خبریں/تبصرے

لاہور، اسلام آباد، کراچی سمیت مختلف شہروں میں طلبہ یکجہتی مارچ

لاہور (پ ر) پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو (پی ایس سی) کے زیر اہتمام گزشتہ روز 25 نومبر کوگورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے پنجاب اسمبلی تک طلبہ یکجہتی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔

پی ایس سی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مارچ میں لاہور کی مختلف یونیورسٹیوں کے متعدد طلبا و طالبات، اساتذہ، اور سیاسی و سماجی تحریکوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔ طلبہ یونین کی بحالی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کی فیس معافی، کیمپس پر ہراسگی کمیٹیوں کے قیام، طلبہ اسیران کی بازیابی اور کیمپس پر صاف پانی اور دیگر سہولیات مارچ کے بنیادی مطالبات تھے۔ 

یاد رہے طلبہ یکجہتی مارچ ہر سال ملک بھر میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ مارچ اسلام آباد، کراچی، ملتان، حیدر آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور جامشورو میں منعقد کیا گیا۔ جس میں مقامی شہروں کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ 

انقلابی نعروں اور ترانوں میں شروع ہونے والا یہ مارچ 4 بجے پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچا جہاں پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی ذیلی تنظیم آرٹسٹ اسمبلی نے پرفارمنس پیش کی۔ جس پر شائقین نے بھرپور داد دی۔ 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے مرکزی صدر قیصر جاوید کا کہنا تھا کہ طلبہ کو فیسوں میں اضافے، جبری گمشدگیوں اور ہراسگی سمیت کئی مسائل کا سامنا تو تھا ہی مگر سیلاب نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ فیس دینا تو دور کی بات ہے، کھانا کھانے سے بھی قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں تعلیمی ڈھانچہ بالکل تباہ ہو چکا ہے مگر ہمیں حکومتی و ریاستی سطح پر ان مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے جاتے نظر نہیں آ رہے۔ اور ہمیں اندازہ ہے کہ ہمیں یہ حقوق کسی صورت خود بخود نہیں ملیں گے بلکہ طلبہ متحد ہو کر جدوجہد سے ہی یہ حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کا ضروری پلیٹ فارم طلبہ یونین ہے۔ جس پر ریاست نے 30 سال سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور طلبہ یونین پر عائد پابندی ختم کی جائے۔

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی مرکزی رہنما ایمن فاطمہ نے کہا کہ اس وقت پاکستان ہر لحاظ سے بحران کا شکار ہے۔ ہم ہر فیلڈ میں پیچھے ہیں۔ جس کی وجہ صرف ایک چھوٹے سے طبقے کا ہی یونیورسٹی تعلیم تک پہنچ پانا ممکن ہے۔ کیونکہ تعلیم بہت مہنگی ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ تعلیم مکمل مفت کی جائے تا کہ ہر شخص کو طبقے سے قطع نظر آگے بڑھنے کے برابر مواقع میسر آ سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعات میں ہراسگی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ لیکن اکثر جامعات میں ہراسگی کمیٹیاں ایکٹیو نہیں اور جہاں ہیں وہاں بھی انصاف کی فراہمی کی ریشو بہت کم ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر کیمپس پر ہراسگی کمیٹیاں بنائی جائیں اور ان میں طالبات کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔

پشتون کونسل پنجاب یونیورسٹی کے چیرمین ریاض خان کا کہنا تھا کہ مسلسل پشتون طلبہ کی سکالرشپس کم کی جا رہی ہیں۔ ہمارے علاقوں میں نہ صرف تعلیمی انفراسٹرکچر نہیں بن سکا بلکہ ہم پر مسلط کی جانے والی جنگ میں ہمارا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف پشتون طلبہ کی سکالرشپس بڑھائی جائیں بلکہ ہمارے علاقوں میں تعلیمی انفراسٹرکچر کا قیام تیز کیا جائے۔

آخر میں پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے مرکزی رہنما حماد ملک نے پشتون علاقوں میں طالبان کی جانب سے ترقی پسند نوجوانوں کے قتل پر بات کی اور ریاست کو اس سلسلے میں منفی کردار سے باز رہنے کی تنبیہ کی۔ اور مارچ میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔