نقطہ نظر

گلگت بلتستان: عبوری صوبہ بنانے سے سہولت کار فائدہ اٹھائیں گے، عوام نہیں

حارث قدیر

ضیغم عباس کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ بھی ’اوپر‘ سے مسلط کیا جا رہا ہے۔ ابھی تک بہت سی چیزیں سامنے آنا باقی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ اس سے وفاق کے سہولت کاروں کو ہی کچھ مفادات ملیں گے، عام لوگوں کو کچھ نہیں ملنے والا۔ یہ نمائندگی بے اختیار اور محض علامتی ہو گی، جس کا عوامی حقوق اور امپاورمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ضیغم عباس کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور وہ لاہور میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم ایکٹوسٹ ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوامی و سیاسی حقوق کے حوالے سے گہری نظر رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری آئینی صوبہ بنائے جانے کے حوالے سے ’جدوجہد‘ نے ان کا ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے تیار کئے گئے بل پر ابھی تک کیا پیشرفت ہوئی ہے؟

ضیغم عباس: اس میں ابھی تک جو پیش رفت ہو رہی ہے، اس کے مطابق تو یہی بتایا جا رہا ہے کہ یہ آئینی ترمیمی بل آئندہ ماہ 23 مارچ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ یوم پاکستان کے موقع پر اس کی ایک علامتی حیثیت بھی ہو گی اور بین الاقوامی اہمیت بھی ہو گی۔ بھارت کو بھی پیغام دیا جائیگا کہ جو کچھ آپ نے ’اپنے زیر انتظام‘ جموں کشمیر میں کیا، ہم بھی ایسا اقدام کر سکتے ہیں۔ لفاظی تو اسی طرح کی استعمال ہو گی کہ مسئلہ جموں کشمیر پر پاکستان کے بین الاقوامی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا مقصد عالمی برادری اور بھارت کو ایک پیغام دینا ہی ہے۔ ابھی بل اتفاق رائے کیلئے گلگت بلتستان کی اسمبلی کو بھیجا گیا ہے، قومی اسمبلی میں اسے منظور کرنے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

کیا اس آئینی ترمیمی بل پر گلگت بلتستان کی اسمبلی کوئی تبدیلی تجویز کر سکتی ہے اور اگر کوئی تبدیلی تجویز کی جاتی ہے تو اس پر عمل ہونے کے کتنے امکانات ہیں؟

ضیغم عباس: گلگت بلتستان کی رائے غیر اہم ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی اس طرح کی استعداد بھی نہیں ہے کہ وہ بامعنی انداز میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ کوئی گلگت بلتستان سے خود رو طریقے سے سامنے نہیں آیا ہے بلکہ یہ اوپر سے ہی مسلط کیا گیا ہے۔ ستمبر 2020ء میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں گلگت بلتستان کی طرف نہ صرف دیکھنا چاہیے بلکہ اسکی آئینی اور قانونی حیثیت میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ گزشتہ 70 سال سے جس طرح گلگت بلتستان کے ساتھ ہو رہا ہے، یہ اسی کا تسلسل ہی ہے۔ ہمیشہ ہی اس علاقے کی متنازعہ حیثیت کو جواز بنا کر اوپر سے ہی فیصلہ مسلط کیا جاتا ہے۔ عبوری آئینی صوبہ کا فیصلہ بھی کہیں اور سے ہوا اور وفاق پرست پارٹیاں اس فیصلے کے ساتھ ہیں، کیونکہ اس خطے میں صرف انہی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی اجازت ہے۔

گزشتہ 74 سال کے دوران گلگت بلتستان کو آئینی اصلاحات کے نام پر کوئی نہ کوئی اقدام اٹھایا جاتا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے شہری بھی آئینی حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہے ہیں، کچھ مواقعوں پر بڑا عوامی رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ عوامی دباؤ ہے جس کی بنیاد پر ریاست پاکستان بار بار آئینی تبدیلیوں پر مجبور ہو رہی ہے، یا پاکستانی ریاست کی تذیراتی ضرورتیں مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں، جن کا تقاضا یہ تبدیلیاں بھی ہیں؟

ضیغم عباس: اس سوال کے جواب میں دو پہلو دیکھنا ہونگے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگوں میں ایک احساس محرومی رہا ہے۔ لوگ آواز بھی اٹھاتے رہے کہ ہمیں اختیارات دیئے جائیں، حقوق فراہم کئے جائیں اور سیاسی و جمہوری آزادیاں یقینی بنائی جائیں۔ تاہم 1947ء سے لیکر جو بھی آئینی ترامیم ہوئی ہیں، ان میں خود رو سیاسی تحریکوں کا کردار بہت کم رہا ہے۔ 1970ء میں ایک بہت منظم تحریک منظم ہوئی تھی، مقامی قوم پرست پارٹی ’تنظیم ملت‘ کے بینر تلے شروع ہونے والی اس تحریک نے بہت سی حاصلات بھی لی تھیں۔ مثال کے طور پر ’ایف سی آر‘جیسا کالا قانون ختم کیا گیا تھا اور یہ بہت بڑی جیت تھی۔ یہ قانون 2019ء تک سابق فاٹا کے علاقوں میں رائج رہا۔

اسی تحریک کی وجہ سے بھٹو حکومت میں گلگت بلتستان کو 72 اشیا پر خصوصی سبسڈی بھی فراہم کی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2014ء میں جب نواز حکومت نے ان سبسڈیوں کو چھیڑنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف ایک بہت جاندار اور طاقتور تحریک ابھری تھی۔ دوسرے لفظوں میں لوگوں کی تحریک ضرور رہی ہے، لیکن وہ مختلف چیزوں کی طرف ٹارگٹڈ رہی ہے۔ عام لوگ بہت زیادہ پریکٹیکل ہوتے ہیں، وہ انسانی حقوق کے چھینے جانے، سبسڈی یا بنیادی ضروریات کے گرد ہی باہر نکلتے ہیں۔ آئینی، سیاسی اور قانونی معاملات میں عوام کو تکنیکی معاملات کا زیادہ پتہ نہیں ہوتا۔ اس لئے ان پر چھیڑ چھاڑ ریاست پاکستان اپنے تذویراتی مفادات کو دیکھ کر ہی کرتی آئی ہے۔

ابھی موجودہ تجویز کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ عبوری بھی ہے، آئینی بھی ہے اور صوبہ بھی ہے۔ ان تینوں لفظوں پر غور کیا جائے تو بنیادی طور پر لوگوں کو بااختیار کرنے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا، بلکہ یہ صرف عالمی برادری اور بھارت کے اقدام کے رد عمل میں اقدام ہی ہے۔

بہت سے سکالروں کا یہ خیال بھی ہے کہ یہ سب کچھ چین کے کہنے پر ہو رہا ہے۔ گو کہ سی پیک کی اتنی سرمایہ کاری گلگت بلتستان میں نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا زمینی رابطہ چین سے بذریعہ گلگت بلتستان ہی ممکن ہے، پاکستان کا جھکاؤ بھی چین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لئے بھی بہت سے سکالروں کا خیال ہے کہ چین یہ چاہتا ہے کہ گلگت بلتستان کی حیثیت کو تبدیل کیا جائے۔

حتمی بات یہ ہے کہ آئینی معاملات کو کبھی بھی اس لئے نہیں چھیڑا گیا کہ لوگوں کو بااختیار کیا جائے یا ان کے مسائل حل کرنے مقصود ہیں۔

ایک بیانیہ میڈیا کے ذریعے سے بنایا گیا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنایا جائے۔ یہ بیانیہ عوامی خواہشات کا عکاس ہے یا اسے بھی مین سٹریم پارٹیوں کے ذریعے سے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے؟

ضیغم عباس: اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ رائے شماری کروا لیں۔ 15 سے 20 لاکھ کی آبادی پر مشتمل رائے شماری کروانے میں نہ کوئی زیادہ پیسہ لگنا ہے اور نہ ہی کوئی قیامت آ جانی ہے، لیکن یہ ایسا نہیں کر رہے، نہ کرینگے۔ یہ صرف اور صرف ریاست پاکستان اور وفاقی پارٹیوں کا تیار کردہ بیانیہ ہے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کون سا ریفرنڈم یا رائے شماری کروائی گئی ہے۔

آج بھی لوگوں کے سامنے اگر یہ بات رکھی جائے کہ وہ صوبہ بننا چاہیں گے یا آزاد کشمیر (پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر) طرز کا حکومتی سیٹ اپ چاہیں گے، تو میرے خیال میں لوگوں کی اکثریت دوسرے آپشن کی طرف دیکھے گی۔ آج بھی لوگ سوشل میڈیا پر جس طرح سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، وہ کافی باتوں کو سمجھ چکے ہیں۔

2000ء تک گلگت بلتستان میں پاکستان کے ساتھ وفاداری بہت زیادہ نظر نہیں آتی تھی۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ 2000 تک یہاں فرقہ وارانہ فسادات اتنے نہیں تھے۔ اس وقت ہمیں سننے کو ملتا تھا کہ پاکستان نے ہماری امنگوں کے ساتھ کھیلا ہے۔ ہم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا لیکن ہمارا خیال نہیں رکھا گیا۔ تاہم 2003ء اور 2005ء میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے لوگوں کی رائے کو کافی تبدیل کر دیا تھا۔ لوگوں کے عزیزوں کا قتل عام کیا گیا، کرفیو کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح کے حالات کی وجہ سے یہ بیانیہ تیار کیا گیا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ رائے شماری کروائی جائے، پھر آپ کے پاس ایک اخلاقی جواز ہو گا کہ رائے شماری میں جو لوگوں کی رائے آئی ہے، وہی سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

جس طرح کا آئینی مسودہ سامنے آیا ہے، اسی طرز پر اگر گلگت بلتستان عبوری آئینی صوبہ بن جاتا ہے تو اس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہونگے، حالات میں کیا تبدیلی آئیگی؟

ضیغم عباس: پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک بہت ساری تفصیل ہی معلوم نہیں ہے۔ بہت ساری چیزیں ابھی طے کی جانی ہیں۔ ابھی تک جو چیز سامنے آئی ہے وہ صرف نشستوں کے حوالے سے ہی ہے۔ یہ نشستیں بھی ایسی ہونگی، جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہو گا، یہ صدر و وزیر اعظم پاکستان کے انتخاب سمیت دیگر اہم مواقعوں پر ووٹ کے اختیار سے بھی محروم ہونگی۔ پارلیمنٹ کی کارروائیوں میں بھی ان نشستوں کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ یہ ایک علامتی سیٹ اپ ہے جو وفاقی حکومت کے سہولت کاروں کو نوازنے کیلئے لایا جا رہا ہے۔

این ایف سی ایوارڈ پر بھی اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ٹیکس محصولات کی بنیاد پر تقسیم ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان ایک ٹیکس فری علاقہ ہے، اگر ٹیکس نہیں دیتا تو این ایف سی میں حصہ کیسے طے ہو گا، یہ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ عبوری صوبہ بنانے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی کے پاس کیا اختیارات ہونگے۔ کیا شونٹر پاس، سکردو کارگل روڈ جیسے تاریخی راستے کھولنے کا فیصلہ کرنے جیسا اختیار بھی اس اسمبلی کو ملے گا۔ یہ گلگت بلتستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بلتستان کے 20 سے 25 گاؤں ایسے ہیں جو 71ء کی جنگ میں بھارت کے قبضہ میں چلے گئے تھے، خاندان تقسیم ہو گئے تھے۔ یہ خاندان ایک دوسرے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں، لیکن آپس میں مل نہیں سکتے۔ سالوں انہیں ویزوں کیلئے ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح آبادیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اس اسمبلی کے پاس کیا اختیارات ہونگے، یہ بھی واضح نہیں ہے۔ باہر سے لوگ آ کر زمینیں خرید رہے ہیں، ڈومیسائل بن رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ امتیازی برتاؤ قائم کرنے والا سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے لیکن لوگوں کو زمینوں اور آبادیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے اختیار دیا جانا چاہیے۔

بہر حال یہ سب گلگت بلتستان کی ایک نئی مارکیٹ کو استعمال میں لانے کیلئے کیا جا رہا ہے تاکہ منافعے بٹورے جا سکیں۔ یہ نمائندگی بھی کوئی بہت بڑا قدم نہیں ہے۔ اگر یہ دیگر صوبوں کے برابر 23 سینیٹر اور آبادی کے لحاظ سے قومی اسمبلی میں نشستیں دیتے تب بھی بات کی جا سکتی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ یو این سی آئی پی کی قراردادوں کی وجہ سے مکمل صوبہ نہیں بنایا جا رہا۔ اگر مسئلہ جموں کشمیر حل ہو جائے تو پھر گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنایا جا سکتا ہے؟

ضیغم عباس: یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بن سکتا۔ گلگت بلتستان کی آبادی راولپنڈی کی دو تحصیلوں سے بھی کم ہے۔ اتنی آبادی کو صوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان میں یہ رواج بھی نہیں ہے۔ ہمیں یہ اعتراض ہے کہ آپ نے عبوری صوبہ تو بنایا ہے لیکن کل اگر مسئلہ کشمیر پر کوئی پیش رفت ہوئی تو اس کا مستقبل کیا ہو گا۔ اسے صوبہ تو بنایا نہیں جا سکتا، تو پھر اسے کے پی کا کوئی ضلع یا تحصیل بنا کر ضم کر دیا جائیگا۔ پھر ایک نیا شناختی بحران بن کر سامنے آئے گا۔

دوسری بات صوبہ بنانے والا عمل پاکستان کی فیڈریشن کی بنیادی ساخت کے ہی خلاف ہے۔ کراچی، ہزارہ اور سرائیکی صوبہ کیلئے بہت قربانیاں دی گئیں لیکن انہیں صوبہ نہیں بنایا جا سکا۔ میں اس حق میں ہوں کہ بنانا ہی ہے تو مکمل آئینی صوبہ بنائیں، لیکن نہ یہ صوبہ بنائیں گے، نہ کچھ حقوق دینگے۔ صوبہ بنا کر پانی اور معدنیات پر رائلٹی دینا پڑے گی۔ اس لئے یہ ایسے سیٹ اپ لاتے ہیں جن میں کچھ دینا نہ پڑ جائے۔

سٹیٹ سبجیکٹ رول کا امتیازی تاثر تو ہے کہ وہ شہریوں کو درجہ بندی میں تقسیم کرتا ہے، لیکن آپ کے خیال میں متنازعہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو مستقبل کے فیصلے کا حق دیئے جانے تک اس قانون کا نفاذ کیوں نہیں ہونا چاہیے، تاکہ لوگ بااختیار ہو کر اسکا فیصلہ خود کر سکیں؟

ضیغم عباس: یہ اخلاقی اور قانونی طور پر قابل عمل قانون تھا اور بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں رائج بھی رہا ہے۔ جب ہم سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بات کرتے ہیں تو وفاق پرست پارٹیاں یہ پوزیشن لیتی ہیں کہ مہا راجہ کا یہ قانون غیر منصفانہ یا امتیازی تھا اور شہریوں کو درجوں میں تقسیم کرتا تھا۔ یہ ایک اخلاق پہلو موجود بھی ہے۔ آپ اس سب بحث میں جائے بغیر آج یہ طے کر لیں کہ یہاں کوئی باہر سے آ کر زمین نہیں خریدے گا اور نہ ہی آباد ہو گا۔ بنیادی مقصد ڈیموگرافی کا تحفظ ہے، اسے سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت کریں یا کوئی اور قانون سازی کی جائے۔

تاہم یہاں جب بھی عوامی مطالبہ سامنے آتا ہے تو 2 یا 3 مہینے کیلئے دفعہ 144 نافذ کر لیا جاتا ہے۔ جب لوگ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں تو یہ کام پھر شروع ہو جاتا ہے۔

یو این سی آئی پی کی قراردادیں متنازعہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کیلئے 74 سال سے ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ تجربات سے یہ لگ تو نہیں رہا کہ پاک بھارت نے رضامند ہونگے اور اقوام متحدہ حق خودارادیت دیگا۔ آپ کی نظر میں حل کیا ہے؟

ضیغم عباس: قراردادوں میں کسی حدتک حل تو موجود ہے۔ عالمی اداروں کو بھی اندازہ تھا کہ رائے شماری نہیں ہو گی۔ اس لئے انہوں نے کچھ چیزوں کی وضاحت کی ہوئی تھی۔ رائے شماری تک لوکل اتھارٹی کے قیام کی بات کی گئی ہے۔ تاہم پاکستان اور بھارت اس کا ترجمہ اپنی اپنی مرضی کا کرتے ہیں۔ لوگوں سے نہیں پوچھا گیا کہ وہ لوکل اتھارٹی کیسی چاہتے ہیں۔ تاہم لوکل اتھارٹی کے تصور کی وضاحت یوں ہو سکتی ہے کہ لوگوں کے پاس آئین ساز ی اور قانونی سازی کا اختیار ہو۔ پاکستان یا بھارت کے ساتھ عمرانی معاہدہ کئے جانے کے وقت تک لوگ اپنی آئین ساز اسمبلی کے ساتھ عمرانی معاہدہ کر سکیں۔ دفاع، کرنسی اور مواصلات جیسے سبجیکٹ پاکستان اور بھارت اپنے پاس رکھیں باقی ان علاقوں کو سیلف رول دیا جائے۔

فوری طور پر مجھے لگتا ہے کہ یہ لوکل اتھارٹی ہی آگے کا راستہ ہے۔ ایک حکم کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی 20 لاکھ لوگوں کا فیصلہ کرنے میں بااختیار نہیں ہے۔

لوکل اتھارٹی کے قیام سے بھی تنازعہ جموں کشمیر تو برقرار ہی رہے گا۔ آپ کی نظر میں تنازعہ جموں کشمیر کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

ضیغم عباس: میرے خیال میں ’لانگ ٹرم‘ حل بھی کسی حد تک قراردادوں میں موجود ہے۔ اگر لوگوں کو سیلف رول دیا جائے گا تو ایک وقت میں لوگوں میں اتنی سیاسی بلوغت آجائے گی کہ وہ مستقبل کے حوالے سے بہتر سوچ سکیں۔ بہتر حل تو یہی ہے کہ رائے شماری کے ذریعے سے معلوم کیا جائے کہ پاکستان، بھارت یا خودمختار ریاست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا جائے۔ گو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں رائے شماری کی تشریح مکمل نہیں ہے، لیکن اگر لوگوں کو بااختیار کیا جاتا ہے، سیاسی اور جمہوری حقوق دیئے جائیں تو وہ اس سے آگے کے راستے خود تراشیں گے۔

گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

ضیغم عباس: گلگت بلتستان پاکستان کا سب سے زیادہ ’ڈی پولیٹی سائزڈ‘ علاقہ ہے۔ سیاست پر پابندیوں کی وجہ سے این جی اوز نے سیاسی جماعتوں کی جگہ لے لی۔ این جی اوز کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کو غیر سیاسی کریں۔ اس وقت تک سیاسی طور پر ناپختگی اور لاتعلقی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو تاریخ، جغرافیہ اور ماضی سے متعلق کچھ بھی نہیں پڑھایا گیا، نہ اس پر کوئی کام ہوا اور نہ کوئی توجہ دی گئی۔ یہ علاقہ پاکستانی فیڈریشن سے بھی باہر رہا ہے، جس وجہ سے اس کی زبانوں پر بھی کوئی کام نہیں ہو سکا۔

اپنی تاریخ، جغرافیہ اور سیاسی ماضی سے آگاہی بہت ضروری ہے۔ مستقبل کو تعمیر کرنے کیلئے ماضی کو پڑھنا، سمجھنا اور وضاحت کرنا ضروری ہے۔ بہت زیادہ اور بکھری ہوئی آرا اور نکتہ ہائے نظر ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقفیت کا فقدان ہے۔ بہتر مستقبل کو تعمیر کرنے کیلئے اپنے ماضی اور تنازعہ کو سمجھنا اور پڑھنا بہت ضروری ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔