نقطہ نظر

سویڈن: ’بایاں بازو نیٹو رکنیت کے خلاف ہے مگر یوکرین پر حملے نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے‘

فاروق سلہریا

ترجمہ: حارث قدیر

فوٹو کریڈٹ: جان اوکے ایرکسن

بیلا فرانک کہتی ہیں کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ رواں سال جون کے آخر میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس میں فن لینڈ کے ہمراہ سویڈن بھی نیٹو رکنیت کیلئے درخواست جمع کروانا چاہتا ہے۔ تاہم سویڈن میں نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے رائے منقسم ہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے۔

بیلا فرانک موسمیاتی تبدیلیوں، انسانی حقوق اور محنت کشوں کے حقوق جیسے مسائل کو اجاگر کرنے والے سویڈش اخبار ’Tidningen Global‘ سے منسلک ایک صحافی ہیں۔ ’جدوجہد‘ نے سویڈن اور فن لینڈ کی جانب سے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے سے متعلق صورتحال پر بیلا فرانک سے ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

فن لینڈ اور سویڈن، خاص طور پرمؤخر الذکر، ایک طویل عرصے سے غیر جانبدار رہے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ دونوں نیٹو میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر یوکرین پر حملہ نہ ہواہوتا تو دونوں ہی غیر جانبدار رہتے؟

بیلافرانک: جی ہاں، کم از کم مختصر مدت کیلئے (تو ایسا ہی ہوتا)۔ مجھے یقین ہے کہ یوکرین پر روسی حملے نے بہت سے سویڈیش شہریوں کے لیے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کر دیاہے، جس کا پہلے سے تصور کرنا مشکل تھا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ سویڈن کی غیر جانبداری کی وجہ سے سویڈن 200 سال سے زیادہ عرصے جنگ سے بچا رہا۔

بہت سے شہری اب بھی نیٹو کی رکنیت کے سخت خلاف ہیں، لیکن میرے خیال میں عوام کا ایک بڑا حصہ نیٹو میں شمولیت کے نقصانات اور فائدوں سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے میں کوشاں ہے۔

یہاں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ سویڈن کے غیر جانبدار ہونے کا دعویٰ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ عملی طور پر سویڈن نیوٹرل ہی تھا۔ 2014ء سے سویڈن کا نیٹو کے ساتھ ’Enhanced Opportunity Partner‘ کے طور پر قریبی تعاون کرتا رہا ہے۔ اسی طرح سویڈن نے بھی افغانستان میں ’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘کے طور پر حصہ لیا تھا۔

فن لینڈ میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، نیٹو میں شمولیت کے لیے 70 فیصد حمایت حاصل ہے۔ سویڈن میں عوام کا مزاج کیسا ہے؟

بیلا فرانک: مجھے نہیں لگتا کہ فن لینڈ یا سویڈن میں نیٹو میں شمولیت کیلئے 70 فیصد حمایت ہے، حالانکہ شاید سویڈن کے نیٹو میں شمولیت کا فیصلہ کرنے کی صورت فن لینڈ میں شمولیت کیلئے حمایت 70 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

یوکرین پر حملے کے ایک ہفتے بعد سویڈن میں نیٹو کی رکنیت کیلئے حمایت میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ نووس (Novus) کے 4 مارچ کو شائع ہونے والے سروے میں 49 فیصد جواب دہندگان کا خیال تھا کہ سویڈن کو نیٹو میں شامل ہونا چاہیے، جب کہ 27 فیصد اس کے خلاف تھے، حالانکہ جواب دہندگان کے ایک بڑے حصے یعنی 24 فیصد نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اس کے باوجود یوکرین پر روسی حملے سے پہلے تقریباً 40 فیصد نیٹو میں شمولیت کے خلاف تھے اور صرف 35 فیصد اس کے حق میں تھے۔ ’DN/Ipsos‘ کے ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سویڈش اکثریت نیٹو کی رکنیت کے حق میں ہے اور اگر فن لینڈ شامل ہو جاتا ہے تو تقریباً 54 فیصد سویڈش رکنیت کے حق میں ہیں۔

عوامی مزاج کا اندازہ لگانا ایک طرح سے مشکل ہے۔ بائیں بازو کے بہت سے لوگ وسیع معنوں میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب بحث نیٹو کی رکنیت کے حق میں ہموار کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر کسی حد تک اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ سویڈن کو اس میں شامل ہونا پڑے گا، حالانکہ وہاں رکنیت کیلئے واضح اکثریت نہیں ہے۔ بائیں بازومیں اور امن کیمپ میں موجود بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ نیٹو کی رکنیت پورے بالٹک خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بنے گی۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سویڈن فوجی تنازعات میں پڑ جائے گا۔ سویڈن کو اس کے بجائے ڈی ملٹرائزیشن کیلئے کام کو تیز کرنا چاہیے۔ بہت سے ناقدین انتہائی مختصر وقت میں ایسے اہم فیصلے کرنے کے خلاف بھی خبردار کررہے ہیں۔ تاہم بائیں بازو کے کچھ لوگ اب سویڈن کی رکنیت کو ایک ضروری برائی کے طور پر قبول بھی کر رہے ہیں۔

یوکرین کے حملے سے پہلے بھی دائیں بازو کے لوگ نیٹو کی رکنیت کی وکالت کر رہے تھے۔ مین اسٹریم لیفٹ (سوشل ڈیموکریٹس، گرینز، لیفٹ پارٹی) اس خیال کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اب بائیں بازو کا موقف کیا ہے؟ اس حقیقت کے پیش نظر کہ سویڈن میں اس سال ستمبر میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

بیلا فرانک: ہاں، یہ تاحال بڑی حد تک دائیں بازو کی پوزیشن رہی ہے۔ کچھ روایتی دائیں بازو کی جماعتوں نے طویل عرصے سے نیٹو کی رکنیت کے لیے زور دیا ہے۔ جیسا کہ ’Moderaterna‘ (قدامت پرست) اور’Liberalerna‘ (لبرلز) اور 2015ء سے دونوں ’Kristdemokraterna‘ (کرسچن ڈیموکریٹس) اور ’Centerpartiet‘ (سنٹر پارٹی) نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت پر زور دیاہے۔ انتہائی دائیں بازو کے سویڈن ڈیموکریٹس نے حال ہی میں پوزیشن تبدیل کی ہے اور اب وہ سویڈن کی رکنیت کے حمایتی ہیں۔

’Miljöpartiet‘ (گرین پارٹی) اور ’Vänsterpartiet‘ (لیفٹ پارٹی) اب بھی سویڈش رکنیت کے سخت خلاف ہیں۔ حکومت کرنے والے سوشل ڈیموکریٹس روایتی طور پر نیٹوکے خلاف رہے ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ وہ پوزیشن تبدیل کرنے والے ہیں۔ اگر سوشل ڈیموکریٹس نیٹو کی رکنیت کی وکالت کرتے ہیں،تو سویڈن کی پارلیمنٹ میں اس کے لیے اکثریت ہو جائے گی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ سویڈن جون کے آخر میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران فن لینڈ کے ساتھ جلد از جلد درخواست جمع کرانا چاہتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ دونوں میں خواتین وزرا اعظم ہیں۔ فن لینڈ کی حکومت کو فیمینسٹ حکومت ہونے پر فخر ہے۔ آپ اس ستم ظریفی کو کیسے دیکھتی ہیں؟

بیلا فرانک: یہ بات ٹھیک ہے کہ سویڈن نے کچھ سالوں سے فیمنسٹ خارجہ پالیسی رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، اور بہت سے فیمینسٹ مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں کہ خود کو فیمینسٹ کہنے والی سویڈش حکومت دراصل فیمینسٹ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر دونوں ملک واقعی نیٹو کی رکنیت کیلئے درخواست دینے کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن اور فن لینڈ کی وزیر اعظم سنامارین دونوں کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا۔

لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کے نقطہ نظر سے ان کا خواتین ہونا اور کسی حد تک حقوق نسواں کی علمبردار حکومتوں کی قیادت کرنے سے زیادہ اہم وہ صورتحال ہے جو یوکرین پر روس کے حملے سے پیدا ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا آغاز 2014ء میں کریمیا کے الحاق کے ساتھ ہوا تھا، لیکن یوکرین پر مکمل حملے اور اس سے قبل چیچنیا اور شام پر روسی بمباری نے اس مسئلے کو آگے بڑھا دیا ہے۔ اب جو بمباری یورپی یونین کی سرحد کے قریب ہو رہی ہے یہ صورتحال حقوق نسواں کے عزائم اور اتحاد سے آزاد رہنے سے قطع نظر سب سے ترجیحی ہے۔ بہت سے فیمینسٹ یقینی طور پر اس سے متفق نہیں ہوں گے اور آپ انہیں بائیں بازو اور سویڈش امن تحریک میں پائیں گے، وہ سویڈن کی نیٹو رکنیت کی درخواست کی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

رئیل اسٹ نقطہ نظر سے، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ سویڈن اور فن لینڈ کا نیٹو میں شامل ہونا جائز ہو گا۔ مثال کے طور پر یوکرین میں حملے کے بعد نیٹو کی رکنیت کی حمایت میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔ ’منطقی طور پر‘، ہر یوکرائنی کو یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ نیٹو کی رکنیت انہیں روسی جارحیت کے خلاف تحفظ فراہم کرسکتی تھی۔ آپکی کیا رائے ہے؟

بیلا فرانک: مجھے لگتا ہے کہ سویڈن میں بہت سے لوگوں کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ یوکرین کے لوگوں کو ولادی میر پوٹن نے ’بھائی‘ کہا تھا، ایسے لوگوں اور شہروں کی تباہی دیکھنے کے بعد، بوچا اور دوسرے شہروں میں اجتماعی قبروں اور عصمت دری کی اطلاعات کے بعد اب اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ پوٹن کے ماتحت روس کیا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

کچھ لوگ بحث کر رہے ہیں کہ اگر فن لینڈ نیٹو میں شامل ہوتا ہے، تو سویڈن کو نیٹو میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سویڈن کے ارد گرد کے زیادہ تر ممالک نیٹو کے رکن ہوں گے، دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خود غرضانہ نقطہ نظر ہے۔ اگر فن لینڈ اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے بہت سے سویڈش متاثر ہوں گے، کیونکہ فن لینڈ اور سویڈن ثقافتی طور پر بہت قریب ہیں۔ فن لینڈ کی روس کے ساتھ 1300 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سرحد ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ سویڈن کے درمیان اب یہ سمجھ بوجھ بڑھ گئی ہے کہ فن لینڈ اس کے خلاف روسی جارحیت کی صورت میں کتنا کمزور ہو گا۔

سویڈن میں امن کی تحریک کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا بائیں بازو کا کوئی امن گروپ ہے یا سوشل ڈیموکریٹس، لیفٹ پارٹی یا گرینز میں، جو نیٹو کی رکنیت کی مخالفت کر رہے ہیں؟

بیلا فرانک: لیفٹ پارٹی اور گرینز اب بھی نیٹو کی رکنیت کے خلاف ہیں، لیکن بڑا سوال سوشل ڈیموکریٹس کا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد لکھا کہ یورپ اور سویڈن میں سکیورٹی کی نئی صورتحال یدا ہو گئی ہے، ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”24 فروری 2022ء سے پہلے اور بعد میں ایک واضح صورتحال ہے۔“ انہوں نے نیٹو کی رکنیت پر اپنی پارٹی کی پچھلی کانگریس میں کئے گئے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیٹو کی رکنیت نہیں لی جائے گی۔ وہ مئی کے آخر تک اس معاملے پر پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات چیت کریں گے اور پارٹی قیادت فیصلہ کرنے کے لیے 24 مئی کو ملاقات کرے گی۔ بہت سے اولڈ اسکول سوشل ڈیموکریٹس اب بھی نیٹو رکنیت کے سخت خلاف ہیں، لیکن اس کی موجودہ قیادت کے لحاظ سے یقینا سوچ کی تبدیلی نظر آتی ہے۔

تاہم اہم امن تنظیمیں جیسے ’Svenska Freds‘ اور ’Kvinnor för Fred‘ اور بائیں بازو کے بہت سے گروہ نیٹو اور سویڈن کی رکنیت کی مخالفت میں ثابت قدم ہیں اور تنازعات کے پر امن حل میں ڈی ملٹرائزیشن، امن مذاکرات اور سرمایہ کاری پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ اگر سویڈن نیٹو میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے، تو وہ ایک آزاد امن ثالث کی آواز کی حیثیت کھو دے گا۔ بہت سے لوگوں نے ایک بار پھر اس عمل کو تیز کرنے کے بارے میں خبردار کیا ہے، جس کی وجہ سے وسیع اور عوامی بحث کا موقع نہیں ملے گا۔ کچھ ریفرنڈم کرانے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے رکنیت کے لیے کم از کم عام لوگوں کی اکثریت اس کی حامی ہونی چاہیے۔

نیٹو کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ امریکہ ایک دو سالوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دوبارہ صدر بنا سکتا ہے اور کیا سویڈن اس وقت نیٹو میں شامل ہونا چاہے گا؟ اردگان کے ترکی یا اوربن کے ہنگری کے بارے میں کیا خیال ہے؟

کیا آپ کے خیال میں نیٹو کی رکنیت کے کچھ متبادل بھی ہیں؟

بیلا فرانک: بالکل، الائنس فری رہنے، یا ای یو سیکورٹی الائنس کے لئے مزید کام کرنے کا متبادل ہے۔ پھر نیٹو کی رکنیت کے حق میں بہت سے لوگ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یورپی یونین کے اکثر رکن ممالک پہلے ہی نیٹو کے رکن ہیں، تو وہ اس کی بجائے یورپی یونین کے اتحاد کو مضبوط کرنے کی حمایت کیوں کریں گے؟ لیفٹ پارٹی کے سابق رہنما ’Jonas Sjöstedt‘ نے نارڈک ممالک کے درمیان دفاعی اتحاد کی تجویز دی ہے، جو یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ متوازی طور پر کام کرے۔

سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کی صورت میں روس بالٹک خطے میں جوہری وار ہیڈز تعینات کر دے گا۔ پوٹن حکومت کے حالیہ اقدامات کے پیش نظر جوہری خطرہ کتنا حقیقی ہے؟

بیلا فرانک: کچھ وثوق سے کہنامشکل ہے، لیکن بالٹک کے علاقے کے لوگوں نے، جیساکہ لتھوانیا کے وزیر دفاع ارویڈاس انوساسکانے، نشاندہی کی ہے کہ روسی کیلینن گراڈ میں، جو لتھوانیا اور پولینڈ کے درمیان واقع ہے، پہلے سے ہی روسی جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور اب انہیں تقریباً 4 سال ہو چکے ہیں۔

کیلینن گراڈ سویڈن سے تقریباً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر سویڈن یا فن لینڈ نیٹو میں شامل ہو جائیں تو روس خطے میں زیادہ ایٹمی وار ہیڈز تعینات نہیں کرے گا۔ بہت سے لوگ جو نیٹو کی رکنیت کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اس بات کو نیٹو میں شامل نہ ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، دوسرے اس خیال کی تردید کرتے ہیں کہ نیٹو کے سلسلے میں سویڈن کو فیصلہ کرنے سے متعلق روس کوڈکٹیٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔

یورپ میں یوکرین کے لیے بہت زیادہ ہمدردی کے باوجود، ہم نے بڑے پیمانے پر مظاہرے اور کوئی تحریک ابھرتے ہوئے نہیں دیکھی جیسا کہ عراق جنگ سے پہلے ہوا تھا۔ آپ کی نظر میں اس کی کیا وضاحت ہو سکتی ہے؟

بیلا فرانک: جب یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو جرمنی میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ سویڈن میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن یقیناً اتنا بڑا کچھ نہیں ہوا جتنا 2003ء میں عراق جنگ سے پہلے ہوا تھا، یا جیسے ویتنام کی جنگ کے بعد سب سے بڑا مظاہرہ اسٹاک ہوم میں ہوا تھا۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یورپی حکومتوں کی طرف سے اتنا بڑا سرکاری ردعمل سامنے آیا ہے کہ سماجی تحریک کے ابھرنے کی گنجائش کم ہو گئی۔

اس کا تعلق اس حقیقت سے بھی ہو سکتا ہے کہ سویڈش بائیں بازو نے وسیع معنوں میں لاطینی امریکہ یا مشرق وسطیٰ جیسے دیگر علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کر رکھی ہے، لہٰذا ایسے متحرک نیٹ ورک موجود تھے جنہوں نے لاطینی امریکہ یا مشرق وسطیٰ کے مسائل پر بڑی عوامی تحریکوں کو جنم دیا۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ روس کے معاملے میں، جب بھی روس نے جارحیت کی، زیادہ مخالفت سامنے نہیں آئی۔ مثال کے طور پر شام میں روس کے مظالم سالہا سال جاری رہے مگر روس کے خلاف مزاحمت نہیں کی گئی۔ اس کے مقابلے پر عراق پر امریکی حملے کے خلاف زبردست مزاحمت ہوئی۔ بائیں بازو کے کچھ حلقے اس وقت تک متحرک نہیں ہوتے جب تک امریکہ ملوث نہ ہو۔ شام اور یوکرین کے لیفٹسٹ اس بات کی نشان دہی کرتے آئے ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔