نقطہ نظر

ڈیئر عنبر رحیم شمسی موازنہ اشرف غنی سے نہیں یحییٰ خان سے بنتا ہے

فاروق سلہریا

شمسی صاحبہ!

امید ہے خیریت سے ہوں گی۔ آپ کا مندرجہ ذیل ٹویٹ دیکھا:

میں آپ کے بارے میں زیادہ بلکہ کم بھی نہیں جانتا۔ پچھلی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں آپ کی تقریر سنی تو پتہ چلا کہ اسٹیبلشمنٹ جن پاکستانی صحافیوں سے ناراض ہیں، ان میں سے ایک آپ بھی ہیں۔

پہلی بات تو مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب صحافی بھی ہمیشہ فارن پالیسی کے حوالے سے ریاست کا بیانیہ ہی آگے کیوں بڑھاتے ہیں؟ اس کی تازہ مثال آپ کا مندرجہ بالا ٹویٹ ہے بہر حال بات اسی ٹویٹ تک محدود رکھتے ہیں۔

یقین کیجئے میں نے اس طرح کی کئی پوسٹس سوشل میڈیا پر دیکھیں۔ ہر بار دیکھ کر یہی خیال آیا کہ ’بہادر پاکستانی‘ یوکرین کے صدر کا موازنہ جنرل یحییٰ خان سے کرنے کی بجائے اشرف غنی سے کیوں کر رہے ہیں؟ یا جنرل اے کے نیازی سے کیوں نہیں کر رہے؟ کیا اشرف غنی نے جنرل یحییٰ اور جنرل نیازی سے زیادہ بزدلی دکھائی تھی؟

اسی طرح ایک موازنہ جنرل مشرف اور یوکرین کے آرمی چیف کے مابین بھی بنتا ہے۔ اولالذکر نے کارگل جنگ ہارنے کے بعد مارشل لا لگا دیا تھا۔ دیکھئے یوکرین والا کیا کرتا ہے۔

ایک اور موازنہ ضرور کیجئے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ماسکو سمیت پورے روس میں ہزاروں لوگوں نے یوکرین کے خلاف پوتن شاہی حملے پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے۔ مندرجہ ذیل تصویر تو آپ نے ضرور دیکھی ہو گی جس میں ایک روسی نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر درج ہے: آئی ایم رشین، آئی ایم سوری۔

 

آپ کو موازنہ صرف یہ کرنا ہے کہ اس طرح کا کوئی جلوس، کوئی پلے کارڈ 1971ء میں، کراچی یا لاہور اندر، کیوں نظر نہیں آیا جس پر لکھا ہوتا: ڈیئر مشرقی پاکستان، آئی ایم سوری۔

یا پچھلے پچاس سال میں کبھی کوئی جلوس لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں نکلا ہو جس میں مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہو جس پر درج ہو: ڈیئر بلوچستان، وی آر سوری۔ یہی بات وزیرستان بارے بھی کہی جا سکتی ہے جس کے ساتھ لگ بھگ وہی ہوا ہے جو بلوچستان کے ساتھ شروع سے ہوتا آ رہا ہے۔

یہ موازنہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جب افغانستان کے سکولوں، ہسپتالوں، جنازوں، ٹیلی ویژن چینلوں، خاتون صحافیوں پر حملے ہو رہے تھے تو پاکستان میں کوئی پاکستانی یہ پلے کارڈ لے کر نہیں نکلا: آئی ایم اے پاکستانی، آئی ایم سوری، آئی ایم سوری کے ہم نے کوئٹہ شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک کو گھر داماد بنا کر رکھا ہوا ہے اور جب بھی خود کش دھماکے کی خبر کابل سے آتی ہے تو پاکستانی نیوز چینل فتح کے شادیانے بجاتے ہیں۔

ویسے ایک موازنہ اشرف غنی اور یوکرینی صدر کے اڑوسیوں پڑوسیوں بارے بھی ہو سکتا ہے۔ سوچئے اگر پولینڈ میں کوئی کوئٹہ شوریٰ ہوتی تو آپ کس طرح کا ٹویٹ کرتیں؟

مجھے طارق علی کی نصیحت یاد آ رہی ہے: موازنے بہت سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیں۔ جب انسان کا تعلق ایک طاقتور ملک سے ہو اور وہ اپنے حکمرانوں کی زیادتیوں کے شکار ملک بارے موازنے کرے تو اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ ”موازنے (اور بھی) بہت سوچ سمجھ کر کرنے چاہئیں“۔
فقط۔

ناچیز

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔