51.42 فیصد رہا جبکہ وادی کشمیر میں ووٹنگ کا تناسب 30 فیصد سے بھی کم اور جموں کے کچھ علاقوں میں ستر فیصد سے زیادہ رہا ہے۔ سب سے کم ٹرن آؤٹ شوپیاں میں تین فیصد سے بھی کم ریکارڈ کیا گیا۔

پولنگ آٹھ مرحلوں میں اٹھائیس نومبر کو شروع ہوئی تھی اور 19 دسمبر کو اختتام پذیر ہوئی۔ کل 5.7 ملین ووٹرز اس انتخاب میں حق رائے دہی حاصل تھا۔

سابق حکمران بھارت نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ سمیت سات سیاسی جماعتوں نے آرٹیکل 370 کی بحالی کیلئے تشکیل دیئے گئے عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ (پی اے جی ڈی) کے بینر تلے انتخابات میں حصہ لیا۔ ابتدا میں کانگریس بھی اس اتحاد کا حصہ تھی لیکن بعد میں اس اتحادسے الگ ہو گئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال آرٹیکل 370 کی منسوخ اور جموں کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد جموں کشمیر میں رواں سال پنجایتی اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق آئینی ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے تحت ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے انتخابات تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد کروائے گئے ہیں۔ ہر ضلع میں کو 14 حلقہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ منتخب ہونے والے چودہ ممبران ڈی ڈی سی ضلعی ترقیاتی چیئرمین کا انتخاب کرینگے۔ اس طرح جموں اور کشمیر کے کل بیس اضلاع میں 280 حلقہ جات قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی کونسلوں (پنچائتوں) اور بلدیاتی اداروں (شہری کونسلوں) کا سیٹ اپ بھی فعال رہے گا۔ حالیہ انتخابات میں پنچائتوں اور بلدیاتی اداروں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی منعقد کروائے گئے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ بلدیاتی قوانین میں نئی ترمیم جموں کشمیر میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو بڑھاوا دینے، اضلاع اور ریجنز کو ایک دوسرے کے خلاف تقسیم کرنے اور بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے بعد آبادیاتی تناسب کو بگاڑ کر اس خطے پر اپنے قبضے کو مزید مضبوط کرنے کیلئے کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا مقصد اسمبلی کو کمزور کرنا ہے اور اسمبلی کے متبادل ایک ایسا سیٹ اپ بنانا ہے جس کے ذریعے سے مرکز کے قبضے کو مزید گہرا اور مضبوط کیا جا سکے۔

تینوں سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی انتخابات کے دوران اپنے گھروں میں ہی رہے اور کسی بھی امیدوار کی انتخابی مہم نہیں چلائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں تھی اورسختی حفاظتی حصار میں قید رکھا گیا تھا۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی اضلاع کپوارہ اور بانڈی پورہ میں ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے واپس جانیوالی دو خواتین امیدواروں کے ووٹوں کی گنتی روک دی گئی ہے۔

صومیہ صدف نے کپوارہ کی درگمولہ نشست سے الیکشن میں حصہ لیا جبکہ شازیہ اسلم نے بانڈی پورہ کے علاقے سے الیکشن میں حصہ لیا۔

ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے انتخابات میں نصف درج ایسی خواتین نے حصہ لیا جو تیس سال قبل مسلح تحریک کے آغاز کے وقت کنٹرول لائن عبور کر کے پاکستای زیر انتظام کشمیر پہنچ گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ مردوں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا جو تیس سال قبل عسکری تربیت کی غرض سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرگئے تھے۔

ان خواتین نے ان کشمیری نوجوانوں سے شادیاں کر لی تھیں جوبھارتی زیر انتظام کشمیر میں جاری مسلح تحریک میں شامل تھے اور بعد میں مسلح تحریک سے علیحدہ ہو کر پاکستان میں ہی قیام کر لیا تھا۔ 2010ء میں ایسے کشمیری نوجوانوں کو واپس بھارتی زیر انتظام کشمیرجانے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد بہت سارے نوجوان بیوی بچوں سمیت واپس لوٹ گئے تھے۔

صومیہ صدف نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکے کاغذات پر اعتراض لگایا گیا ہے حالانکہ انہوں نے پاسپورٹ، الیکشن کارڈ اور آدھار کارڈ بھی پیش کیا ہے۔ جب حکومت کو لگا کہ میں الیکشن جیت رہی ہوں تو انہوں نے گنتی روک دی۔

شازیہ اسلم کے حلقہ میں بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل روک دیا گیا ہے۔

صومیہ صدف نے کہا کہ گزشتہ پنچائتی انتخابات میں انکی پانچ بہنیں پنچ اور سرپنچ منتخب ہوئی تھیں اور وہ بھی آزادکشمیر سے ہی واپس آئی تھیں۔

الیکشن کمیشن نے ایک حکمنامے میں بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل نامزدگی فارم میں معلومات نامکمل ہونے کی وجہ سے روکا گیا۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ نصف درجن پاکستانی خواتین نے کسی انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ کپوارہ کے گناو پورہ علاقے کے حبیب اللہ بٹ اور اْن کی پاکستانی اہلیہ نورین نے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔

ڈی ڈی سی انتخابات میں باقاعدہ حصہ لینے کی اجازت ملنے کے بعد عین ووٹ شماری کے روز اْن کی قسمت کا فیصلہ معلق ہوگیا ہے۔

Haris Qadeer
+ posts

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔