خبریں/تبصرے

چلی: نئے ترقی پسند آئین کو ریفرنڈم میں شکست

لاہور (جدوجہد رپورٹ) چلی میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں نئے ترقی پسند آئین کو شکست ہوئی ہے۔ صدر گیبریل بورک نے دلیل دی تھی کہ اس آئین کی منظوری سے ایک نئے ترقی پسند دور کا آغاز ہو گا۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق نئے آئین میں موجودہ چارٹر کے مقابلے میں سماجی حقوق، ماحولیات اور صنفی مساوات پر توجہ دی جانی تھی، جسے فوجی آمر آگسٹو پنوشے کے دور میں اپنایا گیا تھا۔ یہ قانون سازوں اور مظاہرین کے مابین 2019ء میں عدم مساوات کے خلاف پرتشدد ریلیوں کو ختم کرنے کے معاہدے کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔ مذکورہ مظاہروں میں درجنوں لوگ مارے گئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے ریفرنڈم میں 99 فیصد لوگوں نے حصہ لیا، 61.9 فیصد لوگوں نے اس نئے آئین کو مسترد کیا، جبکہ 38.1 فیصد نئے متن کے حق میں تھے۔

ملک بھر میں 3 ہزار سے زائد ووٹنگ مراکز میں سے کچھ پر لمبی قطاروں کی اطلاعات ہیں، جن میں تقریباً 15 ملین چلی کے باشندے ریفرنڈم میں حصہ لینے کے اہل تھے، ووٹ ڈالنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

اپریل میں ہونے والے پولز میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ زیادہ ووٹروں نے نئے آئین کو مسترد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

منظوری کیمپ نے شکست تسلیم کر لی اور اسکے ترجمان نے کہا کہ ”ہم اس نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں اور چلی کے لوگوں نے جو اظہار کیا اس کو ہم عاجزی سے قبول کرتے ہیں۔“

گیبریل بورک، جنوں نے نئی دستاویز کیلئے سخت لابنگ کی تھی، کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ لوگ اس آئینی تجویز سے مطمئن نہیں تھے، جو کنونشن نے چلی کو پیش کیا۔

مجوزہ چارٹر دنیا کا پہلا تھا، جسے مرد اور خواتین مندوبین کے درمیان یکساں طور پر تقسیم کرنے والے کنونشن کے ذریعے لکھا گیا تھا۔ تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ بہت طویل تھا، اس میں وضاحت کی کمی تھی اور ا سکے کچھ اقدامات میں بہت آگے نکل گیا تھا، جس میں چلی کو بطور کثیر القومی ریاست قرار دینا، خود مختار مقامی علاقوں کے قیام اور ماحولیات کو ترجیح دینے جیسے امور شامل تھے۔

بورک نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو پیر کو ایک میٹنگ کیلئے بلایا ہے تاکہ آگے کا راستہ طے کیا جا سکے اور کابینہ میں تبدیلیوں کا وعدہ کیا جا سکے۔ انکا کہنا تھا کہ ”ہمیں عوام کی آواز سننی ہو گی۔ نہ صرف آج بلکہ گزشتہ شدید سالوں سے ہم گزرے ہیں، وہ غصہ پوشیدہ ہے اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔“

انکا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو ریفرنڈم مسترد ہونے سے سبق کے ساتھ ایک اور مسودہ تیار کرنے کیلئے کانگریس اور معاشرے کے مختلف شعبوں کے ساتھ کام کرینگے۔

مرکز کی بائیں اور دائیں بازو کی جماعتیں، جنہوں نے مسترد مہم کو فروغ دیا تھا، انہوں نے بھی ایک نیا متن تیار کرنے کیلئے بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔