فن و ثقافت

سیکولرزم کیفی اعظمی کا نظریہ حیات تھا: جاوید اختر

قیصرعباس

کیفی اعظمی برصغیر کے وہ لازوال شاعر ہیں جنہوں نے ترقی پسندی کو نہ صرف ایک نظریہ سمجھا بلکہ اسے عملی طورپر اپنی پوری زندگی کا حصہ بھی بنایا۔ ایک زمیندار گھرانے سے ہونے کے باوجود انہوں نے کان پورمیں ایک مزدور کی حیثیت سے کام کیا، ترقی پسند تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا اور سماجی کاموں کے ذریعے پسماندہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی۔

گذشتہ ہفتے بھارت کے مشہورفلمی نغمہ نگار، دانشور اورشاعر جاوید اختر نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب میں کیفی اعظمی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ”سیکولرزم کیفی اعظمی کی زندگی کا بنیادی نظریہ اور عورتوں کے حقوق کی جدو جہدا ن کا ایمان تھا۔“

وہ علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی، کے زیرِاہتمام کیفی اعظمی (1919-2002ء)کے سوسالہ یوم ِپیدائش کے جشن کے سلسلے میں ہونے والے عالمی مشاعرے میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے جسے ایک مکالمے کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اس مشاعرے کا اہتمام تنظیم کے روح رواں اے عبداللہ او ر صدر رضی الدین نے کیاتھا۔ تقریب کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طارق منصور نے کی۔

جاوید اخترنے مزید کہاکہ کچھ لوگوں کے قول اورفعل میں تضاد ہوسکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے مختلف معیارِ زندگی کے باوجود لوگوں کے دکھ درد میں کس حدتک شامل ہیں۔ اس پیمانے پر پر کھیں تو کیفی کی زندگی اور نظریات میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”فائدہ یانقصان شاعری میں نہیں ہوتا۔ وہ لوگ جو نفع یا نقصان کی فکر کرتے ہیں کوئی اور کام کرتے ہیں۔ برصغیرمیں سردار جعفری، فیص احمد فیض، کرشن چندر، جاں نثار اختراور دو سرے لکھنے والوں نے نفع نقصان کی پرواہ کئے بغیر ادب کو سامراج کی مخالفت کی آواز بنایا اور لوگوں کو آزادی کی تحریک میں شامل کیا۔“

جاوید اخترکے مطابق ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری اور کیفی اعظمی نے نغموں کے ذریعے فلموں کو سماجی انصاف اور معاشرتی مسائل کا شعوردیا جس نے اس نئے میڈیم کو عوام سے قریب تر کرنے میں اہم کردار اداکیا۔

کیفی کی شاعری میں دکھ اور ما یوسی کی وجوہات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ”کیفی کو مایوسی اپنے نظام کی ناکامی سے تھی لوگوں سے نہیں۔ آزادی کے بعد انہوں نے ایک ایسے نظام کا خواب دیکھا تھا جو لوگوں کی زندگی بدل سکتا تھا مگر ایسا نہیں ہوا اور یہی دکھ ان کی شاعری میں بھی نظر آتاہے۔“

کیفی اعظمی کا اصل نام سید اطہر حسین رضوی تھا۔ انہوں نے 1943ء میں کیمونسٹ پارٹی انڈیا میں شمولیت حاصل کی اور علی سردار جعفری کے ساتھ ”قومی جنگ“ اخبار میں کام بھی کیا۔ ترقی پسند تحریک میں وہ اپنے تمام ہم عصروں کے ہم رکاب تھے۔

وہ عورتوں کے حقوق کے لیے صرف نظریاتی نہیں عملی طورپر بھی حامی تھے۔ انہوں نے اپنے آبائی علاقے ضلع اعظم گڑھ میں بچیوں کے لئے اسکول کی بنیاد رکھی اور لوگوں کی سہولت کے لیے سڑکیں اور پل تعمیر کیے۔ ان کی اہلیہ شوکت کیفی ایک سماجی کارکن اور تھیٹر کی اداکارہ کی حیثیت سے ساری زندگی ان کے شانہ بشانہ کام کرتی رہیں۔ ان کی بیٹی شبانہ اعظمی بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ہیں جو خود بھی ایک سماجی کارکن ہیں اور ایک غیر منافع بخش تنظیم کے ذریعے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھارہی ہیں۔ اس تنظیم نے ہیلتھ سینٹر، کیفی اسکول، بنک، دستکاری اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے آبائی علاقے کی کایا پلٹ دی ہے۔ یہاں خواتین کا اپنا بنک اکاؤنٹ ہوتاہے جس سے انہیں اقتصادی آزادی اور سماجی برابری حاصل ہوتی ہے۔

کیفی کی مشہور نظم ”عورت “ زندگی میں خواتین کی برابری اور صنفی حقوق کے شعور کا ایک لازوال ادبی شہ پارہ ہے جس میں انہوں نے کہاتھا:

اپنی تاریخ کا عنوان بدلناہے تجھے
چل مری جان ساتھ ہی چلناہے تجھے

کیفی اعظمی نے 6 دسمبر  1992ء کے دن بابری مسجد کو ایک ہجوم کے ہا تھوں مسمار ہوتے بھی دیکھا تھا جس پر انہوں نے ایک نظم ”دوسرا بن باس“ تخلیق کی۔ حال ہی میں ایودھیا کے عدالتی فیصلے کے تناظر میں ان کی یہ نظم آج ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کو نئے معانی دیتی نظر آتی ہے:

رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے
یاد جنگل بہت آیا جو نگرمیں آئے
رقصِ دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگا
چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگا
اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے
جگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاں
پیار کی کا ہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاں
موڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئے
دھرم کیا ان کاتھا، کیاذات تھی، یہ جانتا کون
گھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کون
گھر جلانے کو مر ا لوگ جو گھر میں آئے
شاکاہاری تھے میرے دوست تمہارے خنجر
تم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھر
ہے مرے سر کی خطا، زخم جو سر میں آئے
پاؤں سرجو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھے
کہ نظر آئے وہاں خون کے گہرے دھبے
پاؤں دھوئے بنا سرجو کے کنارے سے اٹھے
راجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھے
چھ دسمبر کو ملا دوسرا ون باس مجھے!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔