تاریخ


بابائے سوشلزم کا طویل سفر

شیخ محمد رشیداپنی پوری زندگی نہ صرف کسانوں اور مزدوروں کے لئے سرگرم رہے بلکہ اصلاح پسند سوشلسٹ پالیسیوں پر قائم بھی رہے۔ ان کا خیال تھا کہ معاشرتی اداروں کی ترقی سوشلزم کی منزل کی طرف لے جائے گی بشرطیکہ اس کے لئے کام کیا گیا ہو لہذا انہوں نے انقلاب کی بجائے اصلاحات کے ذریعہ سوشلسٹ جمہوریت کے لئے تگ و دو کی۔ اسی لئے وہ مختلف کسان تنظیموں، سیاسی جماعتوں، اور حکومتوں کا حصہ رہے۔

کافرِ عشقم

1947ءکے ان ہولناک دنوں میں، انُ ہندوﺅں اور مسلمانوں میں، جنہوں نے اپنی جان کی بازیاں لگا کر دوسرے مذہب کے لوگوں کی جانیں بچائیں، کئی ایسے ضرور ہونگے جن کی سانسوں میں اقبال کی شاعری رچی بسی تھی۔

بے اعتنا مصلح

دولتانہ اور دوسرے زمیندار، ممدوٹ اور نون، صرف اپنی ذاتی اہمیت اور اقتدار کے لئے ایک دوسرے کے حریف تھے اور ان کے مابین کسی بھی طرح کا پالیسی اختلاف نہیں تھا۔

بھگت سنگھ: جس کے افکار آج بھی حکمرانوں کے لئے ڈراونا خواب ہیں!

آج ہندوستان اور پاکستان کو ایک خونی سامراجی لکیر ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ لیکن دونوں طرف محنت کشوں اور نوجوانوں کے مسائل مشترک ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اُن مسائل کا حل بھی مشترک ہے۔ یہ حل یقینا بھگت سنگھ کے سوشلسٹ انقلاب کے خواب پر ہی مبنی ہو سکتا ہے جس سے آج بھی دنیا بھر کے حکمران خوفزدہ ہیں۔

پوٹھوہار کی دو ہی تاریخی شخصیات: دادا امیر حیدر اور لال خان

ہم نے نومبر 1980ء میں ’جدوجہد‘ رسالہ کی اشاعت کا آغاز کیا ایمسٹرڈیم سے پھر ملک اخلاق برادران کے شائع کردہ رسالے ’حقیقت‘ کے ’جدوجہد‘ میں ادغام کے بعد یہ بلجیم کے شہر ہاسلٹ میں ہاتھ سے لکھا جاتا، وہیں کے ایک پرنٹنگ پریس سے شائع ہوتا اور پھر ایمسٹرڈیم گروپ کے ذریعے پورے یورپ میں بھیجا جاتا ان کو جو ہمارے ساتھی اور ہمدرد تھے۔ تنویر اور میں اس کے ہر شمارہ میں لکھتے۔ ’جدوجہد‘کے سر ورق ملک شمشاد بناتے جو بعد میں پوسٹرز کی صورت اختیار کر جاتے۔