دنیا

قاسم سلیمانی کی ہلاکت: عراق میں امریکہ ایران کی خونی پراکسی جنگ کا پیش خیمہ

فاروق سلہریا

جمعے کی صبح عالمی میڈیا ایران کی القدس برگیڈ کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی خبر دے رہا تھا۔ دن بھر بی بی سی، سی این این اور الجزیرہ جیسے چینلز پر اس واقعے پر تبصرے جاری رہے۔ عالمی میڈیا کی دیکھا دیکھی پاکستانی چینلز نے بھی اس واقعہ کو پیش کرنا شروع کر دیا۔

جنرل قاسم سلیمانی گذشتہ چند سالوں سے ایرانی میڈیا اور ایران نواز میڈیا میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کئے جا رہے تھے۔ لبنان میں حزب اللہ کو مضبوط بنانے، شام میں اسد آمریت کو بچانے اور عراق میں داعش کو شکست دینے کا سہرا ان کے سر باندھا جاتا رہا ہے۔

ایران کے اندر بھی انہیں ایک قہرمان (ہیرو) کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس ہیروسازی کا ایک اظہار یہ تھا کہ کچھ عرصہ قبل ایک ایرانی فلم ساز کو جب انعام دیا گیا تو انہوں نے اپنا انعام جنرل قاسم سلیمانی کو منسوب کر دیا۔

جمعے کی صبح وہ بغداد کے ہوائی اڈے سے کار میں نکل رہے تھے کہ ایک عراقی ہم منصب کے ہمراہ امریکہ کے میزائل حملے میں مارے گئے۔

امریکہ نے ان کی ہلاکت کو ایک کامیابی جبکہ ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے اس قتل کو ایک قومی سانحہ بنا کر پیش کیا ہے۔

عراق پر نظر رکھنے والوں کے لئے بھی شاید یہ واقعہ حیران کن ہو مگر گذشتہ چند دنوں کے واقعات سے ظاہر تھا کہ عراق میں امریکہ اور ایران کے مابین گڑ بڑ ہونے جا رہی ہے۔

اس کا واضح اشارہ بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ تھا جو منگل کے روز ہوا۔ سینکڑوں لوگوں نے امریکی سفارت خانے کا محاصرہ کئے رکھا۔ یہ محاصرہ دو دن کے بعد عراقی وزیر اعظم کی جانب سے اس اعلان کے بعد ختم ہوا کہ وہ پارلیمان کے ذریعے عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کو یقینی بنائیں گے۔

سفارت خانے پر حملہ آور افراد کا تعلق ایران نواز ملیشیا سے بتایا جا رہا ہے۔ یہ مظاہرین ایک روز قبل (تیس دسمبر) کتائب حزب اللہ کے دو درجن جنگجوؤں کی امریکی فضائی حملے میں ہلاکت پر مشتعل تھے۔ سفارت خانے کا محاصرہ کرنے والوں نے سفارت خانے کی دیواروں پر قاسم سلیمانی ہمارا رہنما ہے، ایران آزاد رہے گا اور امریکہ مردہ باد جیسے نعرے لکھ دیے تھے۔

ادھر امریکہ کا کہنا تھا کہ کتائب حزب اللہ پر یہ حملہ کرکوک میں ایک امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کا جواب تھا۔

سچ مگر یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران یہ حملے اور بدلے عراق میں ایران اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی پراکسی وار کا خونی پیش خیمہ ہیں۔

عراق پر امریکی حملے کے بعد ایران کا عراق میں اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔ وجہ آسان سی تھی۔ آبادی کی اکثریت شیعہ تھی۔ صدام حسین نے عراق میں کمیونسٹ پارٹی اور جمہوری قوتوں کا خونی انداز میں خاتمہ کر دیا تھا۔ کرد اور شیعہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی کے حامی تھے۔ عراقی کمیونسٹ پارٹی ایک بہت بڑی طاقت تھی۔ اسے نہ صرف عراق کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کہا اور سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے عرب دنیا کی سب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی بھی کہا جاتا تھا۔

جب بائیں بازو اور دیگر جمہوری قوتوں کا صفایا کر دیا گیا تو سیاسی قیادت عراقی آیت اللہ حضرات کے ہاتھ میں آ گئی جنہیں ایران کی حمایت حاصل تھی۔

ادھر، امریکہ عراق کی دلدل میں ایسا پھنسا کہ وہ وہاں سے نہ نکل سکتا تھا نہ ٹھہر سکتا تھا۔ امریکی قبضے کے آغاز میں ایران اور امریکہ نے مشترکہ دشمن، صدام حسین، سے نجات کے لئے تعاون کیا۔ بعد ازاں، داعش کے خاتمے کے لئے بھی تعاون کیا گیا۔ البتہ جب صدام اور بعد ازاں داعش کا خاتمہ ہو گیا، امریکی دستے صدر اوبامہ نے واپس بلا لئے اور بظاہر عراق نے ایک ریاست کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی تو سب کو نظر آنے لگا کہ عراق تہران کے زیر اثر جا چکا ہے۔

عراق میں اپنا پاؤں دوبارہ جمانے کے لئے اب امریکہ پھر سے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ کرکوک میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کو بہانہ بنا کر از سر نو قبضے کا جتن کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے سات سو پچاس فوجیوں پر مشتمل نیا دستہ عراق بھیج دیا ہے۔ پہلے سے عراقی فوج کی تربیت کے لئے کچھ امریکی دستے وہاں موجود ہیں۔

اس طرح سے عراق میں اب تین افواج ہیں۔ اول، عراق کی سرکاری فوج جو انتہائی کمزور، بدعنوان اور ناکارہ ہے۔ اگر اسے امریکی سرپرستی حاصل نہ ہو تو یہ عراقی پولیس کا مقابلہ بھی نہ کر پائے۔ دوم، امریکی دستے۔ سوم، ایران نواز جنگجو دستے جو العشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورس) کے نام سے ایک اتحاد کی شکل بنا کر داعش اور ماضی میں حکومتی مخالفین کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ کتائب حزب اللہ بھی اس فورس کا حصہ ہے۔ اس فورس کو بھی چند سال پہلے سرکاری درجہ دے دیا گیا تھا اور ان جنگجوؤں کی تنخواہ سرکاری خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔ اس فورس کو ایران نواز فوج کہا اور سمجھا جاتا ہے۔

اب ہو گا یہ کہ ایران نواز ملیشیا اور جتھے امریکی دستوں پر حملے کریں گے کیونکہ ایران امریکہ پر براہ راست حملہ کرنے سے تو رہا۔ ویسے بھی ایرانی درست طور پر یہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ عراق میں موجود ہر امریکی فوجی دراصل ایک مغوی امریکی ہے۔

ایرانی پراکسی فورسز خلیج وسطیٰ میں امریکہ کے دیگر نازک حصوں (سعودی عرب، اسرائیل) پر بھی حملہ کر سکتی ہیں۔ ادھر امریکہ بھی ایران میں فوجیں اتارنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ ابھی تک افغان ہڈی ان سے نگلی نہیں جا رہی۔

ایسے میں بالکل واضح ہے کہ اس پراکسی وار کا سب سے اہم میدان جنگ عراق ہو گا۔

عراق میں گذشتہ تین ماہ سے عوامی بغاوت جاری تھی۔ یہ بغاوت ایران نواز حکومت اور ایران نواز جنگجوؤں کے خلاف تھی۔ اس بغاوت کا ہراؤل نوجوان شیعہ تھا۔ بہت سے نوجوان ماضی میں کسی نہ کسی ملیشیا کا حصہ بن کر لڑ بھی چکے تھے مگر اب وہ جنگی سالاروں اور حکومت کی بد عنوانی سے تنگ آ چکے تھے۔

ایران نواز جنگی سالار اور عراقی حکومت پہلے سے ان مظاہروں کو غیر ملکی سازش قرار دے رہے تھے۔ امریکہ سے پراکسی وار کے بعد مظاہرین کو امریکی نواز قرار دے کر ان پر ظلم و تشدد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس طرح دیکھا جائے تو جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کر کے امریکہ نے عوامی بغاوت کی پینٹھ میں بھی چھرا گھونپا ہے۔

ایرانی مظاہرین کی طرح عراقی مظاہرین بھی ہمیشہ یہی دعا کرتے ہیں کہ امریکی صدر ان کے مظاہروں کی حمایت نہ کرے۔

عوامی مظاہرے کیا شکل اختیار کرتے ہیں، اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہو گا مگر یہ طے ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کو ایک نیا دھچکا لگا ہے۔ ایک بار پھر یہ ثابت ہو رہاہے کہ جب تک خطے میں سامراجی مداخلت ختم نہیں ہوتی، اس خطے کا امن ایک سراب بنا رہے گا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔