پاکستان

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کی وجہ: قوم یوتھ کا وینا ملک ڈس آرڈر

فاروق سلہریا، حارث قدیر

پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے لئے ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد، ملک گیر سطح پر بھی عمران خان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں کامیابی بلاشبہ موجودہ حکومت پر شدید قسم کا عدم اعتماد ہے۔ عمران خان لیکن انتخابات کے علاوہ کامیاب جلسے کرنے اور اپنا بیانیہ، کتنا ہی جھوٹا ہی کیوں نہ ہو، مقبول بنانے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ محض یہ نہیں ہے کہ حکومت اتنی غیر مقبول ہے کہ لوگ صرف احتجاجی طور پر عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ قوم یوتھ بھی ہے۔

قوم یوتھ سے مراد محض پی ٹی آئی کے ماننے والے نہیں۔ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو مراعات یافتہ مگر عوام دشمن ہیں۔ یہ عمومی طور پر آپ کو ٹیلی ویڑن کی اسکرین، ٹوئٹر، ائر کنڈیشنڈ گھر یا دفتر، کسی مہنگے کیفے یا ریستوران میں ہی نہیں ملیں گے، ان کی ایک بڑی تعداد مغربی ممالک میں بطور تارکین وطن بھی موجود ہے۔

ان میں خواتین بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ یہ ارب پتی بھی ہو سکتے ہیں، کروڑ پتی بھی۔ ممکن ہے انہوں نے کوئی وردی زیب تن کر رکھی ہو، اکثر اوقات یہ سول لباس میں ہوں گے لیکن مہنگے ترین ڈریس کے باوجود عیوب برہنگی چھپائے نہ چھپ رہے ہوں گے۔ جب ان لوگوں نے طالبان کی ’فتح مکہ‘ پر شادیانے بجائے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سٹاک ہولم سنڈروم کا شکار ہیں ورنہ ستر ہزار پاکستانیوں کے قاتل کس طرح ہیرو قرار دئے جا سکتے ہیں۔

یہ تشخیص انتہائی غلط ہے۔

دیکھئے! سٹاک ہولم سنڈروم سے مراد ہے پیراڈوکس (Paradox) یعنی اجتماع ِضدین)۔ سٹاک ہولم سنڈروم کا ایک مطلب یہ ہے کہ مغوی کو اپنے اغوا کار کی انسانیت پر اعتبار ہے اور مغوی فرد کی بجائے نظام کی بات کرنا چاہتے ہیں جس نے کسی کو اغوا جیسے جرم پر مجبور کیا۔

سٹاک ہولم سنڈروم ستر کی دہائی میں ایک ایسے سویڈن میں سامنے آیا تھا جو سوشلسٹ خیالات سے متاثر تھا (اب والا تو سویڈن بھی بہت نیو لبرل ہو چکا ہے)۔ انسان دوستی اس سویڈش معاشرے کی ایک بڑی قدر تھی۔ جرائم کا حل سخت سزاوں کی بجائے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ا ن ناہمواریوں اور ’Abnormalities‘ کو ختم کیا جانا چاہئے جو جرائم کو جنم دیتی ہیں۔

معاف کیجئے! قوم یوتھ سٹاک ہولم سنڈروم کا شکار نہیں۔ یہ قوم انسان دوستی، سوشلزم اور جمہوریت سے کوسوں نہیں، کئی شمسی سال دور ہے۔ یہ لوگ سٹاک ہولم سنڈروم نہیں، وینا ملک سنڈروم کا شکار ہیں۔ اس سنڈروم یا ڈِس آرڈر کا شکار افراد کی پہلی علامت (Symptom) ہے موقع پرستی۔ موقع پرستی کا مطلب ہے کہ آپ نہ طالبان کے ساتھ ہیں نہ افغان عوام کے ساتھ۔ آپ در اصل طاقتور کے ساتھ ہیں۔

بہ الفاظ دیگر آپ صرف اپنے مفادات کو اہم سمجھتے ہیں۔ جب آپ کو نظر آئے گا کہ طالبان کی بجائے امریکہ کا ساتھ دینا زیادہ سود مند ہے تو طالبان ایک دم دہشت گرد نظر آنے لگیں گے۔

وینا ملک سنڈروم کا مطلب ہے: اگر آپ کو بھارتی میگزین پیسے دے کر، آئی ایس آئی کے ٹیٹو بنوا کر، برہنہ تصاویر چھاپ دے،آپ کو کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ آپ کو پیسے اور شہرت، دونوں مل جائیں۔ جوں ہی آپ کو محسوس ہو کہ اب واپس کراچی جانا پڑے گا اور آپ کراچی ائر پورٹ پر اترتے ہی سبز ہلالی پرچم تھام کر مزار قائد پر پہنچ جائیں جہاں پریس کانفرنس میں کشمیر اندر ہونے والے ’ہندو مظالم‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے آپ کو یاد آئے کہ پاکستان کا بہترین ادارہ پاک فوج ہے تو اسے سٹاک ہولم سنڈروم نہیں، وینا ملک ڈس آرڈر قرار دیا جا ئے گا۔

اس ڈس آرڈر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ مظلوم کے خلاف ظالم کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ گاہے بگاہے آپ ظلم کے خلاف بھی بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو فلسطین میں ہونے والا ظلم صاف دکھائی دے گا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی نا انصافیاں بغیر دور بین کے نظر آنے لگیں گی۔

مصیبت اس سنڈروم کی یہ ہے کہ اپنے پچھواڑے میں ہونے والے ماس ریپ اور قتل عام نظر نہیں آتے کیونکہ وینا ملک سنڈروم کا شکار لوگ اس ظالم کے خلاف ہوتے ہیں جس سے انہیں نقصان پہنچنے کا ڈر نہ ہو۔ ایک پرانا صحافتی لطیفہ یاد آ رہا ہے:

امریکی صحافی: ہمارے ملک میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، ہم جتنا چاہے امریکی صدر پر تنقید کر سکتے ہیں۔
سعودی صحافی: ہمارے ملک میں بھی اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے، ہم بھی جتنا چاہے امریکی صدر پر تنقید کر سکتے ہیں۔

جس طرح وینا ملک سنڈروم کی عادی قوم یوتھ صرف اس ظلم وظالم کے خلاف ہو گی جس کے نتیجے میں اسے کوئی نقصان نہ پہنچے، اسی طرح یہ صرف اس مظلوم کا ساتھ دیں گے جس کے ساتھ یکجہتی کے لئے کوئی مصیبت نہ اٹھانا پڑے۔ یقین کیجئے فلسطین سے محبت کرنے والی اس قوم یوتھ کے افراد کو اگر فلسطین میں رہنا پڑے تو ان سے بڑا صیہونی کوئی ثابت نہ ہو گا۔

نتیجہ اس سنڈروم کا یہ نکلتا ہے کہ اہل یوتھ نرگسیت زدہ ہمدردی کا شکار نظر آئیں گے۔ انہیں امہ پر ہونے والے مظالم نظر آئیں گے مگر امہ کی جانب سے اپنے ہی بھائی بندوں پر مظالم نظر نہیں آئیں گے۔ انہیں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں سے بہت ہمدردی ہو گی مگر خود کش حملوں پر بات نہیں کریں گے۔ انہیں پاکستانی طالبان اچھے نہیں لگیں گے، افغان طالبان ان کے ہیرو ہوں گے۔ ان کو فلسطینی نظر آئیں گے، سلطان اردگان کی وحشیانہ بمباری میں ہلاک ہونے والے کرد نہیں۔ ان کو وادی کے کشمیری نظر آئیں گے مگر بلوچ نہیں۔ انہیں یورپ میں اسلاموفوبیا دکھائی دے گا مگر سنکیانگ کے مسلمانوں بارے ان کے وزیر اعظم کے پاس بھی معلومات دستیاب نہیں ہوں گے (حالانکہ اس سے زیادہ با علم وزیر اعظم انسانی تاریخ میں نہیں آیا)۔

بہ الفاظ دیگر ان کا موقف یونیورسل نہیں ہو گا۔ جو موقف یونیورسل نہیں ہوتا، وہ صرف موقع پرستی ہوتا ہے۔

موقع پرستی کو صرف منافقت نہ سمجھا جائے۔ موقع پرستی منافقت سے آگے کی چیز ہے۔ منافقت تو ایک غریب اور مجبور انسان اپنی بچت اور جان بچانے کے لئے بھی کر سکتا ہے۔ موقع پرستی کا مطلب ہے موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی مراعات اور طاقت میں اضافہ کرنا۔ موقع پرستی کا مطلب ہے اپنی اخلاقی و انسانی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ جانا۔ موقع پرستی کا مطلب ہے کہ موقع پرست شرم،غیرت، سچائی یا دیگر ایسی انسانی اقدار پر کوئی یقین نہیں رکھتا۔

منافق کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ اس کا بھانڈا پھوٹ نہ جائے۔ موقع پرست کو بھانڈا پھوٹنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ وینا ملک کے آئی ایس آئی ٹیٹو والے شوٹ بھی گوگل کرتے ہی پہلے کلک پر مل جاتے ہیں اور وینا ملک کے پاک فوج سے محبت کے ٹویٹ بھی ان کے ٹوئٹر ہینڈل پر موجود ہیں۔ گویا کسی بھانڈے کے پھوٹنے کی کوئی فکر نہیں۔ اس لئے اسے منافقت نہیں، موقع پرستی ہی کہا جا رہاہے۔

اس وینا ملک سنڈروم کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کا شکار افراد براہِ راست ظلم نہیں کرتے۔ یہ صرف ظالم کا ساتھ دیتے ہیں، صرف ہلہ شیری تک بہادری دکھاتے ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر بہادری کے جوہر دکھاتے ہیں۔ یہ لوگ ظالم کوبہ وقت ضرورت چندہ دیتے ہیں تا کہ بعد ازاں منافع کمایا جا سکے۔ ظلم میں براۂ راست حصہ نہ لینے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کسی قسم کی انسانیت پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ بھی نہیں ہوتی کہ یہ انتہا کے بزدل ہوتے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ اس گروہ کی بہترین تجسیم فرانسیسی ادیب موپساں نے اپنے افسانے ’Boule de Suif‘ میں کی ہے۔

اس بیماری کی ایک حالیہ مثال جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال ہیں۔ ساری زندگی وکالت کرنے اور ہائی کورٹ کا جج (جو بے نظیر بھٹو نے مقرر کیا) رہنے کے بعد انہیں لگ رہا تھا کہافغان طالبان بہت کیوٹ (Cute) ہیں۔ محترمہ نے کھل کر کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کی حمایت کی۔ محترمہ اگر بے حجاب کابل میں گھوم رہی ہوتیں تو علامہ اقبال کی بہو ہونے کے باوجود سر عام درے کھانے پڑتے۔ اس سنڈروم کی ایک اور اہم کیس سٹڈی ثمینہ پیرزادہ ہیں۔

دی کیس آف ثمینہ پیرزادہ

قوم یوتھ کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ انہیں دوسروں کی کرپشن نظر آتی ہے۔ انہیں ملک میں پھیلی کرپشن کی فکر کھائے جاتی ہے۔ اپنے ایک لیڈر کے علاوہ باقی سب چور نظر آتے ہیں۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ انسان سارے خود نیک اورپرہیزگار ہو جائیں تو دنیا سے ہر طرح کے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ خود بے شک ٹریفک سگنل توڑ کر بھاگنے میں ایک لمحہ دیر نہیں کرینگے، لیکن اگر کوئی دوسرا نظر آجائے تو فوراً یہ اعلان فرمائیں گے کہ قانون کی عملداری ہو تو ملک کے اکثریتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

ثمینہ پیرزادہ کے ٹویٹس پر نظر دہرائیں تو پتہ چلے گا کہ ان کے خیال میں آج کل ملک کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف فوری الیکشن کے انعقاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہیں طاقتور حلقوں کی طاقت کی وجوہات جاننے میں بھی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔

انہیں انتخابات میں دھاندلی سے چھٹکارے کا واحد نسخہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی صورت ہی نظر آتا ہے۔ البتہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے فوری بعد انہیں خیال آیا کہ ’جمہور کے ووٹ کا احترام کرنا ہی جمہوریت ہے۔‘ ہاں البتہ یہ خیال انہیں 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی قیادت کو باندھ کر،آرٹی ایس سسٹم کو ڈاؤن کر کے اور جہانگیر ترین کے جہازوں میں ممبران قومی اسمبلی کو لاد کر تحریک انصاف میں شامل کر کے حکومت سازی کی راہ ہموار کرتے وقت یہ والی جمہوریت کی تعریف انہیں شاید کہیں بھول گئی تھی۔

ایسے ہی بلوچستان میں باپ پارٹی کی حکومت کے قیام سے لیکر سینیٹ کے انتخابات تک ان کی ڈکشنری میں جمہوریت کی تعریف اس سے تھوڑی مختلف ہوا کرتی تھی۔

انہیں اب یہ بھی لگتا ہے کہ ’آزادی رائے، حقوق انسانی اور حق رائے دہی جمہوریت کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔‘ تاہم گزشتہ 4 سالوں کے دوران گرفتار و لاپتہ ہونے والے سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے علاوہ آزادی رائے پر عائد ہونے والی پابندیوں کے وقت بھی جمہوریت کی یہ تعریف ان تک نہیں پہنچ پائی تھی۔

فرسودہ نظام بھی تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور اکیلے شخص کی خداداد صلاحیتوں کی تعریفیں کرتے کرتے اس ایک شخص کی قابلیت پر کچھ شکوک و شبہات بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ اس لئے پوری قوم سے اپیل بھی کر رہی ہیں کہ یہ کام ایک اکیلی جان کے بس کا نہیں ہے،ا سے پوری قوم کو مل کر ہی سرانجام دینا ہو گا۔

آج کل تو ان کے خیالات میں انقلابی ٹچ بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ”ہمیں ضرورت ہے ایک ایسے انقلاب کی، جہاں سب کام پر جائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ جہاں سب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہنر مند ہوں اور انہیں اپنے ہنر پر فخر ہو۔ ہمارے کاشتکار اور ہمارے فیکٹری ورکر ہماری معیشت کے بازو ہوں، کام کام اور صرف کام ہی صحیح معنوں میں انقلاب ہے۔“

قوم یوتھ کی سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ انہیں جب اپنے قائد کی جانب سے جو اشارہ ملے اس پر لبیک کہتے ہوئے وکالت میں جی جان کی بازی لگا لیتے ہیں۔ چاہے ایسا کرنے میں اپنے ہی ماضی کو نظر انداز کیوں نہ کر دیا جائے۔ ثمینہ پیرزادہ فیملی کا کیس بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

2012ء میں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے 6.7 ملین ڈالر کی رقم میں غبن کرنے کے چرچے ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہو چکے ہیں۔ تاہم وہ ابھی تک اپنے لیڈر کی طرح دیانتدار، امانتدار ہیں، جبکہ ان سے اتفاق نہ کرنے والا پورا معاشرہ چور اور پٹواری ہے۔

پیرزادہ خاندان کے اس مالیاتی غبن کے چرچے ملکی اور عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔ رائٹرز، بی بی سی، فارن پالیسی اور ٹربیون سمیت دیگر نے جون 2012ء میں اس مالیاتی غبن کے سامنے آنے کے بعد یو ایس ایڈ کی جانب سے فنڈنگ بند کئے جانے کی خبریں شہ سرخیوں کے طورپر شائع کیں۔

یہ فنڈنگ پیر زادہ خاندان کے کاروباری گروپ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کیساتھ ’سی سیم سٹریٹ‘ کا مقامی ورڑن تیار کرنے کے ایک معاہدہ کے تحت دی جا رہی تھی۔ اس معاہدہ کے تحت اس شو کی تیاری کیلئے 20 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی۔ ’سم سم ہمارا‘ کے نام سے پاکستان میں اس شو کا پریمیئر بھی ہوا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا ہے کہ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کی جانب سے 6.7 ملین ڈالر کی رقم بدعنوانی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لئے باقی رقم دینے سے انکار کر دیا گیا۔

1974ء میں قائم ہونے والی رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ ڈرامائی فنون کی ترقی کیلئے کام کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔ اس ورکشاپ کے مالکان میں ثمینہ پیرزادہ کے شوہر عثمان پیرزادہ، فیضان پیرزادہ، سعدان پیرزادہ، عمران پیرزادہ، تسنیم پیرزادہ اور سلمان پیرزادہ شامل ہیں۔ رفیع پیر گروپ کے زیر سایہ دیگر کاروبار بھی منظم کئے جا رہے ہیں (مالکان کی تفصیل سے اندازہ ہوا ہو گا کہ قوم یوتھ وراثتی سیاست کے کیوں خلاف ہے)۔

تاہم ثمینہ پیرزادہ بھی وینا ملک کی طرح گھر میں ہونے والی جعل سازیوں، مالیاتی غبن اور کرپشن پر عیاشیاں جاری رکھتے ہوئے ملک میں ہونے والی کرپشن کے غم میں مبتلا ہو کر پورے ملک کو چور قرار دے رہی ہیں۔ البتہ ان کے قائد عمران خان تمام تر برائیوں اور قباحتوں سے پاک ایک ہستی ہیں، جن کے آمرانہ اقتدار کی صورت انہیں ملکی مسائل کا خاتمہ نظر آ رہا ہے۔

قوم یوتھ وینا ملک سنڈروم کا ہی شکار نہیں۔ یہ ایک اور سماجی و سیاسی رجحان کا اظہار بھی ہے۔ اس رجحان کو ہم ’ظالموں کی مظلومیت‘ (Victimhood of the oppressors) کہہ سکتے ہیں۔

قوم یوتھ ظالموں کی مظلومیت کا اظہار ہے

آپ قوم یوتھ کے ایسے کئی افراد کو جانتے ہوں گے جنہیں نواز شریف اور آصف زرداری (یا کچھ دنوں سے بعض نامعلوم افراد) کی بدعنوانی تو نظر آتی ہے مگر ذاتی چوریاں ڈاکے نظر نہیں آتے۔ قوم یوتھ کے ان امیر، بعض اوقات مڈل کلاس افراد کو اپنے گھر میں چائلڈ لیبر نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ اس قانون سے بھی نابلد ہیں کہ ان کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں ان کے ملازمین کے لئے پچیس ہزار کم از کم تنخواہ کا قانون موجود ہے۔

یہ مظہر صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی یہی کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ اسرائیل بھی یہ رونا روتا ہے کہ اہل فلسطین اس کے ساتھ بہت زیادتی کر تے چلے آ رہے ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ بھی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ہندتوا کا خیال ہے کہ تاریخ میں ہندووں کے ساتھ جو انیائے ہوئے اب اس کے ازالے کا وقت آ چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان دنوں ہر ہندوستانی مسجد کے نیچے ایک مندر نکل رہا ہے۔

فی الحال بات قوم یوتھ تک محدود رکھتے ہیں۔

قوم یوتھ کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ سب سے بڑا ظلم تو جمہوریت ہے۔ بھلا یہ کیسا نظام ہے جس میں ان کے ان پڑھ خانساماں، ’جاہل‘ ڈرائیور، پسینے میں شرابور مالی یا فیکٹری میں ملازم مزدور کا بھی ایک ووٹ ہے اور ان کا اپنا بھی صرف ایک ووٹ ہے حالانکہ وہ نہ صرف ہینڈ سم ہیں، آکسبرج نہیں تو کم از کم لمز یا آئی بی اے کے گریجویٹ ہیں، بہت ساروں نے ایم بی بی ایس انجینئرنگ اور آئی ٹی کی ڈگری لے رکھی ہے۔ ان کا خیال ہے اس طرح کی جمہوریت ’میرٹ‘ کی خلاف ورزی ہے جس میں صاحب کا بھی ایک ووٹ، گاؤں کے جاہل کسان کا بھی اتنا ہی ایک ووٹ۔

ظالموں کی مظلومیت کو اسلامک ٹچ تو عمران خان خود دے لیتے ہیں لیکن اکیڈیمک ٹچ دینے کے لئے تارکین وطن سے تعلق رکھنے والے اکیڈیمکس بھی موجود ہیں۔ انہوں نے پالیٹکس آف پیٹرنیج (Politics of Patronage) کی تھیوری کو ایمان کا درجہ دے رکھا ہے۔ لمبے چوڑے اعداد و شمار پیش کرنے کے بعد ایسے اکیڈیمکس نتیجہ یہ اخذ کیا کہ غریب ووٹر بریانی کی پلیٹ پر ووٹ بیچ دیتے ہیں۔ کہنا وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھنڈھورا پیٹنا بے کار ہے۔ جب انہیں یاد دلایا جائے کہ 1977ء، 1970ء، کسی حد تک 1988ء کے انتخابات کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا کہ جب بڑے بڑے برج الٹ گئے تھے اور پاکستان کے لالچی غریب ووٹروں نے بریانی کی پلیٹ پر بکنے سے انکار کر دیا، تو مکالمہ تھوڑا تلخ ہو جاتا ہے۔

قوم یوتھ اور اس کے حاضر سروس و ریٹائرڈ فوجی حامیوں، اس کی صفوں میں موجود ڈاکٹروں، انجینئروں، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو لگتا ہے کہ جس طرح وہ میرٹ پر فوج میں بھرتی ہوئے تھے (اس میرٹ کے تحت بنگالیوں کو فوج میں نہیں آنے دیا جاتا تھا)، جس طرح انہوں نے میرٹ پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یا لمز اور یو ای ٹی میں داخلہ لیا، اسی طرح ہر کام میرٹ پر ہونا چاہئے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ لانس نائک کی اولاد جنرل صاحب کی اولاد کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟ شاہ محمود قریشی کے بچوں کا مقابلہ اس کے غریب مریدوں کے بچے کس منطق اور دلیل کے ساتھ کر سکتے ہیں؟ کیسا میرٹ، کہاں کا میرٹ جب معاشرے میں اس قدر عدم مساوات ہے؟ اس کے جواب میں وہ آپ کو جنرل کیانی کی مثال دیں گے جو ایک حوالدار کی اولاد تھے لیکن چیف آف آرمی سٹاف بن گئے۔ زیادہ ’لبرل‘ اور ’صاحب علم یوتھئے‘ ڈاکٹر سلام کا ذکر بھی کریں گے جو جھنگ کے اردو میڈیم سکول سے نکل کر نوبل انعام لینے سٹاک ہولم پہنچ گئے تھے۔

ان ’مظلوم‘ ظالموں کا خیال ہے کہ اجتماعی مسائل کے حل انفرادی سطح پر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ انسان محنت کرے، اس کا ارادہ پکا ہو اور خان کی طرح ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم بنانے کی دھن سر پر سوار ہو۔ معلوم نہیں کہ پاکستان کا کسان پانچ ہزار سال سے محنت کر رہا ہے مگر ڈی ایچ اے یا بحریہ میں گھر بنانا تو دور کی بات، ایک کمرہ کرائے پر بھی نہیں لے سکتا۔ یہی حال مزدور کا ہے جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت کرتا ہے مگر دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پاتا۔ اس طرح کے اعتراضات کو یہ ’مظلوم‘ ظالم سوشلزم سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سویت روس کی جنرل حمید گل کے ہاتھوں شکست کے بعد سوشلزم والی باتیں کرنا بالکل وقت کا ضیاع ہے۔

ظالموں کی اس مظلومیت کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان ظالموں کو پیپلز پارٹی، نواز لیگ، ایم کیو ایم (جب وہ ساتھ چھوڑ جائیں) کی چوریاں ڈاکے تو نظر آتے ہیں، اپنی چوریاں اور اپنے ڈاکے انہیں ان کا پیدائشی حق، عین شرعی اور حلال محسوس ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی جائداد کے پیچھے کوئی جرم نہیں چھپا مگر سپریم کورٹ کے ایک جج کی نواز شریف بارے یہ بات بالکل درست ہے کہ:

’Behind every big fortune, there is a big crime.‘ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں یورپ اور امریکہ میں اسلاموفوبیا دکھائی دیتا ہے مگر روس اور چیچنیا میں نہیں۔ انہیں فلسطین تو نظر آتا ہے، بلوچستان نہیں۔ انہیں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے لداخ کی علیحدگی پر تو برا لگتا ہے لیکن پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گلگت بلتستان کی علیحدگی بارے علم تک نہیں ہوتا۔ ایک اور فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں سوشلزم تو ناکام نظر آتا ہے مگر پاکستان میں سرمایہ داری کامیاب نظر آتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قوم یوتھ اس قدر وفادار ہے تو اس سال کے شروع میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے وقت تک تحریک انصاف کی حکومت اتنی غیر مقبول کیوں تھی؟

عمر قید کی سزا پانے والے کو اپنے سیل سے محبت ہو جاتی ہے: قیدی کو جیل میں اپنی بیرک یا سیل سے زیادہ بُری چیز کوئی نہیں لگتی۔ وہ جلد از جلد جیل سے رہا ہو نا چاہتا ہے۔ عمر قید کے قیدی کا کیس البتہ ذرا مختلف ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں جیل کی بیرک کے سوا کچھ نہیں بچا ہوتا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب جیل حکام ایسے قیدیوں کی بیرک بدلنے کی کوشش کرتے ہین تو یہ قیدی مزاحمت کرتے ہیں، زور و شور سے روتے ہیں۔ یہی حال قوم یوتھ کا ہے۔ وہ جوش و خروش سے ضمنی الیکشن میں عمران خان کو ووٹ دے رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ عمران خان ان سے چھینا جا رہا ہے۔ عمران کان تو خاندانی سیاست بھی نہیں کرتا۔ اوپر سے ستر سال کا ہو گیا ہے۔ مسیحا کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، بڑھاپے اور موت کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔ مصیبت یہ کہ قوم یوتھ کے مسیحا نے اپنے بچوں کو ریاست مدینہ سے دور ہی رکھا ہے۔ اس لئے اب نہیں تو کبھی نہیں۔ ناو اور نیور۔ ادہر، لانگ مارچ میں پولیس کا ڈر۔ ٹویٹر بھی اب محفوظ نہیں رہا۔ اس لئے ضمنی الیکشن میں سارا غصہ نکالا جا رہا ہے۔ نظریاتی، سیاسی، تنظیمی،ثقافتی، دانشوارانہ طور پر تہی دامن قوم اپنی بیرک چھوڑنے ہر تیار نہیں۔

کوئی حل ممکن ہے؟

یاد رہے ماہرین نفسیات نے ابھی تک سٹاک ہولم سنڈروم کو ایک بیماری نہیں مانا۔ اس لئے اس کا کوئی علاج بھی تجویز نہیں کیا گیا۔ وینا ملک ڈس آرڈر البتہ ایک خطرناک بیماری ہے۔
ہاں مگر یہ کوئی نفسیاتی بیماری نہیں ہے۔ یہ سماجی و سیاسی و نظریاتی بیماری ہے۔ اس کی تشخیص ماہرین نفسیات نہیں، ترقی پسند سیاسی کارکن کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے اس کا علاج بھی ممکن ہے۔ اس بیماری کا علاج ہے سوشلزم۔

اس علاج کے نتیجے میں ان مراعات کا خاتمہ کرنا درکارہوتا ہے جن کے نتیجے میں قوم یوتھ وجود میں آتی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔