خبریں/تبصرے


وزیرستان: امن کیلئے آواز اٹھانے والے 4 نوجوانوں کے قتل کیخلاف احتجاج

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں بھی شمالی وزیرستان میں قیام امن اور خوشحالی کیلئے جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کو اس بہیمانہ طریقے سے قتل کئے جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ریاست شہریوں اور نوجوانوں کو تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ امن کے قیام اور دہشت گردی سمیت استحصال اور مسائل کے خاتمے کیلئے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے۔ علی وزیر جیسی انقلابی آوازوں کو جیلوں میں بند رکھا گیا ہے اور دہشت گردوں کیساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ان نوجوانوں کے قتل کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں اور ریاست پر عائد ہوتی ہے۔‘

آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی کیلئے امریکہ سے مدد طلب

مخلوط حکومت کو امید تھی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری کیلئے عمل شروع کرنے کے بعد آئی ایم ایف عملے کی سطح پر معاہدہ کرنے پر رضا مند ہو سکتا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نہ صرف تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں کٹوتی کا خواہاں ہے، بلکہ تنخواہ دار لوگوں پر 125 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکومت نے اب ایک نئی تجویزپر کام کیا ہے جس میں 47 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کو تبدیل کرنا اور پھر تنخواہ دار طبقے پر 18 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا شامل ہے۔

سندھ میں 64 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر پر مجبور

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے چند سال قبل بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کا ایکٹ بھی منظور کیا تھا، 16 سال سے کم عمر کے بچے کو سکول نہ بھیجنا قانوناً جرم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم عملدرآمد کسی بھی سطح پر نہیں کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ: جب وہ سٹیج پر آتے تو لگتا متحدہ ہندوستان مخاطب ہے

’ٹربیون‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کئی اردورسائل نے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی زندگی اور ادب میں ان کی خدمات کو سراہنے کیلئے کئی شمارے شائع کئے۔ دور درشن اور بی بی سی سمیت بہت سے معروف میڈیا اداروں نے ان کے کام اور خدمات پر نایاب ریکارڈنگز اور دستاویزی فلمیں تیار کیں۔

19 جون کو ایک مارکسسٹ فرانس کا وزیر اعظم بن سکتا ہے

فورتھ انٹرنیشنل کے ترجمان اخبار ’انٹرنیشنل ویو پوائنٹ‘کے مطابق ’غالب طبقاتی دشمن کا کمزور ہونا محنت کشوں کے اپنے مفادات کے دفاع اور ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر کیلئے جدوجہد میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ میکرون کو اپنی (نیو لبرل) اصلاحات پارلیمنٹ کے ذریعے کروانا ہونگی اور اس کیلئے ورکنگ اکثریت ضروری ہے۔ یہ دوسرے راؤنڈ میں بائیں بازو کے ووٹ ڈالنے کیلئے لوگوں کیلئے ایک عملی تحریک ہے۔ یہاں تک کہ اگر ممکنہ طور پر نوپس میکرون کو پارلیمنٹ میں روکنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو تقریباً 100 اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل ریڈیکل بائیں بازو کی قوت سماجی تحرک میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔‘

لاپتہ بلوچوں بارے شیریں مزاری کی پشیمانی پر اختر مینگل کا تبصرہ

’میڈم دیکھئے یہ کون بات کر رہا ہے۔ آپ تین سال تک انسانی حقوق کی وزیر رہی ہیں۔ آپ نے کیا کیا، سوائے یہ کہنے کے لاپتہ افراد سے متعلق بل لاپتہ ہو گیا ہے۔ برائے مہربانی ہمارے درمیان ہونے والی لا تعداد مرتبہ گفتگو کو مت بھولئے۔ میں نے اور محسن داوڑ نے بارہا لاپتہ افراد بل منظور کرنے کیلئے کہا لیکن آپ نے اس کی مخالفت کی۔‘

راولاکوٹ: صحافیوں کیخلاف دی گئی درخواست واپس لے لی گئی

نامزد افراد میں جدوجہد کے ادارتی بورڈ کے رکن حارث قدیر اور مقامی صحافی آصف اشرف کے علاوہ دیگر 15 سیاسی کارکنان کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ترجمان کی طرف سے محض حارث قدیر کو مرکزی ملزم قرار دیکر انہیں بھارتی خفیہ اداروں کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حارث قدیر انہیں قتل کروانے کی سازش کر رہے ہیں۔