خبریں/تبصرے

ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کھادوں اور دوائیوں کے نام پر زرعی زمین زہر آلود بنا دی: پاکستان کسان رابطہ کمیٹی

لاہور (آن لائن رپورٹ) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے زرعی اصلاحات کے نفاذ اور چھوٹے کسانوں اور زرعی مزدوروں کی فلاح کے لئے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ روایتی زرعی نظام کے متبادل ”قدرتی پائیدار زرعی نظام“کو کسانوں میں تیزی سے متعارف کرایا جائے گا۔

گذشتہ روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والے دو روزہ اجلاس میں مختلف کسان تنظیموں اور تحریکوں کے 60 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی جس میں مندرجہ بالا فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کا اہتمام پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے کیا تھا۔ اجلاس کی صدارت نازلی جاوید، طارق محمود اور میاں اشرف نے کی۔

اجلاس میں کسانوں، مزارعین، چھوٹے کاشتکاروں اور خوراک سے متعلقہ کام کرنے والی 21 تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کچھ تنظیمیں بوجوہ شریک نہ ہو سکیں مگر انہوں نے اجلاس کے فیصلوں کی تائید کرنے کا اعلان کیاہے۔

اجلاس میں شریک ہونے والی تنظیموں میں انجمن مزارعین پنجاب (لاہور، اوکاڑہ)، پاکستان اخوت کسان (اٹک)، انجمن کاشتکاران (خیبر پختونخوا)، کسان کرکیلا (مردان)، کھوج (لاہور)، تعمیرِنو ویمن ورکرز آرگنائزیشن (لاہور)، آگریرین کولیکٹو (لاہور)، دستک (چکوال)، پیداوار (لاہور)، ملی زمین زادہ (ساہیوال)، الفلاح ویلفیئر آرگنائزیشن (باجوڑ، فاٹا)، سانجھ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، ایثار (رحیم یار خان)، خوشحالی (شیخوپورہ)، حقوقِ خلق موومنٹ (لاہور) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (لاہور)، کرافٹر فاؤنڈیشن (لاہور)، سویرا فاؤنڈیشن (چشتیاں)، اتحاد (نارنگ منڈی)، خدمت کسان (چنیوٹ)اور بعض دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔ پاکستان فشر فوک فورم، ہاری پوریت تنظیم (مورو، سندھ) اور کسان اکٹھ (راجن پور) اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے مگر اس کے فیصلوں سے اتفاق کا اعلان کیا۔

اجلاس میں گرین انقلاب کے نام پر کھادوں اور زہریلی دوائیوں کے ذریعے کھیتی باڑی اور زمین کو تباہ کرنے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ قدرتی پائیدار نظامِ کاشتکاری اپنایا جائے گا، کیڑے مکوڑوں کو مارنے کے نام پرزہر آلوددوائیوں اور کھادوں کو مکمل طور پر رد کیا جائے گا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے استحصال کو بے نقاب کیا جائے گااور قدرت کے متعارف طریقہ کاشتکاری کو فروغ دیا جائے گا۔

میاں آصف شریف اور ناصرہ حبیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”کارپوریٹ مفادات نے نظامِ کاشتکاری اور کسانوں کو زہر آلود دوائیوں اور کھادوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اورزمینوں کو زہر آلود کر دیا گیاہے جس کی وجہ سے زمینیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اس کے متبادل قدرتی پائیدار نظام ِکاشتکاری کو متعارف کرا رہی ہے جس سے کسانوں کی فصلوں کے اگانے اور بونے پر اخراجات انتہائی کم اور آمدن بہتر ہو رہی ہے۔“

فاروق طارق، عمار علی جان اورہاشم بن راشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”زرعی اصلاحات کے نفاذکی جدوجہد، چھوٹے کسانوں، مزارعوں، ہاریوں اور کھیت و دیہاتی مزدوروں کی فلاح کے کام کو تیز کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر کسانوں کی بے دخلی اور زمینوں پر قبضے کے خلاف جدوجہد تیز کی جائے گی۔

اجلاس میں اوکاڑہ ملٹری فارمز اور دیگر پبلک زرعی فارموں کو مزارعین کی ملکیت میں دینے، گرفتاررہنما مہر عبدالستار اور دیگر کی فوری رہائی اور مزارعین کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے 20 ستمبر کو کلائمیٹ ہڑتال میں بھی بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا۔ محسن ابدالی نے خطاب کرتے ہوئے ممبر تنظیموں کو ہر شہر میں موسمی تغیرات کے مسئلے پر ہونے والے مظاہروں مین شرکت کی اپیل کی۔

اس موقع پر منتخب کی جانے والی کوآرڈینیشن کمیٹی کے 27ارکان کے نام یہ ہیں۔

1 -میاں محمد اشرف، انجمن مزارعین پنجاب (لاہور)
2 -ڈیوڈ زاہد، انجمن مزارعین پنجاب (اوکاڑہ)
3 -سمیرا اسلم، پاکستان اخوت کسان (اٹک)
4 -سید نعمت شاہ، انجمن کاشتکاران (خیبر پختونخوا)
5 -گلزار احمد خان، کسان کرکیلا (مردان)
6 -ناصرہ حبیب، کھوج (لاہور)
7 -رفعت مقصود، تعمیر نو ویمن ورکرز آرگنائزیشن (لاہور)
8 -محسن ابدالی، آگریرین کولیکٹو (لاہور)
9 -احمد فراز، دستک (چکوال)
 10-میاں آصف شریف، پیداور (لاہور)
11 -محمد مذمل، ملی زمین زادہ (ساہیوال)
12 -ارشد ہوتی، الفلاح ویلفیئر آرگنائزیشن (باجوڑ، فاٹا)
13 -مشہود اختر، سانجھ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)
14 -قاسم گل، ایثار (رحیم یار خان)
15-عبدالرزاق، خوشحالی (شیخوپورہ)
16 -حیدر بٹ، حقوق خلق موومنٹ (لاہور)
17 -فاروق طارق، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (لاہور)
18 -صائمہ ضیا، کرافٹر فاؤنڈیشن (لاہور)
19-طارق محمود، سویرا فاؤنڈیشن (چشتیاں)
20 -صلاح الدین، اتحاد (نارنگ منڈی)
21 -عقیل شاہ، خدمت کسان (چنیوٹ)
22-سید صدیق اللہ (بلوچستان)
23 -سعید بلوچ، پاکستان فشر فوک فورم (کراچی)
24 -یونس راہو، ہاری پوریت تنظیم (مورو، سندھ)
25 -رؤف لنڈ، کسان اکٹھ (راجن پور)
26 -ہاشم بن راشد(پاکستان کسان رابطہ کمیٹی)
27 -ڈاکٹر عمار علی جان (حقوق خلق موومنٹ)

اس موقع پر فاروق طارق کو پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا اگلے اجلاس تک کوآرڈینیشن سیکرٹری چنا گیا۔ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 6 اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہو گا جس میں تنظیم کے آئندہ لائحہ عمل کو ترتیب دیا جائے گا۔