سماجی مسائل

روزمرہ کے مسائل: دھلے ہوئے برتنوں کو استعمال سے پہلے سوکھنے دیں

فاروق سلہریا

ہمارے ہاں پاکستان میں، بلکہ شائد پورے جنوبی ایشیا میں، صفائی کے تصور میں ہائی جین (حفظانِ صحت) پر توجہ دینے کی عادت نہیں پائی جاتی۔ اس کی کئی مثالیں روز مرہ کی زندگی میں نظر آتی ہیں۔

جوٹھے برتن میں کھانے پینے بارے ان صفحات پر ماضی میں بات ہو چکی ہے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک دوسرے کے بستر میں سونا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ گھر میں اگر کوئی مہمان آجائے، تو اس کے لئے دھلی ہوئی چادر نہیں بچھائی جائے گی۔ بس اگر بستر کی چادر صاف نظر آ رہی ہے، کافی ہے۔ تکئے اور رضائی کے غلاف کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یا اگر مہمان کے لئے یہ سب چیزیں دھلی ہوئی فراہم کی گئی تھیں تو اس کے جانے کے بعد بستر کی چادریں اور غلاف دھونے کی بجائے انہیں خود استعمال کر لیں گے۔ جب تک بستر کی چادریں باقاعدہ گندی اور میلی نہ ہوجائیں، انہیں دھویا نہیں جائے گا۔ ایسا صرف کسان اور محنت کش گھروں کے اندر نہیں ہوتا۔ متوسط طبقے کے خاندانوں میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے۔

مغرب میں اگر مہمان کو بستر کی ’فریش‘ چادریں اور غلاف مہیا نہ کئے جائیں تو یہ بہت بڑی بد تمیزی سمجھی جاتی ہے۔ میرا سویڈن میں رہنے کا تجربہ ہے۔ بعض اوقات سیاسی اجلاس میں شرکت کے لئے دوست سٹاک ہولم آئیں تو میرے ہاں قیام کرتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا، آنے سے پہلے مہمان نے پوچھ لیا کہ کیا وہ اپنی چادریں ساتھ لے آئے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میزبان کو ظاہر ہے مہمان کے جانے کے بعد لانڈری کرنی پڑے گی یا ممکن ہے صاف چادریں اور غلاف موجود نہ ہوں۔ میزبان پر بوجھ بننے کی بجائے مہمان چاہتا ہے کہ وہ اپنا بستر ساتھ ہی لے آئے۔ ویسے سویڈن کے لوگ ان معاملات میں کچھ زیادہ ہی کھرے ہیں۔ باقی مغربی ممالک میں شائد ایسا نہ ہو۔ بہر حال مغربی ممالک میں یہ کافی بڑی بد تمیزی سمجھی جائے گی اگر مہمان کو بستر کی فریش چادریں نہ فراہم کی جائیں۔

ہمارے ہاں پاکستان میں ایک اور عمومی معاملہ جہاں صفائی بغیر ہائی جین والی صورت حال کار فرما نظر آتی ہے، وہ ہے دھلے ہوئے برتن کو سوکھنے سے پہلے ہی استعمال کر لینا۔ آج کا موضوع بھی یہی ہے۔

بات یہ ہے کہ دیہاتوں کو تو چھوڑئے اکثر بڑے شہروں میں بھی، گھروں میں جو پانی آتا ہے وہ پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ اسی لئے منرل واٹر یا فلٹر پلانٹ سے لایا گیا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرا سوچئے جس پانی سے بچنے کے لئے آپ فلٹر پلانٹ سے پانی لا کر پیتے ہیں، اسی زہر آلودپانی کے بے شمار قطرے اگر منرل واٹر یا فلٹر پلانٹ والے پانی میں اس لئے مل رہے ہیں کہ آپ نے ٹونٹی کے پانی سے دھلے گلاس کو سوکھنے نہیں دیاتھا تو منرل واٹر یا فلٹر والے پانی کا فائدہ؟

جب تک دھلا ہوا برتن سوکھ نہ جائے، اس میں مختلف بیکٹیریا موجود رہیں گے۔ کوشش کریں برتنوں کو دھوپ میں سکھا لیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گرم پانی کے ساتھ برتن کو کھنگال لیا جائے۔ گرم پانی بھی جراثیم کش ہوتا ہے۔ اس معمولی سی احتیاط سے ہم ایسی بے شمار موذی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جو زہر آلود پانی کی وجہ سے جانیں لے رہی ہیں۔

امید ہے قارئین آئندہ برتنوں کے استعمال کے وقت اس تحریر کو ذہن میں رکھیں گے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔