تاریخ

قدیم ہندوستان میں جاسوسی کا نظام

ڈاکٹر مظہر عباس/ڈاکٹر محمد ابرار ظہور

ہندوستانی تاریخ میں شہریوں کی جاسوسی رگ وید کی طرح پرانی ہے۔

ریکارڈ شدہ انسانی تاریخ حکمرانوں کی طرف سے اپنی رعایا پر اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے، اسے وسعت دینے اور محکوم شہریوں اور برادریوں پر اپنی وسیع رِٹ کو برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس آلات کے موثر استعمال کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ قدیم چینی اور ہندوستانی حکمت کاروں اور مشیروں، جیسے سن زو اور چانکیہ کوٹلیہ، کی تحریروں میں دھوکادہی، بغاوت اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں کافی معلومات موجود ہیں۔

جس طرح چانکیہ کی کتاب ’ارتھ شاستر‘ کے مطابق، موریہ خاندان کے بانی، چندرگْپت موریہ، نے شمالی ہندوستان میں اپنے ماتحت علاقوں پر حکومت کرنے کے لیے جاسوسی کے نظام کا وسیع استعمال کیا تھا، بالکل اسی طرح قدیم مصریوں، عبرانیوں، یونانیوں اور رومیوں نے بھی جاسوسی کے لیے ایک منظم نظام استعمال کیا تھا۔

ہندوستانی تاریخ میں شہریوں کی جاسوسی رگ وید کی طرح بہت زیادہ پرانی ہے۔ یہ نظام ایک پیچیدہ اور جدید ترین انتظامی سائنس کے طور پر تیار ہوا تھا۔ مشہور قول جیسا کہ ”جاسوس بادشاہوں کی آنکھیں ہیں“ کئی صدیوں پرانی ہندوستانی روایت کاعکاس ہے۔

قدیم ہندوستان میں جاسوسوں کو بڑی تعداد میں قانونی چارہ جوئی اور گواہوں کے بیانات میں اس کی صداقت یا کمی بیشی کا پتہ لگانے اور کسی بھی عوامی تحریک، بغاوت، یا شورش سے متعلق درست اور قابلِ اعتماد معلومات اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ جاسوسی کا نظام، دوسرے لفظوں میں، ہموار اور بلاتعطل حکمرانی کو یقینی بنانے اور کسی بھی دشمنی کے رجحانات پر نظر رکھنے کا ایک موثر طریقہ کار تھا۔ مزید یہ کہ، جاسوسی کا نیٹ ورک خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنے اور نافذ کرنے کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوتا تھا۔ جاسوسوں اور سفیروں میں فرق یہ تھا کہ جاسوس خفیہ طور پر بھیجے جاتے تھے جبکہ سفیر کھلے عام بھیجے جاتے تھے۔ کوتلیہ، کلاسیکی ٹیکسٹ ’ارتھ شاستر‘ کے مصنف، نے جاسوسی کے نظام کے لیے ایک تفصیلی درجہ بندی کے نیٹ ورک کی تصویر پیش کی ہے۔ قدیم ہندوستانی جاسوسی کا نظام اتنا مفصل اور عملی تھا کہ یہ آج تک پریرتا کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔

’ارتھ شاستر‘ وسیع طور پر دو قسم کی جاسوسی کو بیان کرتی ہے، یعنی سنستھا یا ساکن جاسوس اور سنچارہ یا آوارہ (گشتی) جاسوس۔ ساکن جاسوسوں میں بظاہر شاگرد (کپاٹیکا)، اعتکاف (اودستی)، گھر والے (گرہپاٹیکا)، سوداگر (ویدیہاک)، اور سنیاسی (تپاس) شامل تھے۔ آوارہ (گشتی) جاسوسوں میں طالب علم (ساتری)، ڈیسپراڈو (ٹکاشنا) اور زہر دینے والے (رساد) شامل تھے۔ آوارہ (گشتی) جاسوسی گروہ میں خواتین کو خاص طور پر بھرتی کیا جاتا تھا۔ انہیں گداگروں، آوارہ راہباؤں، اور درباریوں کے طور پر تعینات کیا جاتا تھا۔

کوٹلیہ کے مطابق، مافوق الفطرت طاقتوں سے مالا مال افراد، تپسیا میں مصروف افراد، سنیاسیوں، عالمی سیاحوں، ڈھاڈھیوں یا میراثیوں، بہروپیوں، صوفیا، نجومیوں، مستقبل کی پیشین گوئی کرنے والوں، اچھے یا برے وقت کو جلدی جانچنے والوں، طبیبوں، پاگلوں، گونگوں، بہروں، بیوقوفوں، اندھوں، تاجروں، مصوروں، بڑھئیوں، موسیقاروں، رقاصوں، مے فروشوں، نانبائیوں، باورچیوں اور گوشت بیچنے والوں کے بھیس میں جاسوس بھرتی کر کے بیرونِ ملک بھیجے جاتے تھے۔

جاسوسوں کو نہ صرف اندرونِ ملک دشمنوں کے خلاف بلکہ شہریوں کی وفاداری اور اعلیٰ حکام اور معززین کی وفاداری کا پتہ لگانے کے لیے بھی تعینات کیا جاتا تھا۔

منْوّ نے جاسوسوں کو ان کے روپوں یا بھیسوں کی بنیادپر پانچ مختلف طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے مطابق جاسوس جرائم کا پتہ لگانے، اہلکاروں کے طرزِ عمل پر نظر رکھنے اور بادشاہوں اور ان کے دشمنوں کی طاقت کا پتہ لگانے کے ذمہ دار تھے۔

مہاکاوی اور مابعد مہاکاوی ادب میں جاسوسوں کو بادشاہ کی آنکھ قرار دیا جاتا تھا۔ مہابھارت کا ادیوگاپروا مناسب طور پر بیان کرتا ہے کہ گائے بو سے، پجاری علم سے، بادشاہ جاسوسوں سے اور دوسرے مرد آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔

موریہ خاندان کے دورِ حکومت میں، فوج کو گڈپورش نامی جاسوسوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ انٹیلی جنس نظام تین مقاصد پر مبنی تھا: رپورٹنگ، خفیہ آپریشن اور سرکاری ملازمین کی وفاداری کو یقینی بنانا۔ جاسوسی نظام کے تنظیمی ڈھانچے میں موبائل ایجنٹس بشمول قاتل اور پھانسی دینے والے ایجنٹس، ڈبل ایجنٹس (وہ لوگوں کو ان سے معلومات حاصل کرنے کے لیے اکساتے تھے) اور دشمن جاسوسوں اور مالیاتی انٹیلی جنس جمع کرنے والوں کی نگرانی کے لیے کاؤنٹر ایجنٹس شامل ہوتے تھے۔

وہ جاسوس جو قافلوں میں تاجروں کے روپ میں گھس آتے تھے ان کا مقصد کسٹم اور ٹیکس جمع کرنے والوں کی مدد کرنا ہوتا تھا۔ آرتھ شاستر کی کتاب XI میں، کوٹلیہ نے ٹیکس کے نظام میں داخل ہونے کے طریقوں کی سفارشات اس طرح بیان کی ہیں:

”جاسوسوں کو کاروباری لوگوں تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے درمیان حسد، نفرت اور جھگڑے کے دیگر اسباب تلاش کرنے کے لیے اور ان کے درمیان منصوبہ بند اختلاف کے بیج بونا ہوتے تھے اور ان میں سے کسی کو قائل کرنا ہوتا تھا کہ: ’یہ شخص آپ کی مذمت کرتا ہے‘۔ اساتذہ کی آڑ میں جاسوسوں کو سائنس، فنون لطیفہ، جوا یا کھیل کے بعض نکات پر تنازعات کے موقع پر باہمی دشمنی رکھنے والوں کے درمیان بچگانہ جھگڑا بھی کروانا ہوتا تھا۔ بھڑکتے جاسوس ہوٹلوں اور تھیٹروں میں کمتر لیڈروں کی تعریف کر کے کارپوریشنوں کے لیڈروں کے درمیان جھگڑا بھی کروا سکتے تھے۔“

نجومیوں اور دیگر کی آڑ میں جاسوس کارپوریشنوں کے علم میں شاہی اتھارٹی کی خصوصیات لایا کرتے تھے۔ کارپوریشنوں کے رہنماؤں کو مطلوبہ کام انجام دینے کے لیے اس طرح آمادہ کیا جاتا تھا کہ کارپوریشنوں کے قائدین جو جیت جاتے تھے ان کو پیسے دے کر بھیجا جاتا تھا تاکہ دوسرے بہت سے لوگوں کو جیت سکیں۔

جاسوسی کا نظام، جس سے محفوظ طریقے سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے، ایک وسیع نیٹ ورک تھا جو تقریباً تمام انتظامیہ کے محکموں میں پھیلا ہوا تھا: اس نیٹ ورک کے ذریعے قدیم ہندوستان کے بادشاہ معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ایسی معلومات پر عمل کرتے ہوئے ہموار اور موثر حکمرانی کو یقینی بناتے تھے۔ ریاست نے جاسوسوں، انسداد جاسوسوں، اور ڈبل ایجنٹوں کو ملازم رکھا ہوتا تھا۔ وہ پوری سلطنت میں انفارمیشن جمع کرنے میں مصروف رہتے تھے۔ اس انفارمیشن کی پھر تشریح کی جاتی تھی۔ انٹیلی جنس جمع کرنے والوں اور ترجمانوں کو الگ الگ رکھا جاتا تھا تاکہ وہ ایک دوسرے کو نہ جان سکیں۔ اس طرح جاسوسی کا نظام قدیم ہندوستان میں، اپنے ہم عصر مصریوں، چینیوں اور جاپانیوں کے برعکس، بہت زیادہ ترقی یافتہ اور وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔

ڈاکٹر محمد ابرار ظہور نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے چیئرمین ہیں۔