خبریں/تبصرے

ماحولیاتی انصاف مارچ: قرضے ختم کرنے، جانی و مالی نقصان کا مداوا کرنے کا مطالبہ

لاہور (پ ر) حقوق خلق پارٹی کے زیر اہتمام ماحولیاتی انصاف مارچ جمعہ 30 ستمبر کو پنجاب اسمبلی چیئرنگ کراس لاہور کے مقام پر منعقد کیا گیا۔ شرکا مارچ نے طالبہ کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے ذمہ تمام قرضہ جات کی وصولی فوری معطل کریں اور گرین فنڈز سے سیلاب سے متاثرین کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کا فوری مداوا کریں۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے حقوق خلق پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عمار علی جان نے کہا کہ ہم مغرب کی پھیلائی ماحولیاتی گندگی کا شکار ہوئے ہیں۔ امریکہ، یورپین یونین اور دیگر صنعتی ممالک گلوبل وارمنگ کرنے کے مجرم ہیں۔ ان کا کیا دھرا ہم بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے ذمہ تمام غیر ملکی سابقہ قرضہ جات کی وصولی معطل کی جائے اور اس سے ملنے والی رقم براہ راست متاثرین پر خرچ کی جائے۔ پاکستانی حکومت اپنے تمام تر وسائل سرمایہ دار طبقات کو مراعات دینے کی بجائے سیلاب متاثرین کے لئے بروئے کار لائے۔

عمار جان نے کہا پاکستانی حکومت روڈا جیسے ماحول دشمن منصوبے فوری ختم کرے۔ راوی کنارے آباد کسانوں اور زمینداروں کی فصلیں اجاڑنا بند کرے اور ان کے خلاف انتقامی اقدامات ختم کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حقوقِ خلق پارٹی کی رہنما ڈاکٹر نوشین نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ لاہور کے علاقوں میں زہریلے پانی سے بچوں کی شدید بیماریاں لاحق ہیں۔ انہوں نے چونگی امر سدھو کا پانی بھی دکھایا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت پنجاب کے تمام ایم پی ایز کو چیلنج کیا کہ وہ یہ پانی پی کر دکھائیں۔

عمار جان نے کہا کہ آج تقریباً 70 فیصد پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ لوگوں کے گھروں کی چھتیں لیک ہو گئیں اور حکمران آڈیو لیک سے باہر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوقِ خلق پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکمران اقتدار کی جنگ کو روکتے ہوئے سیلاب زدگان کو از سر نو آباد کریں۔

مرکزی صدر حقوق خلق پارٹی فاروق طارق نے کہا کہ ہم پاکستان میں ماحولیاتی انصاف تحریک تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ آج محنت کش عوام کا ایک اہم مطالبہ ہے کہ حکومت تمام ایسے منصوبے ترک کرے جو ماحول کو گندا کر رہے ہیں۔ پانی کے قدرتی بہاؤ کا راستہ روکنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف اقدامت کرے۔ فاروق طارق نے کہا اس آفت کا سب سے زیادہ نقصان پاکستانی کسانوں کا ہوا ہے۔ جن کی فصلیں، باغات اور فش فارمز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر کم از کم پانچ لاکھ روپے معاوضہ کے طور پر ادا کئے جائیں اور ریاست ان کے گھروں کی تعمیر میں نقصان کے مطابق سبسڈی دے۔

فاروق طارق نے مزید کہا کہ پاکستانی تاریخ میں سب سے تباہی مچانے والے اس سیلاب کی اصل مجرم مغربی دنیا کی حکومتیں ہیں۔ پاکستان مغرب کی ماحول تباہ کرنے والی صنعتی ترقی کا شکار ہوا ہے۔ پیرس معاہدہ کے مطابق ماحولیاتی گندگی پھیلانے والے ممالک ان ممالک کی مدد کریں گے، جو موسمی تغیرات کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ فاروق طارق نے کہا کہ مغربی ممالک فوری طور پر گرین فنڈز میں اپنا حصہ ادا کریں اور اس سے پاکستان کو پہنچنے والے مالی وجانی نقصان کا فوری مداوا کریں۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راوی کنارے آباد کسانوں کے نمائندہ مصطفی رشید نے کہا کہ روڈا پراجیکٹ فوری بند کیا جائے۔ کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو کرینیں چلا کر تباہ کرنا بند کرو۔

مظاہرین سے خطاب کرنے والوں میں حقوقِ خلق پارٹی پنجاب کے صدر بابا لطیف انصاری، جنرل سیکرٹری مزمل کاکڑ، حیدر بٹ، زاہد علی، ڈاکٹر عالیہ حیدر، عزرا، احسن بھٹی، مرتضی باجوہ، جبکہ پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کے صدر قیصر جاوید، علی عبداللہ اور حماد خان شامل تھے۔

مظاہرین نے حکومتی بے حسی کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ پاکستان میں لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں، لوگ زہر پینے پر مجبور ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔

مقررین نے کہا کہ ماحولیاتی تباہی کی ذمہ دار مقامی اشرافیہ بھی ہے تاہم پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ انتہائی کم ہے مگر پاکستان موسمی تغیرات سے ہونے والی تباہیوں کا مرکز بن گیا ہے، اس ایشو پر عوامی شعور کی بیداری کے لئے حقوق خلق پارٹی ملک بھر میں ماحولیاتی تحریک تعمیر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔